جس نے امریکہ پر تکیہ کیا


بعض ممالک مشہور دوستی کے لئے ہوتے ہیں اور بعض ممالک جانے دشمنی کے لئے جاتے ہیں۔ لیکن امریکہ واحد ملک ہے کہ وہ جو جانے تو دوستی کی وجہ سے ہیں لیکن پہچانے دشمنی کی وجہ سے جاتے ہیں اور وہ اس لئے کہ ہر دوست ممالک کو پہلے دوستی کے دلاسے دیتے ہیں فوجی اور دیگر امداد کے وعدے وعید کرتے ہیں لیکن عین وقت پر پیٹھ دکھاتے ہیں۔ جیسے کہ یوکرائن ان کے اس بے وفائی کی تازہ مثال ہے۔ یہ امریکہ پہلی بار نہیں کرہاً ہے۔ دوسری جنگ عظیم میں روس امریکہ کا دوست تھا اور جرمنی کو شکست روس کی وجہ سے ہوئی لیکن بعد میں جب نازی ازم کا خاتمہ ہوا تو امریکہ نے روس کے خلاف سرد جنگ شروع کی اور سویت یونین کا شیرازہ بکھیر دیا۔

رشیا کو مات دینے کے لئے تمام دنیا کے مسلم ممالک اور مسلمانوں کو سویت یونین کے خلاف اپنا دوست اور مجاہدین بنایا اور سویت یونین کے جنگ کو جہاد اور اہل کتاب اور غیر اہل کتاب کی جنگ قرار دی۔ لیکن جونہی سویت یونین ٹوٹا تو سارے مجاہدین دہشتگرد کہلائے۔ اس سے پہلے ایران، عراق جنگ میں امریکہ عراق کا ساتھ دیتا رہا اور سکڈ میزائل عراق کو بھیجتے اور بیچتے رہے لیکن جونہی آٹھ سالہ جنگ کا خاتمہ ہوا تو عراق کو کویت پر چڑھ دوڑنے کا کہا اور اسی کے پاداش میں عراق کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور سکڈ میزائل جو عراق کو دیے تھے جس پر عراق بڑا اترا رہا تھا اس جنگ میں پیٹریاٹ میزائل کے ذریعے امریکہ نے اکثریت کو ناکارہ بنا دیا۔

لیبیا کے معمر قذافی کو بھی امریکہ کی دوستی پر ناز تھا لیکن یہ ناز بھی امریکہ کے محاذ کا نشانہ بنا۔ نائن الیون کے بعد امریکہ طالبان یا سابقہ مجاہدین کو سبق سکھانے اور افغانیوں کو ان کی چنگل سے چھڑانے کے لئے بزور شمشیر افغانستان میں وارد ہوا۔ پورے بیس سال افغانستان میں رہا لیکن جس کے خلاف آئے تھے ان ہی سے مذاکرات کر کے افغانیوں کو بے یارومددگار چھوڑا اور جس واقعے کو بہانہ بنا کر آیا تھا اس ہی واقعے کے نقصانات اور مرنے والوں کے عوض افغانیوں کے منجمد پیسے ان ہی کے لئے ضبط کیے اور امریکہ کے آمد کے وقت جو افغانی لقمہ اجل بنے ان کا کوئی حساب کتاب نہیں۔

اس سے پہلے ہم نے بھی اپنی باری پر امریکہ کے بحری بیڑے کا شدت سے انتظار کیا تھا لیکن وہ اب تک راستے میں ہے۔ جنوبی کوریا اور تائیوان بھی امریکہ کی یاری کے طفیل اپنے مونچھوں کو تاؤ دے رہے ہیں لیکن ابھی ان پر امریکہ کے آزمانے کا وقت نہیں آیا۔ یوکرائن کو بھی امریکہ اور یورپ ہر بڑا اعتماد تھا۔ ایک وقت تھا کہ یوکرائن نے ایٹمی صلاحیت حاصل کی تھی لیکن ان کو یورپ یونین میں شامل کرانے اور اقتصادی طاقت بننے کے عوض ایٹمی صلاحیت رول بیک کرنا پڑا۔

یوکرائن نے روس کی چنگل سے نکلنے کے لئے روپی یونین اور امریکہ کی یاری دوستی اپنائی اور امریکہ اور یورپ پر تکیہ کیا اور اس حد تک گئے کہ ہر وہ بات جو روس سے متعلق ہوتی اس کی نفی اور ہر وہ بات جو یورپ اور امریکہ سے وابستہ ہوتی اسے مثبت گرداننا اپنا فرض منصبی سمجھتے جس کی پاداش میں آج یوکرائن کو یہ دن دیکھنا پڑے۔ اب جب یوکرائن روس کی جارحیت کے سبب آگ اور خون میں لت پت اور ہر طرف تباہی ہی تباہی کا منظر پیش کرہاً ہے تو امریکہ اور یورپ نے ان سے براہ راست فوجی امداد سے منہ موڑ لیا البتہ کاروباری طور پر امداد کے نام پر یا امداد کے عوض میزائل شکن توپ اور سٹنگر میزائل اور دیگر حربی آلات دینے اور مزید روس کے ساتھ جنگ میں لڑانے یا روس کو یوکرائن کے ساتھ الجھانے کے حربے استعمال کر رہے ہیں۔

اب یوکرائن کو بھی پتہ چل چکا ہو گا۔ تب ہی تو آخری خبریں آنے تک روس کے ساتھ مذاکرات کے لئے تیار ہو گیا ہے لیکن روس پہلے ان کو ہتھیار ڈالنے کی شرط رکھ رہا ہے اور جنگ میں کوئی بھی فریق کوئی بھی حربہ استعمال کر سکتا ہے اور اگر ایسے موقعے پر یوکرائن ہتھیار ڈال دے گا تو روس کے ہمیشہ ہمیشہ ماتحتی یا زیراثر بھی آ سکتا ہے کیونکہ روس نے بڑے سوچ سمجھ کر یوکرائن پر حملہ کیا ہو گا صرف زبانی جمع خرچ کے لئے نہیں۔ یوکرائن کو تو سبق مل گیا اب جنوبی کوریا اور تائیوان کو بھی اس سے سبق سیکھ لینا چاہیے۔ امریکہ کی دوستی یا امریکہ پر تکیہ کرنے کے بارے میں ثاقب لکھنوی نے بہت پہلے کہا تھا کہ۔

باغبان نے آگ دی جب آشیانے کو مرے
جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے ( ثاقب لکھنوی)

Facebook Comments HS