کیا غامدی سکول آف تھاٹ مذہب کی حقیقت کو دریافت کر پائے گا؟


نظریات سبجیکٹو ہوتے ہیں اور انسانی تاریخ مختلف نظریات سے بھری پڑی ہے، ہر دور میں کچھ ایسے لوگ ہوتے ہیں جو ہجوم سے ہٹ کر سوچتے ہیں اور تاریخ میں ایسے ہزاروں لوگوں کے شواہد ملتے ہیں جنہوں نے انسانی سوچ کی میراث کو آگے بڑھایا اور اس تسلسل کو تقویت بخشی۔ نظریات کی آماجگاہ چو نکہ انسانی دماغ ہوتا ہے ان پر بحث و مباحثہ کے ذریعہ سے صحیح نتائج تک پہنچنے کی سعی کی جاتی ہے مگر ان نظریات کو ٹیسٹ کرنے کا سائنٹیفک لیبارٹری کی طرز کا کوئی پیمانہ نہیں ہوتا یا ریاضی کے فارمولے ٹو پلس ٹو فور کی طرز پر کسی بھی نظریے کی جانچ نہیں کی جا سکتی۔

اس لیے جو تصورات ارسطو، سقراط یا افلاطون کے ذہنوں میں پیدا ہوئے تھے وہ ہم تک ایسے تسلسل و پیمانہ کے ذریعے سے پہنچے ہیں جنہیں ہم باوثوق طریقے سے ویریفائی نہیں کر سکتے۔ بنیادی وجہ ہمارے اور ان کے درمیان صدیوں کا طویل فاصلہ ہے اور دوسری اہم بات ہم نے ان شخصیات کو دیکھا یا ان سے ڈائریکٹ استفادہ نہیں کیا بلکہ کچھ ذرائع ان کی موجودگی یا ان کے تصورات کی تصدیق کرتے ہیں اور ہم ان ہی کو بنیاد بنا کر ان تصورات کو پیش کرتے چلے آرہے ہیں۔

جیسے جیسے علم کے ذرائع وسیع ہوتے گئے اور اسی وسعت نظری اور فکری بنیادوں پر بہت سے تصورات مسترد ہوئے یا ان تصورات پر وسیع تناظر میں گفتگو کا آغاز ہوا۔ علم کے ذرائع وسیع ہونے کے بعد اور سائنس کی بدولت سائنسی فکر پروان چڑھنے کی وجہ سے بہت کچھ چھلنی ہو گیا مگر بانیان تصورات کی اہمیت اپنی جگہ پر قائم ہے کیونکہ انہوں نے ایسے دور میں سوچ کی بنیاد یا ریت ڈالی جب اس قسم کا کوئی خاص چلن نہیں تھا۔ جب یہ سفر گلیلیو تک پہنچا تو اس نے کمال ہی کر دیا، گلیلیو نے یونانی فکر اور کلیسیائی فکر پر بڑے بڑے سوال کھڑے کر دیے کیونکہ نظریات و ایمانیات کے بلمقابل اس کی دوربین آ چکی تھی جس کے ذریعے سے وہ آسمان کو بالکل اپنی آنکھوں کے قریب لے آیا تھا۔

گلیلیو اور روم کی مذہبی عدالت کے درمیان جو کشمکش یا تناؤ تھا وہ دراصل دو سسٹم آف تھاٹ کے درمیان تھا یا یوں کہہ لیں کہ یہ کشمکش ایمانیات جن کا سورس مذہبی کتب تھیں جنہیں کسی طرح بھی ٹیسٹ نہیں کیا جاسکتا تھا جبکہ دوسری طرف مشاہداتی حقائق تھے جنہیں ہر لحاظ سے دیکھا، پرکھا اور محسوس کیا جا سکتا تھا۔ مذہبی عدالت محض ”ان ٹیسٹ ایبل“ اور جامد نظریات کی بنیاد پر مشاہداتی اور ٹیسٹ ایبل حقائق کو رد کر رہے تھے بنیادی وجہ یہ تھی کہ وہ اپنی انا اور صدیوں کی شاہی خدائی کو قائم و دائم رکھنے کے لیے سیکنڈ تھاٹ یا ری وزٹ کا خطرہ مول نہیں لینا چاہتے تھے کیونکہ وہ اس حقیقت کو خوب جانتے تھے کہ محض ایمان گلیلیو کی دوربین کے آگے اپنی اہمیت کھو دے گا۔

