عمران حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کی مبینہ ناراضگی


پی ٹی آئی حکومت قیام کے تھوڑے عرصے بعد سے بعض سیاسی اور صحافتی حلقے وقتاً فوقتاً یہ تاثر دیتے چلے آ رہے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کے عمران خان کے ساتھ تعلقات میں رخنے آ گئے ہیں اس لیے اس کی حکومت کی جلد چھٹی ہونی والی ہے۔ اپوزیشن حلقوں کی طرف سے اس قسم کا تاثر پھیلانے کی وجہ تو سمجھ میں آتی ہے اسی طرح عام صحافیوں کی بات بھی اتنی اہم نہیں مگر بعض معتبر سمجھنے جانے والے لکھاری اور تجزیہ کار جب اس قسم کا طرز بیان اپناتے ہیں تو حیرانی ہوتی ہے۔

اکتوبر 2019 میں جب مولانا فضل الرحمان نے حکومت کے خلاف اسلام آباد میں دھرنے کی ٹھان لی تو ان معتبر سمجھنے جانے والے میں سے کئی صحافیوں اور تجزیہ کاروں نے یہ تاثر دینا شروع کیا کہ اس دھرنے کو اسٹیبلشمنٹ کی آشیر باد حاصل ہے کیونکہ عمران حکومت سے چھٹکارا حاصل کیا جا رہا ہے۔ اس موقع پر کچھ اس انداز سے دعوے کیے گئے کہ عمومی خیال یہ بن گیا کہ اسٹیبلشمنٹ واقعی حکومت سے اتنی نالاں ہے کہ حکومت کا جانا چند دنوں کی بات ہے

مگر جب مولانا کا دھرنا پسپا ہو گیا۔ تو انہی حضرات نے کچھ دنوں کے لیے اس کی مختلف الٹی سیدھی تاویلات شروع کی۔

اسی طرح جب اپوزیشن جماعتوں نے پی ڈی ایم تشکیل دے کر جلسے جلوسوں، مجوزہ لانگ مارچوں اور دھرنوں کا اعلان کیا تو بعض تجزیہ کاروں نے پھر وہی تاثر دینا شروع کیا کہ اسٹیبلشمنٹ عمران حکومت سے چھٹکارا حاصل کرنے کے درپے ہے اور اپوزیشن جماعتوں کے اس اتحاد کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ ہے۔

اس قسم کا تاثر پچھلے سال اکتوبر میں آئی ایس آئی چیف کی تقرری کے دوران بھی پھیلایا گیا پھر کچھ دنوں تک مقتدرہ اور نون لیگ کے درمیان مبینہ ڈیل کی خبروں کو بنیاد بنا کر تجزیوں اور پیش گوئیوں سے میدان گرم کیے رکھا ایسے سب موقعوں پر اس نوعیت کے تجزیے یا تاثر عموماً اس خیال پر قائم کیے جاتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کا عمران خان سے تعلق بگڑ گیا ہے اور اس سے چھٹکارا پانے کے درپے ہے۔

کچھ عرصے سے بعض حلقے اسٹیبلشمنٹ کے نیوٹرل ( غیر جانبدار ) ہو جانے کا دعوی بھی کرنے لگے ہیں۔ تا حال تو ان حلقوں کے اس قسم کے سارے تجزیے، اندازے اور پشینگوئیاں درست نہیں نکلی ہیں۔

اب پیپلز پارٹی اور نون لیگ کی طرف سے مجوزہ لانگ مارچ اور بالخصوص اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے تحریک عدم اعتماد لانے کے اعلان کے بعد سے ایک بار پھر کافی ہل چل سی مچ گئی ہے۔ اور بعض مبصرین اور کالم نگار یہ پیشن گوئی کر نے لگے ہیں کہ ’اب حکومت کا ٹھہرنا مشکل ہے کیونکہ اسٹیبلشمنٹ حکومت سے مایوس ہو چکی ہے اور یہ کہ اب کے بار ایمپائر غیر جانبدار رہے گا ”۔

ان تجزیہ کاروں کی یہ تازہ پیشن گوئی یا دعوی درست نکلتا ہے یا نہیں یہ تو آنے والے دنوں میں شاید واضح ہو جائے گا سوال مگر یہ ہے کہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان مبینہ ناراضگی کے ایسے دعوی بار بار کیوں کیے جاتے ہیں؟ کیا ان کے پاس اس کی کوئی ٹھوس وجوہات ہوتی ہیں یا محض اندازے ہیں؟

