کاش حکومت اپنا آخری دعوی ہی پورا کر لیتی
پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے آئندہ دو روز میں کوئی خوشخبری سنانے کا عندیہ دیا ہے، یہ خوشخبری ممکنہ طور پر تحریک عدم اعتماد بھی ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب حکومت نے بھی اپنے دفاع میں ہاتھ پیر مارنا شروع کر دیے ہیں۔ اتحادیوں کی حمایت یقینی رکھنے کے لیے وزیراعظم صاحب خود میدان میں آ گئے ہیں اور انہوں نے لاہور میں چوہدری برادران کی رہائشگاہ پر ق لیگ کے سربراہ چوہدری شجاعت کی عیادت بھی کی ہے۔ اس ملاقات میں کیا باتیں ہوئیں اس متعلق بہت سی متضاد خبریں ہیں۔
پیر کے روز وزیراعظم نے عوام سے خطاب کر کے چند اعلانات بھی کیے۔ وزیراعظم کی نیت پر شک نہ بھی کیا جائے اور صدق دل سے اس بات پر یقین کرنے کے بعد بھی کہ عمران خان صاحب سے بڑھ کر آج تک ملک و قوم کا درد رکھنے والا حکمران وطن عزیز کو نصیب نہیں ہوا۔ سوال لیکن پھر بھی پیدا ہوتا ہے کہ حالیہ خطاب میں وزیراعظم صاحب نے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کی خاطر جو اعلانات کیے ہیں قومی خزانہ یہ وعدے پورے کرنے کا متحمل ہو سکتا ہے اور کیا حکمراں جماعت اپنا اقتدار بچانے کی خاطر ملکی معیشت اور سلامتی داؤ پر لگانے نہیں جا رہی؟
یہ سوال اس لیے پیدا ہو رہے ہیں کیونکہ تین سال تک آئی ایم ایف قرض کی اقساط کے لیے ہم ناک سے لکیریں نکالتے رہے پھر بھی ہماری مالی ضروریات پوری نہیں ہوئیں اور چند ماہ قبل سعودی عرب سے بھی قرض حاصل کرنا پڑا جس کی شرائط آئی ایم ایف کے ساتھ ہوئے معاہدے سے بھی زیادہ سخت ہیں۔ سٹیٹ بنک آف پاکستان اور سعودی فنڈ برائے ڈویلپمنٹ کے مابین ہونے والے اس معاہدے کی رو سے 3 ارب ڈالر پاکستان کے زر مبادلہ ذخائر کے اکاؤنٹ میں رکھے جائیں گے جن پر سالانہ چار فیصد سود لاگو ہو گا اور پاکستان اس رقم کو خرچ کرنے کا مجاز تک نہیں ہو گا۔
مذکورہ معاہدے سے متعلق کسی تنازع کی صورت میں معاملہ سعودی قانون کے تحت زیر سماعت لایا جائے گا۔ معاہدہ کی شرائط کے مطابق اگر کسی وجہ سے پاکستان دیوالیہ قرار پا جائے تو سعودی عرب کو یہ حق حاصل ہو گا کہ وہ پاکستان کے کسی بھی بین الاقوامی اثاثے کو ضبط کر کے اپنی رقم وصول کر سکتا ہے۔ پچھلے قرض کی شرح سود 3.2 فیصد تھی مگر حالیہ قرض میں سود کی شرح میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ معاہدے کی ایک اور شرط یہ ہے کہ پاکستان سعودیہ کے مطالبہ پر 72 گھنٹوں میں اس کی رقم واپس کرنے کا پابند ہے اور اگر کسی وجہ سے پاکستان ایسا نہ کر سکا تو سعودی عرب اسے دیوالیہ قرار دینے کا حق رکھتا ہے۔
اس کے علاوہ آئی ایم ایف کی رکنیت ختم ہونے کی صورت میں بھی سعودی عرب پاکستان کو دیوالیہ تصور کر سکتا ہے۔ تحریک عدم اعتماد کے متعلق اب تک اپوزیشن اپنا لائحہ عمل سامنے نہیں لے کر آئی مگر صاف نظر آ رہا ہے کہ حکومت مکمل طور پر بوکھلا چکی ہے۔ پچھلے ساڑھے تین سال میں جب بھی مہنگائی اور عوام کی مشکلات کے متعلق حکومت سے سوال ہوا یہی جواب سننے کو ملتا تھا کہ حکومت مہنگا تیل اور بجلی خرید کر سستے داموں نہیں دے سکتی۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ اب اچانک پھر خزانے میں کہاں سے پیسہ آ گیا کہ ایسے وقت میں جب تیل پیدا کرنے والے ممالک بھی قیمتیں بڑھا رہے ہیں ہمارے ہاں حکومت نے کمی کا اعلان کر دیا۔ ماضی کی حکومتوں کو حکمراں جماعت تین سال یہ طعنہ دیتی رہی کہ اپنے سیاسی مفاد میں وہ ملکی قرض میں اضافہ کرتی رہیں اب اپنے ان حالیہ اقدامات کو حکومت کس طرح جسٹیفائی کر سکتی ہے؟ وزیراعظم کی تقریر کے بعد کوئی ابہام باقی نہیں رہا کہ ان کے پیش نظر بھی صرف سیاسی مفاد ہے ورنہ حکومت ایسے اعلانات نہیں کر سکتی تھی جو عموماً ہمارے ہاں حکومتیں وقت رخصت اپنی گرتی مقبولیت کو سہارا دینے کے لیے کرتی ہیں۔