اب مشاہدہ اور تصورات کے بیچ کوئی واسطہ نہیں بچتا سوائے رجعت پسندانہ رویوں کو وقتی تسکین پہنچانے کے، اسی وجہ سے کلیسیائی طبقہ آج بھی رجعت پسندی کی وجہ سے وہیں کا وہیں اٹکا ہوا ہے جبکہ گلیلیو کی مشاہداتی کاوشوں کا ثمر آج جیمز ویب ٹیلی سکوپ کی شکل میں ہمارے سامنے ہے، یہ جدید ٹیلی سکوپ آنے والے وقتوں میں کیا کیا معجزے دکھائے گی ابھی اس کا تصور کرنا بھی مشکل ہے۔ اب چلتے ہیں ہم اپنی موجودہ مذہبی فکر کی طرف جن کا زاویہ نگاہ آج بھی قرون وسطی سے ایک انچ بھی آگے نہیں بڑھ سکا سوائے روایتی فکر پر جدیدیت کا غلاف چڑھانے کے یا یوں کہہ لیں کہ روایتی لباس کی جگہ پینٹ شرٹ نے لے لی ہے۔

دعویٰ سب کا ایک ہی ہے کہ ہماری تشریح مذہب بالکل درست یا حقیقی مفہوم کے قریب قریب ہے اور اب تک جو مذہب کی تشریح ہوئی ہے اس میں لاتعداد ہول اور سقم ہیں۔ مذہب کو پیش کرنے والے ان لوگوں کو تو ایک طرف کر دیں جنہیں ہم نے صرف کتابوں کی حد تک پڑھا ہے ہم ان شخصیات کا جائزہ لینے کی کوشش کر لیتے ہیں جنہیں ہم بخوبی جانتے ہیں ان شخصیات میں شیخ احمد دیدات، مولانا مودودی، ڈاکٹر اسرار احمد، وحید الدین خان، مولانا اسحاق، ڈاکٹر ذاکر نائیک، علامہ پرویز، انجینئر محمد علی مرزا اور جاوید احمد غامدی شامل ہیں۔

ان میں جو وفات پا چکے ہیں یا موجودہ وقت میں زندہ ہیں ان سب کا یہی دعوی تھا اور ہے کہ ہم جو مذہب کی تشریح کر رہے ہیں وہی حقیقت کے قریب ہے باقی سب مایا ہے حتی ان تشریحات میں بہت زیادہ اختلاف پایا جاتا ہے اور یہ ایک دوسرے سے بالکل بھی مختلف نہیں ہیں۔ بالکل یہی عنصر غامدی صاحب کی فکر میں بھی پایا جاتا ہے اور یہ جس پیمانے پر آج مذہب کی تشریح کر رہے ہیں یوں لگتا ہے جیسے وہ روایتی فکر کو بائی پاس کر رہے ہوں مگر حقیقت میں ایسا کچھ نہیں ہے بلکہ یہ کمال فلسفے کا ہے اسی صلاحیت کا استعمال کر کے وہ اپنے موقف میں جان ڈالنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔

اس بات کو قبول کرنے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں کہ غامدی سکول آف تھاٹ نے مذہب کو ایک نئے ڈھنگ سے سمجھانے کی کوشش کی ہے۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ ان سب کا وشوں کو جانچنے یا پرکھنے کا کوئی آتھنٹک پیمانہ نہیں ہے جس کی بنیاد پر ہم یہ فیصلہ کر سکیں کہ فلاں اسکول آف تھاٹ حقیقی تشریح کے قریب قریب ہے، بنیادی وجہ ”پئیر ریویو“ جیسا کوئی معیار و پیمانہ نہیں ہے جس کی بنیاد پر کوئی رائے قائم کی جا سکے اور اس قسم کا اوبجیکٹیو ماڈل بن ہی نہیں سکتا کیونکہ تشریحات ایک دوسرے سے بہت حد تک مختلف ہیں۔