اس حوالے سے بعض صحافیوں اور لکھاریوں کے طرز عمل کی وجہ تو شاید کوئی خاص مفاد یا عناد ہو۔ بعض کے اندازے ممکن ہے کہ ناقص معلومات پر مبنی ہوں مگر چند ایسے سینیئر تجزیۂ کار اور لکھاری جو پختہ کار اور کافی معتبر سمجھے جاتے ہیں نہ جانے کیوں ایسا موقف اختیار کر لیتے ہیں جو درست نہیں نکلتا ہے؟

اب ایسے میں یہ دیکھنا ہے کہ کیا اسٹیبلشمنٹ واقعی حکومت سے اتنی ناراض ہے کہ اس سے چھٹکارا پانے کی سوچ میں ہے؟ یہاں اس حوالے سے ایک مختصر جائزہ لیا جاتا ہے۔

پاکستانی سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے۔
سیاسی حکومتوں کے بنانے، بچانے اور گرانے میں اس کا عموماً ایک رول رہتا ہے۔
جب ایسا ہے تو اس کے محرکات کچھ مقاصد اور مفادات ہوں گے۔

اس لیے عمران حکومت سے اسٹیبلشمنٹ کی مبینہ یا مفروضہ ناراضگی کا جائزہ لینے کے لیے پہلے تو یہ تعین کرنا ہو گا کہ اس کا عمران خان کو اقتدار دلوانے کے ممکنہ مقاصد کیا ہو سکتے ہیں۔ پھر یہ دیکھنا ہو گا کہ ان مقاصد کے حوالے سے عمران حکومت کی کارکردگی کی صورت حال کیا ہے

اسٹیبلشمنٹ کے عمران خان کو اقتدار دلانے میں مبینہ سپورٹ میں کارفرما اہم مقاصد یا مفادات ممکنہ طور پر یا انداز کچھ یوں ہو سکتے ہیں

1۔ نون لیگ اور پیپلز پارٹی کے بعض رہنماؤں کا احتساب یا احتساب کے نام پر ان کو بوجوہ سبق سکھانا اور دبانا۔

2۔ نیک نیتی سے اس کو ملک کی ترقی اور استحکام کے لیے ایک بہتر متبادل سمجھنا اور بالخصوص عالمی سطح پر عمران خان کا ایک سلیبریٹی ہونے کے ناتے ملک کے لیے بیرون ممالک سے مالی امداد اور فوائد حاصل کرنے میں موثر کردار ادا کرنے کی توقعات۔

3 سابقہ حکمرانوں کے برعکس خارجہ پالیسی سے اہم بالخصوص اسٹریٹیجک معاملات میں اسٹیبلشمنٹ کی ہدایات پر عمل کرنا۔

4۔ بعض اہم تقرریوں میں اسٹیبلشمنٹ کی پسند کو ترجیح دینا نیز مراعات دینے میں کشادہ دلی سے کام لینا۔
اب ان ( مذکورہ مقاصد ) کے حوالے سے عمران حکومت کی کارکردگی کا مختصر جائزہ لیتے ہیں۔

1۔ اگر نون لیگ اور پیپلز پارٹی کے بعض رہنماؤں کے احتساب کر کے ان سے مبینہ لوٹا ہوا پیسہ نکالنا ایک مقصد تھا تو اس میں کامیابی تو نظر نہیں آ رہی ہے۔

ہاں اگر ان کو حکومت سے رگڑا دے کر کچھ سبق سکھانا تھا تو یہ کسی حد حاصل ہو گیا ہے۔

2۔ ملک کی ترقی اور استحکام کے حوالے سے عمران حکومت کی کارکردگی کا تعلق ہے تو وہ اپنی تمام تر نیک نیتی اور کاوشوں کے باوجود کامیاب نہیں رہی۔ اپنی ذاتی ساکھ یا شخصیت کی بنیاد پر بیرون وطن پاکستانیوں کو چندہ اور سرمایہ کاری کے لیے آمادہ کرنا یا با اثر ممالک سے آسان شرائط پر امداد یا رعایتوں کے حصول کی مبینہ توقع بھی پوری نہ ہوئی۔ الٹا شدید مہنگائی اور بے روزگاری کے باعث اس سے وابستہ توقعات عمومی مایوسی میں تبدیل ہو گئے ہیں

