پیکا آرڈیننس، ڈریکونین لا، آزادی صحافت پر حملہ

وفاقی حکومت نے عجلت میں وفاقی کابینہ سے سرکولیشن کے ذریعے الیکٹرانک کرائمز کی روک تھام کے قانون 2016 ء ( پیکا ) میں آرڈیننس کے تحت ترامیم لانے کی منظوری حاصل کی اور پھر اتوار کے دن پارلیمان کو بائی پاس کر کے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے آرڈیننس پر دستخط کروا کر ایک ایسا قانون نافذ کر دیا جسے حکومت کے لا افسر اٹارنی جنرل نے ”ڈریکونین لاء“ قرار دے دیا ہے۔ معلوم نہیں حکومت کو آرڈی نینس جاری کرنے کے پیچھے کیا جلدی تھی؟
وفاقی وزارت قانون و انصاف کی تیار کردہ سمری وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کی جانب سے ”خاموشی“ سے وفاقی کابینہ کے ارکان کو بھجوائی گئی میڈیا کو کانوں کان خبر نہیں ہوئی البتہ میڈیا پر آرڈیننس اس وقت بجلی بن کر گرا جب فواد چوہدری نے ٹویٹ کے ذریعے میڈیا کو آرڈیننس کے نفاذ کی ”بری خبر“ سنائی۔ حکومت نے اس قانون میں ترامیم کی منظوری کے لئے وفاقی کابینہ کے ہفتہ وار اجلاس کا بھی انتظار نہیں کیا ہنگامی بنیادوں پر اس وقت سمری کے ذریعے کسی معاملہ کی منظوری حاصل کی جاتی ہے جب کسی معاملہ کی ہنگامی بنیادوں پر منظوری ضروری ہو اور معمول کا وفاقی کابینہ کا اجلاس بلانا ممکن نہ ہو لیکن حکومت نے قانون میں ترامیم کے لئے پارلیمنٹ کو بائی پاس کر کے آرڈیننس کے اجراء کے راستہ اختیار کیا ہے۔
یہ بات قابل ذکر ہے۔ حکومت آرڈیننس جاری کرنے کے لئے بار بار پارلیمنٹ کے اجلاس کی طلبی موخر کرتی رہی حکومت کا موقف ہے کہ الیکٹرانک کرائمز کی روک تھام کے قانون میں الیکٹرانک و ڈیجٹل میڈیا کے رائے عامہ اور سماجی رویہ پر اثر انداز ہونے کے پیش نظر ترامیم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پیکا ترمیمی آرڈیننس کے نفاذ کے خلاف نہ صرف ملک بھر کی بار ایسوسی ایشنز متحد ہو گئی ہیں بلکہ پی ایف یو جے (دستور) سمیت تمام صحافتی تنظیموں کی جانب سے شدید رد عمل کا اظہار کیا گیا صدارتی آرڈیننس کو لاہور اور اسلام آباد ہائی کورٹس میں چیلنج کر دیا گیا درخواستوں میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ آرڈیننس آزادی اظہار کا قتل، بنیادی حقوق کے منافی اور جمہوریت کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہے۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ”عدالت کو کوئی ہچکچاہٹ نہیں کہ پیکا آرڈیننس ڈریکونین قانون ہے۔ اسے نیب کے قانون سے بھی بدترین بنا دیا گیا ہے۔ اس سے زیادہ بدمعاشی کیا ہو سکتی ہے کہ اس کورٹ اور سپریم کورٹ کے سامنے ایس او پیز پیش کیے گئے لیکن عملدرآمد نہ ہوا۔ یہ بات تشویش ناک ہے کہ قوانین کو آرڈی نینس کے ذریعے ڈریکونین بنا دیا گیا ہے۔ جو کچھ سوشل میڈیا پر ہو رہا ہے۔ اس کی ذمہ دار سیاسی جماعتیں ان کے کارکن ہیں۔ عدالت کے سامنے واحد سوال یہ ہے کہ سیکشن 20 کو کیوں نہ کالعدم قرار دیا جائے؟
صحافتی تنظیموں کا موقف ہے کہ پیکا ترمیمی آرڈیننس آئین کے آرٹیکل 19 سے متصادم ہے۔ آرڈیننس نافذ کر کے عدلیہ کی آزادی کو محدود نہیں کیا جاسکتا، ترمیمی آرڈیننس عدالتی نظام پر دباؤ بڑھانے کے لئے نافذ کیا گیا ہے۔ پاکستان کی عدلیہ آئین کے علاوہ کسی کو جوابدہ نہیں جبکہ آرڈیننس کے ذریعے ججوں کو کارکردگی رپورٹ نہ صرف ہائیکورٹ بلکہ سیکرٹری لا ء کو بھی پیش کرنے کا پابند بنایا گیا جب کہ ٹی وی چینلوں کی نگرانی کے لئے پیمرا ایکٹ پہلے سے موجود ہے۔
آرڈیننس کے تحت دو ریاستی اداروں کو اختیارات سے کھیلنے کی اجازت دی گئی ہے۔ سپریم کورٹ بار نے بھی ”پیکا“ ترمیمی آرڈیننس کو مسترد کرتے ہوئے اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے۔ اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے پیکا ترمیمی آرڈیننس 2022 کے جوں کی توں شکل میں نافذ ڈریکونین قانون لاء سے تعبیر کیا ہے اور اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ ”آرڈیننس کو ریگولیٹ کر کے نافذ کیا جائے گا۔
