پچھتر سالہ پنچایت


دسویں جماعت کے سلیبس کا رٹا لگا لگا کر تھوڑی دیر کے لئے جو سوشل میڈیا کھولا تو جگہ جگہ حکومت کو چلتا کرنے کی پوسٹس خالی شاپنگ بیگز کی طرح ادھر ادھر اڑ رہی تھیں۔ ان پوسٹس پر عوام کا ردعمل مجھے پرائی شادی میں عبداللہ دیوانہ جیسا لگا جو ہر کسی کی شادی پر دیوانہ وار دھمال ڈالنے کو تیار کھڑا ہو اور یہی نہیں جناب فواد چوہدری صاحب فرماتے ہیں کہ ملک میں بہترین جمہوریت ہے کہ ڈیڑھ سو سے تو زیادہ ٹی وی چینلز ہیں ہمارے پاس۔ تو گویا ٹی وی چینلز کی موجودگی جمہوریت ہی تو ہے۔

ہمارے ملک میں جیسے ہی حکومت تیسرے سال میں داخل ہوتی ہے تو ملک کی منی پارٹیاں ایکشن میں آ جاتی ہیں۔ منی سے مراد مینی یعنی چھوٹی اور منی یعنی انگریزی والا منی ہے۔ حیرت اس بات کی ہے کہ اپوزیشن کی وہ پارٹیاں جو آئین کی کتاب ہاتھ میں لے لے کر ہمیں جمہوریت اور ہمارے حقوق پڑھاتے رہے وہی آج ادھر ادھر سے لوگ اکٹھے کرنے لگے ہیں تاکہ منتخب جمہوری حکومت کو دھکا لگا کر ماضی کی بدترین روایت کو برقرار رکھا جائے۔ یہ رویہ شرمناک ہی نہیں بلکہ سیاسی ناپختگی ہی کا ثبوت ہے۔ نہ جانے کیوں ہم جمہوری رویوں اور جمہوری روایات کو پروان چڑھنے ہی نہیں دیتے۔

میں نے نویں جماعت کی اردو کتاب میں ایک سبق ”پنچایت“ پڑھا تھا جس میں الگو سیٹھ اپنی بزرگ خالہ سے خوشامد اور دھوکے سے اس کی زمین اپنے نام لگوا لیتا ہے اور جیسے ہی ہبہ اس کے نام ہو جاتا ہے وہ اپنی اصلیت دکھانا شروع کر دیتا ہے۔ عوام بھی مجھے وہی بوڑھی خالہ لگ رہی ہے جس کے وسائل کو حکومت اپنی نا اہلی کی وجہ سے ضائع کرتی ہے اور ملک کی پنچایت جس میں اپوزیشن اور کچھ اور قوتیں فیصلہ کن پوزیشن میں ہوتی ہیں مزید بے رحمی اور نا انصافی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پھر سے وہی کھیل کھیلتے ہیں جو پہلے کھیلا گیا۔

اگر بوڑھی خالہ اپنی آنکھیں کھلی رکھے اور محض نان نفقے کی خاطر سب کچھ دوسروں کے نام کرنے کی بجائے اپنی زمین کا بہترین استعمال کر کے اپنی زندگی کا اچھا سا بندوبست کر لے اور خود کو دوسروں کا محتاج نہ کرے۔ اچھے اور برے میں تمیز سیکھ لے اور طوطا چشم رشتوں اور مفاد پرست، لالچی، اقتدار کی بھوکی پنچایت کی اصلیت کو سمجھ جائے تو اس کا ہی نہیں بلکہ اس کی آنے والی نسلوں کا بھی بھلا ہو جائے۔

آئیے ہم سب عہد کریں کہ ہم اپنے ملک میں الیکشن الیکشن کھیلنا کم کریں اور جمہوری اقدار کو سمجھ کر اصولوں کی سیاست کا خیر مقدم کریں۔ آئیے شخصیت پرستی سے نکل کر مستقبل کو دیکھیں۔ آئیے ہم اپنی اپنی غلطیوں کو تلاش کریں تاکہ ان کو نہ دہرائیں اور آئیے گرتی ہوئی دیواروں کو ایک دھکا اور دے کر اپنے پاؤں مزید زخمی ہونے سے بچائیں کہ پھر یہ روایتی سیاست دان ہمارے زخمی پیروں سے الیکشن کے دنوں میں بھنگڑا نہ ڈلوائیں بلکہ ہمارے سامنے اپنے کیے گئے جھوٹے وعدوں، غلط فیصلوں اور اور ناکام پالیسیوں کے لیے جوابدہ ہوں۔ اور ہم پر مسلط پچھتر سالہ پنچایت عملی طور پر غیر موثر ہو جائے جو نا اہل حکمرانوں کو ہم پر مسلط کرنے کے لئے حالات بناتی ہے۔

Facebook Comments HS