3۔ ملک کی خارجہ پالیسی کے بارے عام تاثر یہ ہے کہ ضیا الحق کے دور سے اس میں فوقیت اسٹیبلشمنٹ کی ترجیحات کو حاصل ہے۔ اگر کوئی سول وزیر اعظم کوئی الگ موقف اپناتا ہے تو یہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تناؤ اور یوں اس کی برطرفی کی ایک بڑی وجہ ٹھہرتا ہے۔ جونیجو۔ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف حکومتوں کی مدت پوری کیے بغیر خاتمے میں ایک بڑا فیکٹر یہی گردانا جاتا ہے۔ مگر موجودہ حکومت سے اس حوالے سے اسٹیبلشمنٹ کا کوئی مسئلہ بظاہر سامنے نہیں آیا ہے۔ بھارت۔ افغانستان اور چین وغیرہ کے بارے حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کا موقف اور پالیسی یکساں ہے۔ امریکہ کے ساتھ سردمہری بلکہ کسی حد تک کھچاؤ اور چین اور روس کی طرف زیادہ جھکاؤ کی پالیسی بھی اسٹیبلشمنٹ کے مشورے اور اعتماد کے بغیر نہیں اپنائی ہوگی یوں خارجہ پالیسی کے سلسلے میں دونوں کے درمیان کسی بڑے اختلاف اور تناؤ کا فیکٹر بھی فی الحال موجود نہیں۔

4۔ اسی طرح حکومت نے کچھ ایسے اقدامات بھی نہیں کیے ہیں جو اسٹیبلشمنٹ کے مالیاتی مفادات کو زک پہنچانے یا اس کو کسی حوالے سے مغلوب کرانے کے باعث ہوں پچھلے سال آئی ایس آئی کے سربراہ کی تقرری کے معاملے میں ایسے تاثر کو کچھ ہوا ملی مگر اس معاملے کو سلجھایا گیا۔ یوں اس حوالے سے بھی مبینہ ناراضگی کا کوئی بڑا سبب فی الوقت نظر نہیں آتا ہے۔

اسٹیبلشمنٹ کا عمران حکومت سے ناراضگی کے ممکنہ وجوہات کے اس جائزے میں ملک کا اقتصادی بحران ہی فی الحال صرف ایک ایسا سبب ہو سکتا ہے جس کے باعث اسٹیبلشمنٹ کی اس سے توقع کم ہو گئی ہو۔ مگر یہاں ایک سوال یہ بنتا ہے کہ کیا صرف یہ اتنا بڑا سبب ہو سکتا ہے کہ عمران حکومت کو ہٹانا ضروری ہو؟

اس ضمن اس بحث سے قطع نظر کہ ملک کے اقتصادی بحران کی وجہ حکومتی نا اہلی ہے یا ناگزیر حالات ہیں، بالفرض اسی بنیاد پر مقتدر حلقوں نے اپوزیشن کے ذریعے موجودہ حکومت سے چھٹکارا پانے کی ٹھان لی ہو تو ایسے میں یہ بھی مدنظر رکھا ہو گا کہ آئندہ انتحابات کے نتیجے میں جب اپوزیشن کی کسی جماعت یا اتحاد کو حکومت مل جائے یا دی جائے تو کیا اس کے پاس موجودہ اقتصادی مسائل کے حل کے لیے ضروری اہلیت اور کوئی جامع، ٹھوس اور قابل عمل پروگرام ہے کہ نہیں۔ ؟

اگر اس کے پاس بھی اس قسم کا کوئی تسلی بخش پلان نہیں تو۔ کیا۔ اس صورت میں اسٹیبلشمنٹ عمران حکومت کے سر سے ہاتھ اٹھا کر تبدیلی کی رسک لے گی؟

یہ تو ہو سکتا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کے دھرنوں، مارچوں اور تحریکوں وغیرہ کو بالواسطہ شہ دے کر حکومت کو بوجوہ دباؤ میں رکھنا اسٹیبلشمنٹ کا ایک مقصد ہو تاہم اس سے مبینہ ناراضگی فی الحال اس حد کی نہیں لگتی ہے کہ اس کی چھٹی کرنا ضروری ہو۔

جہاں تک اسٹیبلشمنٹ کے نیوٹرل ہو جانے کی بات ہے، جس کا تاثر گزشتہ کچھ عرصے سے بعض سیاسی اور صحافتی حلقے دے رہے ہیں، اس حوالے سے ایک سوال تو یہ ہے کہ کیا اس کا کوئی ٹھوس اور واضح ثبوت ہے یا محض اندازہ یا خواہش ہے؟

دوسرا یہ کہ کیا ملکی سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کا فی الفور نیوٹرل ہونا ممکن ہے؟

ان دو سوالات کے جوابات اگر ہاں میں نہیں ہو سکتے ہیں تو پھر اس مبینہ نیوٹریلٹی کا دعوی بھی محض ایک قیاس ہو سکتا ہے

Facebook Comments HS