ہائیکورٹ چاہتی ہے۔ اس ترمیم کے دانت نکال دیے جائیں، پیکا آرڈیننس سنگین صورتحال کے لئے ہے۔ اطلاق پانچ ہزار میں سے ایک کیس پر ہو سکے گا۔ پیکا قانون میں حالیہ ترمیم کا اطلاق موثر با ماضی نہیں ہو سکتا ہے۔ سینئر صحافی محسن بیگ کے خلاف پاکستان الیکٹرانک کرائم ایکٹ (پیکا) ترمیمی آرڈننس 2022 کے تحت کوئی کارروائی نہیں ہوئی اور نہ ہی ہوگی۔
پیکا ایکٹ 2016 ء میں ترامیم کر کے ایف آئی اے کو کسی شکایت کی انکوائری کے بغیر گرفتاری کا اختیار دے دیا گیا ہے۔ صدارتی آرڈیننس کے تحت کسی بھی فرد کے تشخص کے خلاف حملہ کی صورت میں قید کی سزا 3 سال سے بڑھا کر 5 سال کر دی گئی ہے۔ ترمیمی آرڈیننس میں شخص کی تعریف میں کوئی بھی کمپنی، ایسوسی ایشن، ادارہ یا اتھارٹی شامل ہیں۔ ترمیمی آرڈیننس کے اجراء کے بعد یہ جرم قابل دست اندازی قرار دے دیا گیا ہے۔ کسی کی پرائیویسی اور ساکھ کو نقصان پہنچانا ناقابل ضمانت ہو گا۔
اس ترمیم کے تحت ٹرائل کورٹ کو 6 ماہ کے اندر فیصلہ کرنے کا پابند بنایا گیا ہے۔ اگر ہائی کورٹ کیس کو جلد نمٹانے میں رکاوٹیں محسوس کرے تو وہ ان رکاوٹوں کو دور کرنے کے لئے اقدامات کرے گی۔ ہر ہائی کورٹ کا چیف جسٹس ایک جج اور افسران کو ان کیسز کے لئے نامزد کرے گا۔ اس نئی ترمیم کے تحت ٹرائل کورٹ کو ماہانہ رپورٹ متعلقہ ہائی کورٹ کو بھجوانے کا پابند بنایا گیا اگر ٹرائل کورٹ بروقت کیس نمٹانے میں ناکام رہتی پے تو حکومت متعلقہ ہائی کورٹ سے کارروائی کے لئے سفارش کر سکے گی۔
پیکا آرڈیننس کے تحت ایف آئی کے اختیارات میں بھی اضافہ کر دیا گیا ہے جو تحقیق کے بغیر کسی فرد کو گرفتار کر سکے گی۔ ایف آئی اے کو بے پناہ اختیارات دینا ہی اس قانون کو ”ڈریکونین لا“ کا درجہ دینا ہے۔ یہی وجہ ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے صدارتی آرڈیننس کی دفعہ 20 کے تحت براہ راست گرفتاریوں کو روک دیا ہے۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ دنیا میں ہتک عزت کا فوجداری جرم ہی نہیں عوامی نمائندوں کے ذریعے یہ قانون ہونا ہی نہیں چاہیے زمبابوے، یو گنڈا اور کانگو ہتک عزت کو فوجداری قانون سے نکال چکے ہیں۔
عدالت نے حکم جاری کیا ہے ایف آئی اے ایس او پیز کے تحت اختیارات استعمال کرے جس شخص کے خلاف شکایت درج کی گئی ہو اس شخص کو صفائی کا موقع دیے بغیر اور انکوائری مکمل ہونے گرفتار نہیں کرے گی۔ اس طرح صدارتی آرڈیننس کے تحت پیکا کو بھی نیب آرڈیننس کا چربہ بنا دیا گیا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے پیکا ترمیمی آرڈیننس کے تحت حکومت کو گرفتاریوں سے روک دیا ہے۔ عدالت نے اٹارنی جنرل کو 10 مارچ 2022 ء کو مزید دلائل دینے کی مہلت دے دی ہے۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے اس پر بات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ معمول کے قوانین میں آرڈیننس کے ذریعے ترامیم کر کے ”ڈریکونین اور نیب قانون“ سے بھی بدتر بنا دیا گیا ہے۔ اظہار رائے پر قدغن کی وجہ سے آدھا ملک ہم سے چلا گیا عدالت کیوں نہ پیکا ایکٹ کا سیکشن 20 کالعدم قرار دے؟
عدالت نے مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کی درخواستیں خارج کردی ہیں اور کیس کی سماعت 10 مارچ تک کے لئے ملتوی کردی ہے۔ پیکا آرڈیننس پر میڈیا اور حکومت میں ڈیڈ لاک پایا جاتا ہے۔ میڈیا جوائنٹ ایکشن کمیٹی وفاقی وزارت اطلاعات و نشریات کی طلب کردہ اجلاس سے واک آؤٹ کر چکی ہے۔ حکومت نے ہوش کے ناخن نہ لئے اور ”ڈریکونین لاء“ ختم نہ کیے تو صحافتی تنظیموں اور حکومت کے درمیان تعلقات متاثر ہوں گے۔
