ویرناتھ: سندھ کا منفرد تاریخی مقام


ویرناتھ کا تاریخی مقام سندھ کے دادو ضلع کے خیرپور ناتھن شاہ تجصیل میں شہر خیرپور ناتھن شاہ سے تقریباً 5 کلومیٹر جنوب میں واقع ہے۔ اس مقام کے قریب اب ایک ویرل نامی گاؤں بھی ہے جو ویرناتھ کے نام کا ہی بگاڑ لگتا ہے۔ ویرناتھ کے آخر میں لفظ ”ناتھ“ کے توسط سے وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ ویرنانڈو کا تعلق گرو گورکھ ناتھ کے سلسلے سے تھا۔ ممکن ہے کہ ویرناتھ کے یوگ کی جگہ یا چلہ گاہ گے نزدیک ہونے کی وجہ سے قصبہ یا گاؤں ویرناتھ مشہور ہوا۔ ویر یوگی ناتھ یوگی کے پیروکار آ کر آباد ہوئے ہوں گے۔ ویرناتھ کے یوگ یا چلہ کشی والے مقام کو بعد میں ویرناتھ اور پھر ویرل کہا گیا۔ اب اس گاؤں میں آرائیں قبیلے کے لوگ رہتے ہیں۔

اس سلسلے میں پروفیسر محمد ابراہیم جتوئی کا بیان کچھ رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ پروفیسر جتوئی گورنمنٹ ڈگری کالج خیرپور ناتھن شاہ کے میگزین کے 2003 ء کے شمارے میں لکھتے ہیں کہ، ”یہاں بزرگ ویرناتھ کا مقبرہ ہے۔ برطانوی دور حکومت میں یہ مقبرہ ہندو برادری کے قبضے میں تھا اور اس کی دیکھ بھال ہندو برادری کرتی تھی۔ یہ معلوم نہیں ہے کہ ویرناتھ کب پیدا ہوئے اور کب مرے۔ مگر ان کا پورا نام شری ویر یوگی ناتھ تھا۔ ہندوؤں نے یہاں مندر بنایا تھا۔ برصغیر کی تقسیم سے پہلے مندر کی دیکھ بھال کے لئے گنگا ناتھ، جمنا ناتھ اور بیجا ناتھ نامی ہندو مقرر کیے گئے تھے۔ بیجا ناتھ ان کا سربراہ تھا۔“

پروفیسر جتوئی نے ناتھ سلسلے کے ہندو مندر کی تعمیر کی بات تو کی ہے، لیکن مندر اور بزرگ ویرناتھ کے مقبرے کے درمیان تعلق کی وضاحت نہیں کی اور نہ ہی مندر کے آثار قدیمہ کا ذکر کیا۔ اس نے مندر کی جگہ کی نشاندہی بھی نہیں کی۔ بڑی بات یہ ہے کہ مندر ناتھ سلسلے والے یوگیوں کے ہوتے ہی نہیں۔ پروفیسر جتوئی نے جس مندر کا ذکر کیا ہے وہ شاید سمادھی کے اوپر مندر نما تعمیر ہے جسے سندھی زبان میں مڑھی کہتے ہیں۔ میری رائے کہ مطابق ویرناتھ یوگی گرو گورکناتھ کا پیروکار تھا اور خود اس سلسلے کا مہا یا بڑا یوگی تھا۔

یہ بھی ممکن ہے کہ یوگ یا چلہ کشی میں بیٹھے ہوئے مر گیا اور جہاں مر گیا وہاں دفن کیا گیا اور اس کی سمادھی پر مڑھی (مقبرہ نما) بنائی گئی جسے پروفیسر جتوئی نے مقبرہ سمجھا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ویرناتھ کی سمادھی پر مڑھی ویرناتھ یا ویر یوگی ناتھ کے پیروکاروں نے ان کی موت کے بعد تعمیر کی تھی۔ جو بعد میں مقامی طور ویرناتھ کے مندر یا مزار کے نام سے مشہور ہوا اور اب اسے ویرل شاہ کا مزار کہنا شروع کیا گیا ہے۔

پروفیسر جتوئی نے گنگا ناتھ، جمناناتھ اور بیجاناتھ ناموں کا ذکر کیا ہے جو اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ خیرپور ناتھن شاہ کا علاقہ ویرناتھ جیسے ناتھ سلسلے کے یوگیوں کا گڑھ تھا یا گرو گورک ناتھ سلسلے سے تعلق رکھنے والوں کا علاقہ تھا۔ ناتھن شاہ خود بھی اس سلسلے سے جڑے دکھائی دیتے ہیں۔

کیونکہ میرے علم کے مطابق ناتھ سلسلے کے کھنڈرات یا باقیات سندھ میں صحرائے تھر کے بعد صرف خیرپور ناتھن شاہ شہر میں پائے جاتے ہیں۔ یہ تاریخی طور پر جانا جاتا ہے کہ گرو گورکناتھ جن جگہوں پر یوگ میں بیٹھے تھے، ان مقامات پر یوگیوں یا ناتھ سلسلے کے پیروکاروں کی طرف سے مڑھیاں (مندر نما) تعمیر کی گئی تھیں، جو آج بھی دنیا میں موجود ہیں۔ تاریخی طور پر دنیا میں کہیں بھی ناتھ سلسلے کے یوگیوں کا مندر نہیں ہے اور نہ ہی ان کا مقبرہ ہے۔