اسی وجہ سے غامدی صاحب کو اپنا موقف واضح کرنے کے لیے فلسفیانہ موشگافیوں کا سہارا لینا پڑتا ہے اور اسی پیمانہ پر وہ جس بات کی وضاحت کرتے ہیں وہ فلسفیانہ انداز سے درست لگنے لگتی ہے، اس میں کوئی شبہ نہیں کہ غامدی فکر نے مذہب پر پڑی ہوئی بلاوجہ کی گرد اور فکری بیرئیرز کو ہٹانے کی کوشش ضرور کی ہے اور یہ عمل قابل تحسین بھی ہے مگر اس بات کا کوئی پیمانہ نہیں ہے کہ جو کچھ اس فکر نے اخذ کیا ہے اس میں کم و بیش درست کتنا ہے؟

مذہبی فکر کے علاوہ دنیا میں جو دوسرے فلسفے ظہور پذیر ہوئے ہیں وہ وقت کے ساتھ ساتھ بہتر اور عام فہم ہوتے گئے مگر مذہبی فکر ماہرین مذہب کی وجہ سے مشکل فہمی اور کنفیوژن کی طرف ہی گئی ہے چہ جائیکہ آسان فہمی کا کوئی بندوبست کیا جاتا۔ اس بات کا اندازہ آپ کچھ یوں لگا سکتے ہیں کہ غامدی صاحب سے زیادہ دنیا بھر میں مولانا طارق جمیل کی فالونگ ہے مگر مقام حیرت ہے کہ ان کے فلسفہ مذہب و فکر سے ان کے ہم مسلک ہی متفق نہیں ہیں اور ان کے اکثر تصورات خاص طور پر جنت و حور کو غامدی صاحب بالکل رد کر دیتے ہیں۔

ایک ہی فکر کی تشریح ایک طویل عرصہ سے مختلف لوگ یہی موقف اختیار کر کے پیش کرتے آرہے ہیں کہ اس کی تشریح درست ہے باقیوں کی تشریحات میں سقم و کجیاں ہیں جب کہ تلخ حقیقت یہ ہے کہ غامدی فکر بھی اسی روایتی فکر کو جدید تناظر و فکری استعارات کا استعمال کر کے سمجھانے کا فریضہ ادا کرتے ہوئے یہ بات بڑے شد و مد سے کہتے ہوئے نظر آئیں گے کہ ممبرز والوں کی تشریحات درست نہیں ہیں اور ہم جو پیش کر رہے ہیں بس وہی ٹھیک ہیں۔

ہر کوئی اپنی اپنی دانست میں گلوریفائیڈ قسم کے پلس پوائنٹس گنواتا چلا جاتا ہے مگر معاملہ وہیں کا وہیں اٹکا ہوا ہے کہ پلے آج تک کچھ نہیں پڑا اور مذہبی فکر وہیں اٹکی ہوئی ہے جہاں شروع سے تھی۔ غامدی فکر کے مطابق اصل دین کا مفہوم وہی ہو گا جو آج سے چودہ سو سال پہلے تھا مگر اس بات کا تعین کون کرے گا کہ آپ نے جو مفہوم اخذ کیا ہے وہ بعین چودہ سو سال والے تصورات سے مطابقت رکھتا ہے؟ سائنسی انکشاف کرنے والا جب کوئی بندہ اپنے تجربات کی روشنی میں کوئی فارمولا یا اصول پیش کرتا ہے تو اس فارمولے کا پئیر ریویو ہوتا ہے جس کے مطابق سیم فیلڈ کے ایکسپرٹ اس کا جائزہ لے کر اسے حتمی مراحل میں داخل کرتے ہیں کیا آپ کے اندر اس قسم کا کوئی سسٹم موجود ہے؟

ایسا سسٹم بننے کا کوئی چانس بھی نہیں ہے کیونکہ ہر ایک کی بقا دوسرے کو مسترد کرنے میں ہے جہاں اس قسم کا چلن ہو گا وہاں لوجیکل ڈھانچہ کیسے تشکیل پا سکتا ہے البتہ جو بات تسلیم کرنے والی ہے اسے ماننے میں کوئی مضائقہ نہیں کہ غامدی سکول آف تھاٹ کی وجہ سے تشکیکی رویے پروان چڑھ رہے ہیں اور لوگوں نے اپنے طور پر سوچنا شروع کر دیا ہے۔

Facebook Comments HS

5 thoughts on “کیا غامدی سکول آف تھاٹ مذہب کی حقیقت کو دریافت کر پائے گا؟

  • 02/03/2022 at 1:27 صبح
    Permalink

    Like religion, Pakistani science is also completely different from the rest of the world.

