سندھ کا قومی نصاب برائے اطفال – ابتدائی سالوں کی تعلیم


ہمارے نظام تعلیم میں یوں تو بہت سی خامیاں ہیں اور ہم برملا اس کا اظہار بھی کرتے ہیں لیکن اس نظام کو بحال رکھنے میں ہمارا اپنا بھی بہت اہم کردار رہا ہے اور ہم اب بھی اس نظام کا مسلسل حصہ بنے ہوئے ہیں۔

تعلیم کا آغاز جس عمر کیا جاتا ہے وہیں ہماری مضبوط، مکمل اور جا مع نظام ہونا چاہیے یعنی چھوٹے بچوں کی تعلیم پر دنیا بھر کے جدید معاشروں میں بہتر سے بہترین سہولیات مہیا کیں جاتی ہیں اس سلسلے ہماری حکومت نے بہت اہم کام کیا ہے اور جس میں بہت کار آمد اور دوررس نتائج کا حامل اضافہ ہمارے اپنے صوبے سندھ کی حکومت 2007 میں کیا اور اب تک اس پر عمل درآمد کے لیے مختلف ضروری اقدامات کر رہی ہے جس کے اثرات معاشرے میں نظر آنا شروع ہو گئے ہیں میں ایک ماہر تعلیم کی حیثیت سے اپنے طویل تدریسی تجربے سے کہہ سکتی ہوں کہ قومی نصاب برائے اطفال 2007 (8 سال کی عمر تک ) کے بچوں کے لئے انتہائی مفید ہے اور دنیا بھر کے جدید اور مکمل نصابوں میں اس کا شمار کیا جانا باعث فخر بھی ہے۔

آئیے اس کا ایک طائرانہ جائزہ لیتے ہیں جب ہم اس کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں ہر سطح پر یہ ایک مستند اور جدید تعلیم ہر پہلو پر پورا اترتا دکھائی دیتا ہے بچوں کی تمام مہارتوں پر کام اس انداز پر کیا گیا ہے روایتی طریقہ تدریس کی بجائے ہر مہارت ابھارنے اور بڑھانے کے لئے مختلف دلچسپ اور عمر کے مطابق سرگرمیاں تجویز کی گئی ہیں اور ان کا طریقہ تدریس بالکل جدید اور الگ تجویز کیا گیا ہے اور نہ صرف تجویز کیا گیا ہے بلکہ اساتذہ کی خاص تربیت کے ذریعے اس عمل کو آگے بڑھانے کے لئے اساتذہ کی تربیت کا آغاز بھی کیا گیا ہے۔

قدرت کی مہیا کردہ مہارتوں کو غیر محسوس طریقے سے بتدریج آگے بڑھانا اور معاشرے کا کارآمد شہری بنانا ہمارا اولین مقصد ہونا چاہیے اس سلسلے میں سماجی اور جذباتی مہارتیں بڑھانا بہت ضروری ہیں کیونکہ یہ مہارت بچوں کو دوسروں کے ساتھ جڑنے کے لئے ضروری ہیں بچے چونکہ پیدائش سے ہی یہ ہنر اپنے ساتھ لے کر آتے ہیں قدرت نے انہیں خاص مہارت دے کر اس دنیا میں بھیجا ہوتا ہے اب ہمارا کام ہوتا ہے کہ ہم اس پر کام شروع کریں کیونکہ اسی سے وہ بچوں کے جذبات کو منظم کرنے، صحت مند تعلقات استوار کرنے اور دوسروں کے لئے ہمدردی کے جذبات کو بروقت استعمال کرنا سکھاتے ہیں اگر مہارت ہم اپنے بچوں میں سرگرم کر دیں تو ہمارے بچے اپنے گھر، دوستوں، اور احباب کے ساتھ مثبت انداز میں اظہار خیال کرنا سیکھتے ہین اور پھر بتدریج اس کے عادی ہوتے چلے جاتے ہیں اور معاشرے میں مفید اور کارآمد شہری کا اضافہ ہوتا ہے۔

اپنے خیالات اور احساسات کو منظم کر کے ان کنٹرول کرنا سیکھتے ہیں اور سب سے اپنے تعلق بہتر بنانا جاننے لگتے ہیں اور پھر یہی بچے بڑے ہو کر تنازعات کو حل کرنا اور معاشرتی اور سماجی دباؤ کا مقابلہ کرنے کے اہل ہو جاتے ہیں

ایسی ہی ایک اور اہم مہارت ذہنی اور علمی مہارت کہلاتی ہے اس کا مطلب ہے کہ بچہ کیسے سوچتے ہیں، چیزیں کیسے دیکھتے ہیں، دریافت کیسے کرتے ہیں یہ وہ ذہنی اور علمی مہارت و صلاحیت ہے جس سے کہ نشوونما کا عمل تیز اور مضبوط سمت میں اگے بڑھتا ہے اور چونکہ دماغ کی نشوونما کا عمل بر وقت ہونا اور مناسب رفتار سے ہونا ضروری ہے اس مہارت کے فروغ کے ذریعے ہی ہم اپنے بچوں میں پوشیدہ مختلف شعبوں کے ماہر تیار کر سکتے ہیں کسی بچے میں شعبہ طب، انجینئرنگ، آرٹ، معاشیات، سماجیات، فنون لطیفہ اور تعمیری شعبے سے متعلقہ ماہرین سامنے لائے جا سکتے ہیں اس سلسلے میں ہر بچے میں چھپی مہارت کو جانچنے اور پھر اسی میدان میں غیر محسوس طریقے سے مختلف سرگرمیوں کے ذریعے ان کو پروان چڑھانا اور بچے کو خود پر اعتماد رکھتے ہوئے اس بات کا احساس دلانا کہ وہ ایک خاص اور معاشرے کا متحرک، اہم اور ضروری فرد، حصہ ہے اور اس کا کردار ادا کرنا اہم بھی ہے اور ضروری بھی کروایا جاتا ہے اس سلسلے میں تربیت یافتہ اساتذہ کا کردار بہت ضروری بھی ہے تب ہی ہم اپنے بچوں اور مستقبل کے معماروں میں ان کی قدرت کی طرف سے عطا کردہ صلاحیتیں آگے بڑھا سکتے ہیں۔

اب جس مہارت کی بات میں کرنے جا رہی ہوں وہ ہے روحانی مہارت یہ بھی جدید تحقیق کے مطابق یہ کسی بھی انسان کی تمام صلاحیتوں اور مہارتوں کو بروئے کا ر لانے اور مثبت سمت میں آگے بڑھانے کے لئے انتہائی ضروری تصور کی جاتی ہے اور اب جبکہ بہت سے مسائل کھل کر سامنے آرہے ہیں تو یہ بات شدت سے محسوس بھی کی جا رہی ہے کہ قدرت کی طرف سے عطا کردہ اس مہارت و عطیہ کو بروقت استعمال کیا جانا ضروری ہے اور دنیا میں اسے جدید خطوط استوار کیا جا رہا ہے اور الحمدللہ ہمارے قومی نصاب برائے اطفال میں یہ ایک باقاعدہ مہارت کے موجود ہے بس اس ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اس قومی نصاب کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی پالیسیز کو تیار کریں اور ان تمام مہارتوں کا جن کا میں تفصیلی ذکر کیا ان پر مثبت انداز سے مثبت لوگوں کے ساتھ اگے بڑھائیں تب ہی ہم اپنی آئندہ آنے والی نسلوں میں ہر لحاظ سے ایک بہتر اور کامیاب انسان اور شہری دیکھ سکتے ہیں۔

Facebook Comments HS