بیچلر اور ہم چار دوست ۲

ٹھیک جس دن فرعون کی موت ہوئی تھی، اسی دن ہمارا رزلٹ آیا تھا، نتیجہ یہ نکلا کہ شرابی اور چرسی جنہوں نے بی اے کے بارے میں گھر بتایا ہوا تھا وہ دونوں مکمل پاس ہو گئے تھے۔ میں اور پوڈری جنہوں نے ’بی اے‘ پاس ہو جانے کے بعد محلے کی مسجد میں اعلان کروانا تھا وہ انگریزی میں فیل ہو گئے تھے۔
قدرت شاید ہم سے مزید امتحان لینا چاہتی تھی۔ اور یہ کیسا امتحان تھا کہ چار دوستوں میں سے دو مکمل اور دو ادھورے؟ او ہو۔
میں امتحان میں پاس ہونے کی بات کر رہا ہوں۔
ایک دن مجھے پوڈری کا فون آیا کہتا کہ
جواری ’بات سن۔
میں نے کہا بول
کہنے لگا سپلی کے لئے داخلہ جا رہا ہے بھیج دیں؟
میں نے کہا داخلے کے علاوہ کوئی حل؟ تو کہنے لگا کہ یہ ہی آخری حل ہے۔ چلو کل داخلہ بھیجتے ہیں اور انگریزی پاس کر کے یونیورسٹی میں داخلہ لیتے ہیں۔ میں ہاں کر کے فون کر بند گیا۔ آپ سوچ رہے ہوں، اوپر جواری مجھے کہا گیا ہے لیکن کیوں؟ میں جوے والا جواری نہیں ہوں۔ یہ میرا بھی صفاتی نام ہے۔ کیونکہ میں لفظوں کے ساتھ جوا کھیلتا ہوں۔ اور ابھی بھی وہی کھیل رہا ہوں۔ اور یہ کم بخت لفظ کبھی ساتھ دیتے ہیں تو کبھی نہیں، ٹھیک ویسے ہی جیسے ہم گھر والوں کو دغا دے رہے تھے۔
میرا تعارف بھی باقیوں جیسا تھا۔ بھلوال میں عارضی رہائش پذیر تھا۔ اور شہر میں رشتے داروں کے پاس ہاسٹل رکھا ہوا تھا۔ کیونکہ پطرس بخاری کی طرح میرے گھر والوں کو بھی کسی نے بتا رکھا تھا۔ کہ پرائیویٹ ہاسٹل مغرب کی سازش ہیں۔ اور ان ہاسٹلوں میں سازش شروع بھی مغرب کے بعد ہی ہے۔ اس لیے میں رشتے داروں کے پاس رہتا تھا۔ جس سے کالج چھوڑنے والی اداکاری کام کر رہی تھی نہیں تو گھر میں ماں کی نظریں ساری اداکاری نکال دیا کرتی ہیں۔ ماں سے بڑا کوئی ڈائریکٹر نہیں ہے۔
اس سے پہلے کہ گھر سے نکالے جائیں، ہم نے انگریزی کا داخلہ متعلقہ حکام کو بھیج کر ذمہ دار طالب علم ہونے کے علمی ثبوت دیے تھے۔ لیکن کارروائی پھر ڈیٹ شیٹ تک ملتوی کر دی تھی، اسی دوران شرابی نے ایک نوکری پکڑ لی تھی اور چرسی نے مخلوط تعلیمی نظام کے گڑھ، یونیورسٹی میں داخلہ لے کر ہمارے لئے انگریزی کو صرف ایک سپلی نہیں چیلنج بنا دیا تھا۔ تاکہ ہم چیلنج پورا کر کے ستر سو حوروں کے گڑھ میں تعلیم حاصل کر سکیں۔ جس کو پورا کرنا اب ہمارے لئے ہمارا سب سے بڑا انسانی مقصد بن چکا تھا۔
