انسانوں کی انسانیت کی قدر کریں

اس دور کا ہے صاحب زر صاحب عزت
قانون بھی اسی کا ہے جو صاحب دولت
حیرت کی آنکھ خود بھی ہے حیران یہاں پر
ہر روز لٹ رہا ہے ہر انسان یہاں پر
ٹیچرز ڈی کی مناسبت سے میں نے ہر ایک ٹیچرز سے آٹوگراف لیا۔ جس میں سب اساتذہ نے دعائیں دی۔ لیکن جو سب سے دل کو چھو لینے والا آٹوگراف تھا وہ تھا سجاد رسول سر کا (جو ہم سب کا نہ صرف پسندیدہ بلکہ آئیڈیل استاد تھے۔ بلکہ ہمارے لئے ہمیشہ رہے گے۔ )
”انسانوں اور انسانیت کی قدر کرے۔ کبھی بھی اگر قانون اور انسانیت کا تصادم اجائے تو انسانیت کے لئے قانون کو قربان کرنا بہتر ہو گا“
ان کچھ لفظوں میں سر نے بہت کچھ کہہ دیا۔ ہم واقعی انسان جب ہمارا مفاد ہوتا ہے تو ہم قوانین کی بالکل بھی پروا تک نہیں کرتے۔ لیکن جن سے ہمارا مفاد نہ جوڑا ہو یا وہ ہمارے تابع کا نہ ہو تو اس کے لئے صدیوں پرانے قوانین بھی نکال دیتے ہیں، جو کسی زمانے میں دفن کی گئی تھی۔ یا پھر نئے قوانین متعارف کروا دیتے ہیں۔
انسان کا دوسرے انسان سے رشتہ محض انسانیت کا ہے۔ اس بات کا درس ہمیں اسلام میں مختلف مقامات پر ملتا ہے کہ ہمیشہ انسانیت کو فوقیت دی گئی۔ اور ہم یہی رشتہ افسوس کہ ساتھ کہ دن بہ دن بھولتے جا رہے ہیں۔ ہمیں یہ تک یاد نہیں رہتا کہ ایک انسان کے اندر کی خود داری و جفا کشی کو ہم نے کیسے اپنے مفادات سے بھرے قوانین سے کچل دیا ہے۔ کہ اگلا پھر کبھی اگر کام کریں گا بھی تو وہ لگن جو پہلے اس میں تھی وہ دم تھوڑ دے گی۔
میں یہ تو نہیں کہہ رہی کہ ہم ہمیشہ قوانین سے بالاتر ہو کر کام کریں۔ لیکن اگر ایک انسان کی دل و جان سے مشقت کرتا ہے، تو اس کی انسانیت کو ٹھیس نہ پہنچے۔
قوانین میں تو رد و بدل کیا جا سکتا ہے لیکن ای دفعہ انسان کے دل سے خود داری کو ٹھیس پہنچ جائے تو وہ کبھی بھی واپس نہیں آ سکتا۔
معاشرے کے بگاڑ پر افر ہم ایک نظر ڈال دے تو ہر طرف یہی سب کچھ نظر اتا ہو گا۔ اپنے من پسند لوگوں کی خاطر قانون تک کو خرید لیتے ہیں۔ اور کمزور بے چارہ اپنی محنت و ایمانداری کا ٹوکرا اٹھا کر دربدر ٹھوکریں کھاتا ہے۔ جس کی وجہ سے معاشرہ بد امنی کا باعث بن جاتا ہے۔
ہم اگر اس معاشرے میں امن و امان قائم رکھنا چاہتے ہیں تو ایسے جفا کشوں کی خود داری کو محفوظ کرنا ہو گہ۔ کیونکہ کہہ ایسا نہ ہو کہ ان کا اعتبار ہر وہ چیز سے اٹھ جائے جو معاشرے میں امن کا باعث ہے۔ اور وہ ایک غلط راستہ کو اپنا لیے۔
شاید کچھ لوگ کہہ دے کہ اگر وہ اتنے خود دار ہے تو غلط کا انتخاب نہ کریں۔ تو جناب جب آپ کی خود داری کو، ایمانداری کو ٹھیس پہنچ جائے اور ہر طرف طاقت ور لوگوں کے من پسند قوانین ہو تو آپ دل برداشتہ ایسے راستے اختیار کر لیتے ہیں کہ جو اپ کا خود کا ضمیر بھی نہیں مانتا۔
مجھے نہیں پتہ کہ کون یہ پڑھے گا کون نہیں لیکن امید ہے کہ کچھ ایسے لوگ بھی پڑھ لیں۔ کہ جن کے نام نہاد قوانین سے کیسے کچھ لوگوں کی انسانیت کو ٹھیس پہنچا ہے۔ اس جہاں میں تو طاقت کے زور پر تو جیت سکتے ہو لیکن اس جہاں میں نہیں۔ وہاں ایک جفاکش کی جفا کشی کو سنا جائے گا اس کی نیک نیتی کو دیکھا جائے گا۔ ہو سکیں تو اسی دنیا میں لوگوں کے اندر کی خود داری و انسانیت کو محفوظ رکھیں۔ کیونکہ جب عرش والا حساب کرتا ہے تو روح تک سہم جاتی ہے۔ انسانیت سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں۔
انسانیت کو کچل ڈالا ہے
قوانین کو بلا تر سمجھ کے
مگر ضمیر کے سوداگر ہے
لبادہ ایمانداری کا اوڑھا ہے
ہاں! ہر چیز خرید سکتے ہے
انسانیت خرید نہیں سکتے۔

