بجلی، پٹرول سستا، عوام خوش، حکومت خوش، وزیراعظم بھی خوش


وزیراعظم کے خطاب سے قبل پرویز خٹک سمیت بہت سے وزرا اور ترجمانوں نے یہ خبر گرم پھیلا رکھی تھی کہ وزیراعظم اپنے خطاب میں بہت بڑا اعلان کرنے والے ہیں۔ اتنا بڑا کہ جسے سن کر عوام بھنگڑے ڈالنا شروع کر دیں گے۔ باقی لوگوں کی طرح ہم نے بھی عقل کے گدھے گھوڑے دوڑائے کہ اتنی بڑی خوش خبری کیا ہو سکتی ہے۔ اسمبلیاں توڑیں گے، نواز شریف کو واپس لائیں گے، باہر پڑا ہوا دو سو ارب ڈالرز لے آئے ہیں، پوتن کو کلمہ پڑھائیں گے، خاتم النبیین کہنا سیکھ گئے ہیں۔ ، آرمی چیف کو برطرف کریں گے، جنرل فیض حمید کو صدر بنائیں گے یا اپنا خود کشی والا دیرینہ وعدہ پورا کریں گے۔ ایک کروڑ نوکریاں، پچاس لاکھ گھروں کی چابیاں دیں گے۔ آخر وہ کیا خوشخبری سنائیں گے۔

خطاب کے بعد بجلی، پٹرول سستا کرنے سمیت کچھ اور اعلانات فرمائے تو ہمیں ایک لطیفہ نما واقعہ یاد آ گیا۔ تفنن طبع کے لیے آپ بھی سن لیں۔

ایک تندور والا تھا جو 5 روپے میں روٹی بیچتا تھا اسے روٹی کی قیمت میں اضافہ کرنا تھا لیکن بادشاہ کی اجازت کے بغیر کوئی اس کی قیمت نہیں بڑھا سکتا تھا۔ چنانچہ وہ بادشاہ کے پاس گیا اور کہنے لگا کہ بادشاہ سلامت مجھے روٹی کے 10 روپے کرنے ہیں۔ بادشاہ نے کہا کہ 30 کی کر دو

نانبائی نے کہا بادشاہ سلامت اس سے شور مچے گا
بادشاہ نے کہا اس کی فکر نہ کرو
میرے بادشاہ ہونے کا کیا فائدہ۔ تم اپنا منافع دیکھو اور روٹی 30 ​​روپے کی کر دو

اگلے دن اس نے روٹی کی قیمت 30 روپے کر دی، شہر میں کہرام مچ گیا لوگ بادشاہ کے پاس پہنچے اور شکایت کی کہ تندور والا ظلم کر رہا ہے 30 روپے کی روٹی بیچ رہا ہے۔ بادشاہ نے اپنے سپاہیوں سے کہا کہ میرے دربار میں نانبائی کو پیش کرو، وہ جیسے ہی دربار میں پیش ہوا بادشاہ نے غصے سے کہا، تم نے مجھ سے پوچھے بغیر قیمت کیسے بڑھا دی؟ یہ رعایا میری ہے، لوگوں کو بھوکا مارنا چاہتے ہو۔ بادشاہ نے نانبائی کو حکم دیا کہ تم کل سے آدھی قیمت پر روٹی بیچو گے ورنہ تمہارا سر قلم کر دیا جائے گا، بادشاہ کا حکم سن کر عوام نے اونچی آواز میں کہا۔ بادشاہ سلامت زندہ باد

اگلے دن سے 30 کے بجائے روٹی 15 میں بکنے لگی
عوام خوش، نانبائی خوش، بادشاہ بھی خوش۔ یوں سب پرانی تنخواہ پر خوشی خوشی کام کرنے لگیں۔

کچھ ایسا ہی سلوک موجودہ وزیراعظم نے بھی اس سادہ لوح اور بھولے بھال عوام سے کیا ہے۔ انہوں نے لولی پاپ دے دیا مگر عوام کا یہ مطالبہ ہے کہ موجودہ وزیراعظم پہلے قیمتیں نواز شریف دور کی سطح تک لے جائیں اور پھر ان میں کمی کریں تو ہم ان کی خدا ترسی اور دریا دلی کی تعریف کرنے کے بارے میں سوچ سکتے ہیں ورنہ اندریں حالات اس ”خطاب“ کو ان کی گھبراہٹ پر محمول کر کے یہی کہا جائے گا کہ

مرنے والا کوئی زندگی چاہتا ہو جیسے

حقیقت یہ ہے کہ جب سے اپوزیشن نے عدم اعتماد کا شوشہ چھوڑا ہے وزیراعظم اور ان کی حکومت مفلوک الحال عوام کو قومی خزانے سے پٹرول کی قیمتوں میں کمی اور مراعات کے نام پر بھاری رشوت دینے کے لیے مرے جا رہے ہیں۔ ورنہ یہی وزیراعظم اور حکومت تھی کہ کل تک مہنگائی کو عالمی حالات اور کورونا صورت حال کا شاخسانہ قرار دیتے تھے۔ پٹرولیم مصنوعات کی ہوش ربا نرخوں کو عالمی منڈی کی بڑھتی قیمتوں کا نتیجہ قرار دیتے تھے مگر آج جب فی بیرل تیل ایک سو پانچ ڈالرز تک پہنچ گیا ہے تو بیس روپے اضافے کی بجائے نرخ دس روپے کم کیے جا رہے ہیں۔

اپوزیشن کی تحریک، لانگ مارچ اور عدم اعتماد کی دھمکی نے وزیراعظم کی شخصیت اور مزاج میں اچانک ایک اور تبدیلی پیدا کر لی ہے۔ وہ یہ کہ شقی القلب، بے حس، خود غرض اور متکبر وزیراعظم کا دل دو ڈھائی سال کی بے رخی کے بعد جہانگیر ترین کی بیماری پر فوراً پگھل گیا ہے۔ وہ وزیراعظم ہیں جو اپنے بے لوث اور دیرینہ دوست نعیم الحق کے جنازے میں شریک نہیں ہوئے تھے آج جہانگیر ترین کی معمولی بیماری پر ان کی انسانی ہمدردی اور انسان دوستی کا جذبہ ایک دم بیدار ہو گیا ہے اور انہوں نے لندن میں نا اہل اور آٹا چینی چوری میں ملوث جہانگیر ترین کو فون کھڑکا دیا۔ ایک مشہور کہاوت میں معمولی سی ترمیم کے بعد گویا حالت اب یہ ہو گئی ہے کہ

”گھبراہٹ لگی بڑھنے، خیرات (سیاسی) لگی بٹنے۔ لیکن اس کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ ہمارے کپتان نے گھاٹے کا کا سودا نہیں کیا۔ بجلی کی قیمت میں چھ روپے اضافہ کر کے پانچ روپے اور پٹرول میں دس روپے کمی کر کے ایل پی جی کی قیمت یکمشت ستائیس روپے بڑھا دی اور فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی کے نرخوں میں اچھا خاصا اضافہ کر دیا۔ ان کا خطاب سن کر ہمیں مکے دکھانے والے سابق مفرور آمر جنرل پرویز مشرف یاد آ گئے جو کہا کرتے تھے کہ میں ڈرتا ورتا کسی سے نہیں ہوں۔

Facebook Comments HS