اور اسی مقصد کو پورا کرنے کے لیے تیار کا آغاز کیا گیا، ہمیں چند ذرائع سے بتایا گیا تھا، کہ سپلی کا پرچہ آسان ہوتا ہے اور وہ ویسے ہی پاس کر دیا کرتے ہیں۔ آپ نے بس کچھ نا کچھ لکھ کر آ جانا ہے، باقی کرامن اور کاتبین خود دیکھ لیں گے۔ اور یہ بھی بتایا گیا کہ انگریزی کے دو پرچے ہوتے ہیں یعنی اے اور بی، تو اگر آپ کسی ایک میں مکمل پاس ہیں تو وہ پرچہ نا ہی دیں، تو اچھا ہے۔ کیونکہ فضول میں آپ کا قیمتی وقت ضائع ہو گا۔ ہاں دوسرا فیل شدہ پرچہ آپ کو دینا پڑے گا۔ نہیں تو گھر والے آپ پر پرچہ دے دیں گے۔
پیشی کا وقت قریب آ رہا تھا اور ہم ذرائع سے فراہم کی گئی معلومات کے سائے میں سکون کی نیند سو رہے تھے۔
اچانک ایک دن پوڈری کا فون آیا، کہ میں سپلی کے پرچے کے لئے تیار نہیں ہوں۔ اس لئے اخلاقی طور پر مجھے پیپر دینا ہی نہیں چاہیے۔ میں نے کہا پرچہ نہیں دینا تو نا دے لیکن اپنی ناکامی کا چرچا تو مت کر۔ کہنے لگا تو امتحان دے کر آزما لے آخر میں بھی تیرا ہی دوست ہوں۔
اس آخری جملے پر میرا دل اچھل کر باہر تو آیا کہ پوڈری کی بات میں پوڈر نظر تو آ رہا ہے، لیکن فیس کے پیسے تو پورے کرنے ہی تھے۔ اس لئے پرچے کو سنجیدہ لے کر میں امتحانی مرکز پہنچ گیا۔ پرچہ اے میرا پاس تھا، اس لئے میں گیا اور حاضری لگا کر آ گیا کہ کہیں نظر نا لگ جائے۔ سارا ہال میرے اعتماد کا مداح بن چکا تھا کہ اتنی اکڑ؟ خیر پرچہ بی دینے کے لئے جب میں ہال پہنچا تو میرے آگے اور پیچھے والے طالب علموں نے مجھے کہنا شروع کر دیا کہ جو آتا ہوا وہ ہمیں بھی بتانا۔
اعتاد قائم رکھتے ہوئے چند سالوں کے جواب ارد گرد بتاتا رہا اور اپنا اعمال نامہ حل کرتا رہا۔ مکمل پرچہ حل کرنے کے بعد محسوس ہو رہا تھا کہ میں ہی صرف گورا ہوں۔ یہ جتنی انگریزی میں نے لکھی ہے، وہ کسی گورے کو بھی سمجھ نہیں آئے گی۔ خیر یہ خوش فہمیاں تھیں۔ آہستہ آہستہ ختم ہوتی گئیں اور پھر نتائج کا انتظار تھا۔ زندگی سٹاک ایکسچینج پر لگی ہوئی تھی۔ اور مسلسل مندی کا شکار ہو رہی تھی۔ ایسے میں ایک دن پوڈری نے بتایا، کہ اس نے تو گھر بتا دیا ہے کہ میں نے کالج چھوڑ دیا ہے اور بی اے کا امتحان پاس کر لیا ہے۔ جس کے بعد میرے پاس بھی گھر کھرا سچ بتانے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ یہ کام حالات کے اعتبار سے آسان بھی ہو چکا تھا۔ وجوہات ایسی بن چکی تھیں کہ میں والد کے قوانین سے بغاوت کر چکا تھا، جس کی وجہ سے کالج چھوڑنے اور بی اے والی خبر پر کسی نے کان ہی نا دھرے۔ لیکن میں نے پاس ہونے والا کالا جھوٹ نہیں بولا تھا۔ میں نے شرم کو پی کر بتا دیا تھا کہ انگریزی فیل ہے پاس کر لوں گا۔
