کارونجھر میں ساردھرو آستھان پر شو راتڑی کا میلہ
تھر اور پارکر کے حصے میں کوئی بھی بڑا پہاڑ نہیں ہے۔ صرف پارکر میں چاروں اطراف میں چھوٹی چھوٹی ٹکڑیاں ہیں۔ بیچ میں ننگرپارکر شہر کے قریب ٹکڑیوں کی ایک بڑی قطار مرغی کے انڈے کی طرح گھوم کر آتی ہے۔ جس کے بیچ میں ریتیلا حصا ہے، یہ پہاڑی سلسلہ کارونجھر کہلاتا ہے، پہاڑی سلسلے کی قطار کو کوئی 32 میل کوئی 20 میل سناتا ہے، سندھ گزیٹئر میں 12 میل لکھی گئی ہے۔ اس کی بلند تریں چوٹی زمیں کی سطح سے ایک ہزار فٹ اوپر ہے۔ یہ ٹکری ننگرپارکر شہر کے قریب جنوبی مغرب میں رن کچھ کے شمالی مشرق کے کونے پر واقع ہے۔ دوسرے اور پہاڑی سلسلوں کی طرح اس پہاڑ کا پتھر سخت نہیں ہے۔ پھر بھی عمارتوں کے کم آنے جیسا ہے۔ یہاں ہندو دھرم کے آستھان ہیں۔
ننگرپارکر شہر کے جنوبی مغرب سمت میں دو میل کے فاصلے پر ٹکری کے بیچ میں ساردھرو کا آستھان ہے۔ جہاں سے گورڈڑو ندی نکلتی ہے، وہاں مہادیو کا ایک مندر اور پانی کا ایک گہرا تالاب ہے، جو پانی سے بھرا ہوا ہوتا ہے۔ تالاب میں پانی بارش کا آتا ہے۔ مقامی بولی میں تالاب کو کنڈ یا کن کہا جاتا ہے۔ عام طور ہندؤں کا کہنا ہے کہ کسی وید یا شاشتر میں کارونجھر کی اسی کنڈ یا تالاب ذکر آیا ہوا ہے۔ اور یہ عقیدہ رکھا جاتا ہے اگر کسی مردے کی ہڈیاں اس کنڈ میں ڈالی جائیں تو وہ گنگا میں ڈالنے کے برابر ہیں۔
کنڈ کے اوپر دیوی کا ایک مندر ہے۔ جہاں شو کا لنگ بھی بنا ہوا ہے۔ ہندو لوگ مرے ہوئے لوگوں کی کریا کرم یہاں پر کرتے ہیں۔ اور جلی ہوئی ہڈیاں (شنکھ) اسی کنڈ ڈالتے ہیں۔ یہاں پر ہر سال مارچ کے مہینے میں شو راتڑی کا میلہ لگتا ہے۔ ساردھرو کے اوپر پاراشر کا آستھان ہے۔ کہتے ہیں یہاں پاراشر رشی دس ہزار سال کہڑا ہو کر تپشیا کی تھی۔ پاراشر پیر کے ایک ایک انگلی پر ہزار سال کہڑا ہوا تھا۔ انگلیوں کے ایسے دس نشان پہاڑی کے اوپر موجود ہیں۔
پاراشر کی کہانی میں تفصیلی جاتے ہیں تو داستاں اس طرح ملتا ہے۔ پارکر کی سرزمین سمندر تھی، تپشیا کے آخری دنوں میں پاراشر کی بیوی نے پوپٹ کے گلے میں لوٹ کے آنے کی چٹھی لٹکاکر بھیجی پاراشر نے نے اپنے جسم کا پسینہ اس چھٹی کے کاغذ میں لپیٹ کر پوپٹ کے ساتھ بھیجا۔ پوپٹ جب بیچ سمندر پر پہنچا تو ایک باز کے جھپٹے سے گر پڑا۔ پسینا سمندر میں ایک مچھلی کے پیٹ میں چلا گیا جس ایک سندر کنیا پیدا ہوئی۔ مچھیروں نے کنیا کو پال پوس کر بڑا کیا۔
نام رکھا مچھندرا، پاراشر رشی اپنی تپشیا پوری کر کے سمندر پار کرنے لیے مچھیروں کے پاس آیا، رشی کو سمندر پار کرانے کے لیے مچھندرا نے کشتی پر بیٹھایا۔ بیچ راستے میں مچھندرا کا سندر روپ دیکھ کر رشی کے من میں کامدیو جاگ اٹھا۔ مچھندرا کے کجراری آنکھوں کو تکتے ہوئے رشی نے اپسرا کے کمر پر کیا ہاتھ رکھا دس ہزار برس کی تپشیا برباد ہو گئی۔ رشی بڑے الجھن میں پڑ گیا، پارکر کو سراپ تو دے دیا لیکن سنجوگ کا پاپ کیسے اترے، اس بات کا شدت سے احساس ستانے لگا مھا پنڈتوں کے کہنے پر اڑسٹھ تیرتھ آستھانوں کا پانی ایک جگہ ساردھرو کے مقام پر جمع کر کے اشنان کیا۔
ساردھرے کا میلہ گھومتے ہوئے اگر کوئی کسی داستاں گو کے پاس بیٹھ گیا تو اس کو مرگھی کنڈ کی کہانی سننے کے لیے مل جائے گئی۔ کیسے ہرنی کی سری قدام کے درخت میں اٹک جاتی ہے۔ کیسے پاٹن کے سیٹھیانی پارکر کے کھیت بھیڑیا کے مونگ پہچانے؟ سیٹھانی نے مرگھی کنڈ کے قریب دو ڈیھرے بنوائے۔ ان ڈیھروں میں قدیم شو اور پاروتی کی مورتیاں ہیں۔
شو راتڑی کے میلے میں بجھن بھاؤ چل رہے ہیں۔ کہاں کہاں سے زیارتی آ کر جمع ہوئے ہیں۔ میں داستاں گو سے لمبی کچھری بیچ میں چھوڑ کر ستسنگ کی محفل میں آ کر بیٹھتا ہوں کبیر بھگت کا بجھن چل رہا ہے۔
سائیں سے سانچا رہو، سائیں سانچ سہائے
بھاویں لمبے بال رکھ بھاویں گھوٹ منڈائے
نہائے دھوئے کیا بھیا جو من میل نہ جائے
مین سدا جل میں رہے، دھوے باس نہ جائے
کبیر کا بجھن سماپت ہوتا ہے تو مندر کے سامنے دیے کو جلاتے ہوئے مچھندرا جیسی اپسرا گاتی ہے کہ:
لکڑی جل کر کوئلہ بھئی، کوئلہ جل کر بھئی راکھ،
میں ابھاگن ایسی جلی، نہ کوئلہ بھئی نہ بھئی راکھ
کاش پاراشر رشی سنجوگ کا پاپ اتارتے ہوئے مچھندرا کی مکتی کے بارے میں بھی سوچتا اور کہتا میرے من کی مچھندرا بھر کبھی ملیں گے۔ میری آنکھیں بھر آتی ہیں میں ست سنگ کی محفل بھی بیش میں چھوؑ کر ساردھرو سے نکل آتا ہوں۔