ہاں البتہ ان کی سمادھیاں بھی ہیں اور ان کی مڑھیاں بھی ہیں۔

یہ بحث ہو چکی ہے کہ ناتھ سلسلے کے یوگیوں کے مدفن کو سمادھی اور اس کے اوپر مندر نما تعمیر کو مڑھی کہا جاتا ہے۔ یہ خیال کیا جا سکتا ہے کہ شری ویر یوگی ناتھ عرف عام ویرناتھ خود ناتھ سلسلے کے مہا یوگی تھے، یوگی جو یوگ کرتے تھے وہ جگہ گاؤں یا شہر سے دور ہوتی تھی۔ ویر یوگی ناتھ نے بھی ایسا ہی کیا ہو گا۔ ویسے بھی یوگی جنگل، جھیل کے کنارے، کسی پانی کے کنارے، چشموں، پہاڑی چٹانوں یا صحراؤں میں یوگ میں بیٹھتے تھے۔ ویرناتھ یا ویر یوگی ناتھ بھی یہیں پانی کے تالاب کے قریب یوگ میں بیٹھا ہو گا اور فوت ہوا ہو گا۔

ناتھ سلسلے کے یوگی اکثر سفر میں بھی رہتے تھے۔ ان کا سفر ہنگلاچ کی طرف ہوتا تھا جو اب بلوچستان پاکستان میں ہے۔ قدیم زمانے میں یوگی ہنگلاج جاتے پہاڑوں میں یوگ میں بیٹھے تھے۔ وہ مشرق سے نیپال یا ہندستان سے مغرب میں ہنگلاچ جاتے تھے۔ سندھ میں سے ان کے تین راستے تھے۔ ایک راستہ سندھ کے موجودہ دادو ضلع کی تصیل جوہی کے شہر ٹنڈو رحیم خان، ، لوہی، دریجی، لاہوت لامکان سے ہنگلاچ تک جاتا تھا۔ دوسرا سیہون سے نئیگ، نغاول، دریجی، لاہوت، لامکان سے ہنگلاج، اور تیسرا گنجہ پہاڑی علاقے اور کانبھو، کالا پہاڑ، حب، وندر اور سونمیانی کا راستہ ہنگلاچ تک تھا۔

بہرحال، ویرناتھ بھی مہا یوگی تھا۔ اس کا یہ مقبرہ نہیں مڑھی ہے۔ کیوں کہ بہت کم ہندو مردے کو دفن کرتے ہیں، ہندو مذہب والے اکثریت کے ساتھ مردہ کو دفن نہیں کرتے ہیں اور کوئی مقبرہ نہیں بناتے۔ وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ ویرناتھ کے ناتھ پنتھ یا سلسلے کا تعلق شیوا سے تھا۔

تاریخ کے مطابق دنیا میں گرو گورکھ ناتھ نے جہاں چلہ کشی کی یا یوگ میں بیٹھا وہان محض مندر نما تعمیرات موجود ہیں مگر ان میں اس کی سمادھی نہیں۔ باقی اس کے کسی مہا یا بڑے پیروکار کے یوگ کے مقام پر اس کی سمادھیوں پر مڑھیاں بنائی گئیں جن میں ویرناتھ کی مڑھی بھی ایک ہے۔

ناتھ پنتھ یا سلسلہ بھارت، نیپال، سندھ، پنجاب، بلوچستان اور افغانستان میں وسیع پیمانے پر پھیلا ہوا تھا۔ سندھ کے صحرائے تھر میں اب بھی یہ سلسلہ ہے۔ ویرناتھ کے بارے میں میری رائے یہ بھی ہے کہ یہ شاہ یا سید نہ تھا پر ناتھ سلسلے کا یوگی تھا۔ یہ اس کا مزار نہیں مگر اس کی سمادھی پر مڑھی (مقبرے نما) بنائی گئی ہوگی جسے مقامی طور پر ویرناتھ مندر اور اب ویرہل شاہ مزار کے نام سے مشہور کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ کئی افسانوی روایات منسوب کی گئی ہیں۔

مثال کے طور پر کہا جاتا ہے کہ ویرناتھ کی مڑھی کے قریبی تالاب میں نہانے سے کھجلی یا خارش کی بیماری ختم ہوجاتی ہے۔ لوگ ایسا کرتے ہیں اور پہنے ہوئے کپڑے تالاب کے قریب چھوڑ جاتے ہیں۔ قدیم زمانے سے ویرناتھ کے تہوار کی رسم منانے کو اب میلے کا نام دیا گیا ہے۔ ہر سال میلہ (عرس) منعقد ہوتا ہے۔ بہرحال اس وقت ویرناتھ کا مقام سندھ کا ایک منفرد تاریخی مقام اور ثقافتی ورثہ ہے۔

Facebook Comments HS