انجام پتنگ کیا ہو گا
پتنگ اور پتنگ باز کے درمیان تعلق چند ساعتوں پر ہی مشتمل ہو تا ہے لیکن یہ چند لمحے اڑان و گر، ترقی و تنزل اور نشیب و فراز کے بیشتر رنگ اپنے اندر رکھتے ہیں۔ جب پتنگ باز دکان پر سجی پتنگ کا ”انتخاب“ کرتا ہے تو پتنگ پھولے نہیں سماتی۔ پھر پتنگ باز پتنگ کو نئی نویلی دلہن کی طرح سینے سے لگائے۔ اسے بڑی چاہ کے ساتھ گھر کے کونوں اور نوکیلی اشیا سے بچاتے ہوئے چھت پر لے جا تا ہے۔ اس موقع پر پتنگ کی خوشی دوگنی ہو جاتی ہے، اس کا بس نہیں چلتا کہ اچھل کر پتنگ باز کو چومنا شروع کر دے۔
پتنگ جب اڑان بھرنا شروع کرتی ہے تو ہوا کے تیور اور آسمان کی وسعت دیکھ کر گھبرا جاتی ہے پھر یکا یک اس کے دل میں پتنگ باز کا خیال آتا ہے تو مطمئن ہو جاتی ہے کہ میں محبوب کے مضبوط ہاتھوں میں ہوں۔ جوں جوں بلند ہوتی ہے۔ اس کا اعتماد بھی بڑھتا جاتا ہے۔ وہ نیلگوں کھلے آسمان پر محو پرواز جب نیچے نظر دوڑاتی ہے تو کچے پکے مکانوں کی منہ کھلے تکتی چھتیں، کبھی مڑتی کبھی سیدھی چلتی گلیاں، بازاروں میں سرکتا ہجوم اور ہجوم میں گم ہوتے بازار دیکھتی ہے۔ ہر طرف بے ڈھنگ طرز پر دوڑتی زند گی کے مختلف مناظر دیکھ کر پتنگ کے دل میں تکبر و رعونیت کے جذبات امڈ آتے ہیں اور اس وقت وہ اپنے ”انتخاب گر“ یعنی پتنگ باز کو بھی بھول بیٹھتی ہے۔ اس لمحے وہ انانیت اور خود پرستی سے سر شار ہو کر خود کلامی شروع کر دیتی ہے۔
” محو پرواز رہنا تو میری از خود صلاحیت ہے، آسمان گردی کرنا تو میری سرشت میں شامل ہے۔ مجھے اڑان بھرنے کے لیے زمین کی بے توقیر طاقتوں کی ضرورت نہیں ہے۔ میں جب تک چاہوں آسمان نشین رہ سکتی ہوں۔ مجھے کسی“ خلائی مخلوق ”کی ٹیکنالوجی کی بھی ضرورت نہیں ہے“ ۔
وہ خود ستائشی کی کیفیت میں اڑتی چلی جاتی ہے کہ یکا یک اس کا رخ زمین کی طرف ہو جاتا ہے۔ چھت پر کھڑا پتنگ باز غلیظ گالی بک کر بقیہ ڈور لپیٹنا شروع کر دیتا ہے۔ میدان میں کھیلتا ایک بچہ فضا میں ہچکولے کھاتی کٹی پتنگ کو دیکھ کر شور مچا تا ہے، بچے اکٹھے ہو کر جلوس کی صورت میں پتنگ کا تعاقب شروع کر دیتے ہیں۔ پتنگ ہوا کے تھپیڑوں کی مار سہتے سہتے بلا آخر درخت کے تنے سے الجھ کر جھولنے لگتی ہے۔ بچے دھول اڑاتے، شور مچاتے، ایک دوسرے کو دھکیلتے ہوئے شکستہ حال پتنگ کی طرف ”مارچ“ جاری رکھتے ہیں۔