اور اسی دوران نتائج بھی برآمد ہو گئے۔ ایسا لگ رہا تھا کہ ہم قیامت کے دور میں جی رہے ہیں امتحان کے نتائج کا اتنا جلدی آنا کسی قیامت سے کم بھی نا تھا۔ اور جس طرح کے نتائج نمودار ہوئے تھے وہ کسی عذاب سے کم نہ تھے۔ انگریزی کا پرچہ اے جو پہلے سے ہی پاس تھا۔ جس کے پرچے میں میں بس حاضری لگانے گیا تھا وہ فیل تھا اور دوسرا پرچہ جس کو میں نے مکمل ہوش و حواس کے اندر رہ کر دیا تھا وہ پاس تھا۔ یعنی معلومات کے خزانے دینے والوں نے میرے ساتھ وہی سلوک کیا جو میں ماضی میں انگریزی کے ساتھ کر چکا تھا۔ معلوم کرنے پر بتایا گیا کہ وہ قانون تبدیل ہو گیا ہے۔ اب دونوں پرچے ایک ساتھ ہی دینے پڑتے ہیں۔ پوڈری نے جب یہ سنا کہ میرے ساتھ ایسا سلوک ہوا، کہنے لگا میں نے پہلے ہی کہا تھا اگلی بار ایک ساتھ پرچے دیں گے۔ اور ایک ساتھ ہی پاس ہوں گے۔
اور اب ہم اگلی پیشی کا انتظار کرنے لگ گئے تھے۔ مطلب چار ماہ اور گزارنے تھے۔ اور ہم دونوں کا حال اس لڑکی جیسا ہو چکا تھا جس نے بھاگ کر شادی کی ہو اور شادی کے بعد لڑکا بھاگ گیا ہو۔ اس سے تو بہتر تھا کہ ہم جس ڈگری میں پڑھ رہے تھے وہیں پڑھتے رہتے۔ لیکن اب ایسے خیالات کا آنا فطرتی عمل تھا۔ جس طرح مرغی انڈوں پر بیٹھتی ہے۔ ہم بھی قسم کے انڈو پر بیٹھ گئے اور داخلوں کے وقت کا انتظار کرنے لگے۔ اور انتظار کسی قرب سے کم نہیں ہوتا۔ اسی انتظار کے دوران مجھے بھی ایک نوکری مل گئی۔ جس سے تھوڑا سا سکون حاصل ہوا لیکن مہینے کے بعد یہ سکون بھی ختم ہو گیا۔ اور یہ سکون ختم ہوا، تو دوسرا بے سکون وقت شروع ہو گیا تھا۔
کیونکہ سپلی کے داخلے کھل گئے تھے۔ اور ہم دو ایک بار پھر داخلہ بھیجنے کے لئے لائنوں میں لگے ہوئے تھے۔ اور حالت یہ ہو چکی تھی، کہ داخلہ بھیجنے والا عملہ بھی ترچھی نگاہوں سے دیکھنے لگا تھا۔ لیکن ہم گھبرائے نہیں، کیونکہ گھبرانے کی آخری سٹیج سے ہم اسی دن گزر گئے تھے۔ جس دن ہم نے تین سال کی ادھی سے زیادہ ڈگری کو لات مار کر بی اے کا پروگرام بنایا تھا۔ اور پھر بی اے پروگرام بھی ناکام ہو چکا تھا۔
اس لئے ہم معمول کے مطابق پرچے دے اور وصول کر رہے تھے۔ جس سے ہمارے اعتماد میں معمول سے ہٹ کر اضافہ اور غیرت میں کمی واقع ہوتی جا رہی تھی۔ لیکن ہم پھر بھی پر اعتماد تھے کہ دوسری دفعہ سپلی اور تیسری دفعہ انگریزی کا پرچہ ہمیں بالکل بھی مایوس نہیں کرے گا اور پھر ایسا ہی ہوا۔ (جاری ہے )

