سعد رضوی اور پنجاب کے بلدیاتی الیکشن


ہوش و حواس اور جذبات میں کیے فیصلے اور سوچ بچار اور غور فکر کے بعد کیے فیصلوں میں زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ جذباتی لوگوں کے متعلق اکثر کہا جاتا ہے کہ کھرے اور سچے ہوتے ہیں لیکن بعض اوقات جذباتی لوگ جو فیصلے لیتے ہیں وہ ان کی اپنی زندگی اور ان کے قریبی افراد کی زندگی پر بہت گہرے اثرات مرتب کر جاتے ہیں۔ جبکہ ان کے مقابلے میں جو فیصلے غور فکر اور صلاح مشورے کے بعد کیے جاتے ہیں ان کے منفی اثرات کم ہی رونما ہوتے ہیں۔

مذہب میں اکثر معاملات جذبات میں آ کر کیے جاتے ہیں جبکہ سیاست میں زیادہ فیصلے غور و فکر کے بعد کیے جاتے ہیں۔ مذہب سے زیادہ لگاؤ رکھنے والے افراد کے متعلق ایک عام تاثر پایا جاتا ہے کہ یہ زیادہ جذباتی ہوتے ہیں خوا ان کا تعلق دنیا کے کسی بھی مذہب سے کیوں نہ ہو۔ تحریک لبیک پاکستان کے متعلق عوام میں ایک تاثر عام پایا جاتا ہے کہ یہ مذہبی جنونی جماعت ہے۔ سب سے پہلے ان کی جماعت کی لیڈرشپ کو اس تاثر کو زائل کرنا ہو گا۔

اس جماعت پر حکومتی وزراء نے بھارت سے فنڈنگ کے الزامات تک لگائے۔ یہ الزامات تحریک لبیک کی حالیہ مارچ کے دوران لگائے گئے۔ پھر سب نے دیکھا کہ وہ وزراء باری باری اپنے بیانات سے مکر گئے یا ان کو مجبوراً یہ بیانات دینے پڑے کہ ہمیں تحریک لبیک کے بھارت سے فنڈنگ لینے کے شواہد نہیں ملے۔ وہ الگ بات ہے تحریک انصاف کے فارن فنڈنگ کیس کے دوران کئی ممالک سے فنڈنگ کے ثبوت سامنے آ گئے۔ ایک بات تو طے ہے کہ تحریک لبیک کا کوئی ذاتی ایجنڈا نہیں ہے۔

وہ صرف اسلام کی سربلندی کے لئے سیاسی میدان میں آئے ہیں۔ لیکن اس کے لئے تحریک لبیک کو سب سے پہلے اپنی جماعت کی تنظیم سازی کرنا ہو گی۔ جب تک کسی بھی سیاسی و مذہبی جماعت جو الیکشن میں حصہ لینے کی خواہاں ہوتی ہے اس کی تنظیم سازی سب سے پہلا اور لازمی جز ہوتا ہے۔ اگر کسی جماعت کی گراؤنڈ پر پوزیشن مضبوط ہے تو وہ پھر ہی اپنا ووٹ بینک مضبوط کر سکتی ہے۔ تحریک لبیک نے حال ہی میں اپنے مرکز پر ایک بڑا پاور شو جماعت کے بانی مولانا خادم حسین رضوی صاحب کی برسی کے موقع پر کیا تھا۔

اس پاور میں تحریک لبیک کے بقول ایک ملین سے زائد لوگ تھے جبکہ میڈیا کے حلقوں کے مطابق یہ ایک اچھا پاور شو تھا جس میں کم از کم تین سے چار لاکھ افراد موجود تھے۔ اس کے بعد حافظ سعد رضوی کی دعوت ولیمہ بھی ایک بڑا اجتماع بن گیا تھا۔ سعد رضوی کے کندھوں پر اس سے بڑی ذمہ داری آ گئی ہے ابھی کل ہی ان کی شادی ہوئی ہے اب آگے پنجاب میں بلدیاتی انتخابات بھی شروع ہونے جا رہے ہیں۔ یہ سعد رضوی کا جنرل الیکشن سے قبل ٹیسٹ کیس ہوں گے ۔

بلدیاتی الیکشن میں وہی جماعت ضلعی چیئر مین، لارڈ میئر اور یونین کونسل کے چیئر مین کی نشستیں نکالنے میں کامیاب ہوتی ہے جس کی گراؤنڈ پر پاور موجود ہو۔ تحریک لبیک کا سب سے زیادہ ووٹ بینک نوجوان طبقہ ہے۔ جس جماعت کے ساتھ نوجوان ہوں وہ یقینی طور پر ایک مقبول جماعت بن سکتی ہے۔ لیکن اس کے لئے اب سعد رضوی کو ایک مضبوط اور منظم سازی کی ضرورت ہے تاکہ ان نوجوانوں کو باقاعدہ ذمہ داریاں سونپی جائیں اور ان کی تربیت کی جائے کہ کیسے اپنی جماعت کو مضبوط کرنا ہے اور کیسے بلدیاتی الیکشن میں زیادہ سے زیادہ نشستیں نکالنی ہیں۔

لاہور میں مولانا خادم حسین رضوی سے قبل مولانا مودودی صاحب پھر طاہر القادری نے سیاست کا آغاز کیا لیکن ان دونوں شخصیات کی جماعتیں پارلیمنٹ میں کوئی نمایاں جگہ حاصل کرنے میں کامیاب نہیں رہیں۔ جبکہ حافظ سعید صاحب نے اپنی جماعت تو ملک بھر میں منظم کی لیکن انہوں نے سیاسی میدان میں بہت دیر سے قدم رکھا۔ 2018 کے الیکشن سے قبل انہوں نے ملی مسلم لیگ کے نام سے سیاست کے میدان میں انٹری دی ہے لیکن وہ ناکام ہو گئی اس کے بعد پھر ان کی جماعت پر مزید پابندیاں لگ گئی۔

اس لیے سعد رضوی کے کندھوں پر بہت زیادہ ذمہ داریاں ہیں۔ لاہور میں تین مذہبی جماعتیں ان سے قبل سیاست کے میدان میں ناکام ہو چکی ہیں۔ اب پنجاب کے بلدیاتی الیکشن میں خصوصاً لاہور میں نشستیں نکالنا ان کا ٹیسٹ کیس ہو گا۔ قوی امکان ہے سعد رضوی آئندہ جنرل الیکشن میں اپنے آبائی علاقے اٹک سے ہی سیاسی میدان میں پہلی انٹری دیں گے اور شاید ان کے ساتھ شریف فیملی کے چشم و چراغ جنید صفدر بھی مانسہرہ سے آئندہ الیکشن میں انٹری دیں۔ ان دونوں نوجوانوں کا تعلق اعوان قبیلے سے ہیں اس لیے میری ان دونوں نوجوانوں کے لئے نیک خواہشات ہیں۔

Facebook Comments HS