    Elevation crater theory.
    Expanding Earth theory (superseded by subduction)
    Contracting Earth.
    Geosyncline theory.
    Haarman’s Oscillation theory.
    Various lost landmasses, including Lemuria

    Are also theories that are in the modern world widely rejected.

    A thing to keep in mind is that science technically represents ‘facts’ as they result from experiments while ‘theories’ are "that could be accepted in absentia of fact” kind thing.

    Below are also widely accepted theories (not facts): The big bang, string and general relativity

  • 02/03/2022 at 1:38 صبح
    Permalink

    By the way, Galileo (an orthodox Catholic Christian who wanted to prove God by science) was not only humiliated the church itself, but later on, Kelvin in 1882 proved his theory of tide wrong.

  • 02/03/2022 at 2:13 شام
    Permalink

    برائے مہربانی مشہور شخصیات کے کندھے پر جنرلائزڈ میٹیریل کی بندوق رکھ کر چلانے کی تکنیک استعمال کرنے کی بجائے اختصاص کے ساتھ کوئی نکتہ بیان کریں کہ کون سی بات غلط لگی ہے اور کن دلائل کی بنیاد پر غلط لگی ہے۔ اگر خدا نہیں ہے تو مذہبی لوگ جو دلائل بیان کرتے ہیں وہ کیوں غلط ہیں۔ کسی کو برا بھلا کہنے کی بجائے علمی طریقے سے دلیل کی غلطی واضح کیجئے۔

    • 02/03/2022 at 9:59 شام
      Permalink

      Bura bhal kisi ko kehny ki es mn kiya baat agaye!

      Mere kehny ka maqsad ye hy k mazhwb ki tarah science bhi hum Pakistanio ki apni he hy alag sari duniya se.

      Ap theories ko tanqeed ka nishana bana rahe hn jab k baki duniya mn theories bhi science he hn.

      Evolution Darwin ki ya ye duniya Big Bang k natije wajood mn aye bhi theories he hain facts nhi.

      So jab ap theories ko reject kar rhe hn comparative to science tou ye bat illogical hy q k science khud facts aur theories ka name hy. Its normal to present theories and establish a point. Rahe bat k kin ko manaein kin ko na manein tou science ki duniya mn bhi theories aye din reject hoti rehti hn q k wo facts nhi hoti aur jab tak facts nhi hoty tab tak theories he tahqeeq ki buniyad banti hn.

  • 03/03/2022 at 9:05 شام
    Permalink

    ایک زمانہ تھا جب ڈسپوزیبل اشیاء کا تصور تک نہیں تھا۔ کوئی بھی شے یہ سوچ کر خریدی یا بنوائی جاتی کہ وہ کئی نسلوں تک چلے۔ یعنی دادا لوے تے پوتا ہنڈاوے۔ جہیز کے برتن استعمال کی بجائے نسل در نسل وراثت میں منتقل کیے جانے کی نیت سے دیے جاتے تھے سو انہیں ایک نمائشی شے کے طور پر گھر کے کسی کمرے کی دیوار پر قدِ آدم سے زرا زیادہ اونچائی پر لگائی گئی لکڑی کی کارنس پر ٹکادیا جاتا۔ سال بھر گرد پڑنے کے بعد جب وہ میلے ہوجاتے تو انھیں اتار کر قلعی کروایا جاتا اور یا پھر لیموں یا املی سے رگڑ کر چمکایا جاتا اور یوں وہ ایک بار پھر سے بالکل نویں نکور لگنے لگتے اور انھیں سال بعد دوبارہ چمکانے کیلئے کارنس پر ٹکادیا جاتا۔

    غور کیجیے تو ہمارے مذہبی سکالر بھی مذہب کے ساتھ صدیوں سے یہی کچھ کررہے ہیں۔ انھیں جیسے ہی لگتا ہے کہ مذہبی تصورات پرانے ہونے لگے ہیں وہ انھیں کارنس سے اتار کر قلعی کرتے ہیں اور ظاہری طور پر چمکا کر پھر سے وہیں سجا دیتے ہیں، جبکہ ان کے بعد آنے والا سکالر بھی یہی عمل دہرا رہا ہوتا ہے۔ آج کل غامدی صاحب بھی بس قلعی گر کا کردار ہی ادا کررہے ہیں۔

    سعید ابراہیم

Comments are closed.