اپنے اعلان کے دفاع میں وزیراعظم صاحب کا فرمان ہے کہ ان کی حکومت نے رواں مالی سال ریکارڈ ٹیکس اکٹھا کیا اور اب وہ پیسہ عوام کو ریلیف دینے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ پتہ نہیں وزیراعظم صاحب اتنے سادہ ہیں یا وہ عوام کو بیوقوف بنانے کی کوشش کر رہے ہیں ورنہ واقعتاً یہی بات ہوتی تو چند ہفتے قبل آئی ایم ایف کے دباؤ پر مزید چھ سو ارب غریب عوام کی جیب سے نکالنے کے لیے منی بجٹ منظور کرانے کی ضرورت نہ پڑتی۔
جو مرضی تاویلیں پیش کی جائیں اصل بات یہی ہے کہ حکومت اب اپوزیشن کے سیاسی دباؤ کا مقابلہ کرنے کے لیے اس قسم کے مقبول فیصلے کر رہی ہے۔ ورنہ جو اعلانات اب کیے گئے ہیں موجودہ حالات میں ان سے کوئی ایک بھی حکومت کے لیے قابل عمل نہیں ہے۔ حقائق یہ ہیں کہ خود سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس وقت حکومت کو ریکارڈ مالیاتی خسارے کا سامنا ہے۔ قومی خزانے کی اس وقت یہ حالت ہے کہ روزمرہ اخراجات پورے کرنے بھی قرض لیے بغیر حکومت کے لیے ممکن نہیں رہے اور آئی ایم ایف کے دباؤ پر منظور کرائے گئے اسٹیٹ بنک کے نئے ایکٹ کے بعد کوئی بنک بھی مزید قرضہ فراہم کرنے تیار نہیں ہو گا۔ چند دن قبل تک اسی حکومت کے وزیر کہہ رہے تھے حکومت مہنگی بجلی خرید عوام کو سستے داموں کس طرح فراہم کرے۔ گردشی قرضہ اس وقت آسمان کو چھو رہا ہے جس حکومت کو اندازہ ہو کہ اس نے کاروبار مملکت آگے بھی چلانا ہے بجلی کی قیمت کم کرنے کی اس وقت متحمل ہو سکتی ہے؟
اقتدار میں آنے سے قبل تحریک انصاف قرض کے خلاف باتیں کرتی تھی اور خود وزیراعظم فرماتے تھے کہ وہ قرض حاصل کرنے کے بجائے خودکشی کو ترجیح دیں گے کیونکہ اس سے ملکی خود مختاری داؤ پر لگتی ہے۔ موجودہ دور میں ملکی قرض میں جتنا اضافہ ہوا تاریخ میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔ اسٹیٹ بنک کی ویب سائٹ کے مطابق اس وقت ملکی قرض پچاس ہزار ارب روپے کا ہندسہ کراس کر چکا ہے اس کے علاوہ ہمیں تیس ارب ڈالرز کے قریب کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا سامنا ہے۔
اس کے باوجود حکومت اگر اس قسم کے وعدے کر رہی ہے جنہیں پورے کرنے کی قومی خزانے میں سکت نہیں تو لازما اس کے لیے دوبارہ کاسہ گدائی اٹھانا پڑے گا۔ موجودہ وزیر خزانہ شوکت ترین نے آئی ایم ایف کی شرائط سے روگردانی کا اشارہ دیا اس کا کیا نتیجہ نکلا سب کے علم میں ہیں۔ اب جب کھلم کھلا اس معاہدے کی شرائط پامال کیں جائیں گی تو اس کا ملکی معیشت پر کیا اثر پڑے گا حکومت اچھی طرح جانتی ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ حکومت کو اپنے اقتدار پر چھائے خطرات نظر آ رہے ہیں اسی لیے وہ آنے والوں کے لیے مشکلات کھڑی کر رہی ہے۔ اقتدار میں آنے سے قبل تحریک انصاف نے انگنت وعدے کیے جن میں سے کوئی ایک بھی وفا نہیں ہوا۔ کاش عمران خان صاحب اپنا یہی قول نبھا لیتے کہ ماضی کے حکمرانوں کی طرح وہ قومی خزانے کو اپنے سیاسی مفاد کے لیے استعمال کرنے پر یقین نہیں رکھتے۔


