قطب مینار اس دور کے فن تعمیر کا ایک شاہکار


کیا وجہ ہے کہ شمالی ہندوستان کی پہلی بڑی مسجد قوت الاسلام میں نماز کی اجازت نہیں ہے؟
1996 ء میں دہلی کے سفر میں جو جانا، جو سنا، جو سمجھا، اس کی ایک جھلک پیش ہے۔

قطب مینار آٹھ سو سال پرانا ایک تاریخی مینار ہے جو نیو دہلی کے مغرب میں علاقہ مہرولی میں بنایا گیا تھا۔ مہرولی میں قطب مینار کے ساتھ مسجد قوت الاسلام بھی موجود ہے۔ اس کے ساتھ وہاں پر اور بھی کئی پرانی عمارتیں پائی جاتی ہیں۔ کہتے ہیں کہ کسی وقت یہاں پر ایک راجہ کا قلعہ بھی تھا جس کا نام لال کوٹ تھا۔

آج میں نے قطب مینار اور اس کے قرب و جوار میں واقع مختلف تاریخی مقامات کو دیکھنے کا پروگرام بنا رکھا تھا۔ میں جب اس علاقے میں گیا تو میرا پہلا تاثر یہ تھا کہ یہ ایک بہت وسیع علاقہ ہے اور دہلی شہر کی نسبت اونچائی پر بھی واقع ہے۔ میں نے اس علاقے میں چند مقامات پر پتھر کی کٹائی وغیرہ کا کام بھی ہوتے دیکھا تھا (جو بعد میں پتا چلا کہ بند کر دیا گیا ہے ) ۔ اس سے مجھے تھوڑا سا اندازہ ہوتا ہے کہ دہلی کے ارد گرد چھوٹی چھوٹی پہاڑیاں بھی موجود ہیں۔ مجھے مہرولی کو دیکھ کر یوں لگا کہ اونچائی پر ہونے کی وجہ سے دفاعی نقطۂ نظر سے یہ ایک محفوظ مقام تھا۔ اسی لیے یہاں پرانے وقتوں میں حکمرانوں نے قلعہ بنایا تھا۔

محمود غزنی کے حملوں کے 190 سال بعد محمد غوری نے دلی پر حملہ کیا۔ محمد غوری کا تعلق موجودہ افغانستان کے مرکزی حصے غور سے تھا جو کابل کے جنوب میں اور قندھار کے مغرب میں واقع ہے۔ اس نے یہاں پر کئی جنگیں لڑیں اور بہت سے مقامی ہندو حکمرانوں کو شکست دی۔ غوری کے متعلق ابھی تک یہ طے نہیں ہے کہ وہ پختون تھا یا ترک لیکن ایک بات طے ہے کہ اس کی مادری زبان فارسی تھی۔

اس نے اکثر حملے درہ گومل کے راستے کیے اور ملتان سے ہندوستان میں داخل ہوا۔ اس لیے ملتان کو ہندوستان کا دروازہ بھی کہتے تھے۔ اس نے 1191 ء میں خیبر پاس کے ذریعے ہندوستان پر ایک بڑا حملہ کیا اور ہریانہ کے علاقے تھانیسر کے پاس پرتھوی راج چوہان کے ساتھ اس کی جنگ ہوئی۔ اس جنگ میں تقریباً تین لاکھ کی تعداد میں راجپوت شریک تھے اور غوری کے ساتھ ایک لاکھ بیس ہزار کی فوج تھی۔ ایک گھمسان کی جنگ کے بعد غوری یہ جنگ جیت گیا۔

اس کے بعد اس نے ہندوستان میں اپنی سلطنت کا باقاعدہ اعلان کر دیا اور افغانستان واپس نہ جانے کا فیصلہ کیا اور دلی کو اپنے ایک ترک سردار، قطب الدین ایبک کے حوالے کر کے موجودہ پاکستان کے علاقے میں آ گیا۔ 1206 ء میں جہلم کے علاقے میں اس کی وفات ہوئی اور جہلم کے پاس ہی سوہاوہ کے مقام پر اس کا مزار بنایا گیا جو اب بھی قائم ہے۔

اس کی وفات کے بعد اس کے گورنر قطب الدین ایبک نے اپنے بادشاہ ہونے کا اعلان کیا اور سلاطین دلی کے نام سے اپنی حکومت کا آغاز کیا۔ یوں ہندوستان میں باقاعدہ ایک مسلمان ریاست کا قیام عمل میں آیا۔ سلاطین دلی کا راج کسی نا کسی صورت میں 1206 ء سے 1526 ء تک شمالی اور وسطی ہندوستان کے بیشتر علاقوں میں قائم رہا۔ تقریباً تین سو بیس سال سلاطین دلی کے نام سے یہ حکومت چلتی رہی۔ پھر بابر نے ابراہیم لودھی کو جو کہ افغان تھا شکست دے کر مغلیہ سلطنت کی بنیاد رکھی۔

قطب الدین ایبک نے اس علاقے کو فتح کرنے کی خوشی میں 1198 ء میں مسجد قوت الاسلام کی تعمیر شروع کی۔ یہ مسجد ہندوستان کی سب سے پرانی مسجد تو شاید نہ ہو لیکن قدیم مساجد میں اس کا شمار ضرور ہوتا ہے۔ مسجد کے ساتھ قطب الدین ایبک نے ایک بلند مینار تعمیر کروانے کا بھی فیصلہ کیا جس کا نام قطب مینار رکھا گیا۔ یہ نام رکھنے کی وجہ ایک نہایت قابل احترام صوفی خواجہ قطب الدین بختیار کاکی ہیں۔ اتفاق سے بادشاہ کا نام بھی قطب تھا۔ یہ بھی ایک دلچسپ بات ہے کہ قطب الدین ایبک لاہور میں پولو کھیلتے ہوئے گھوڑے سے گر کر فوت ہو گیا تھا۔ اگر آپ لاہور میں واقع لوہاری گیٹ کی طرف سے نئی انارکلی میں داخل ہوں تو آپ اپنے بائیں طرف قطب الدین ایبک کا مزار دیکھ سکتے ہیں۔

قطب مینار کی بلندی 240 فٹ ہے اور اس کی بنیاد کی چوڑائی پچاس فٹ کے قریب ہے جو اوپر جاکر نو فٹ رہ جاتی ہے۔ مینار کے اندر گول سیڑھیاں اوپر جاتی ہیں جن کی تعداد 380 ہے۔ پہلے لوگوں کو اوپر جانے کی اجازت تھی لیکن 1981 ء میں بھگدڑ کی وجہ سے بہت سے لوگ ہلاک ہو گئے۔ اس کے بعد سے اب اوپر جانا منع ہے۔ آپ صرف باہر سے ہی مینار کو دیکھ سکتے ہیں۔

میں کافی دیر تک اس مینار کے سامنے ایک جگہ بیٹھ کر اس کی کاریگری کو دیکھتا رہا۔ آپ خود اندازہ کریں کہ اس وقت آمدورفت کے ذرائع بھی بہت کم تھے اور سائنس نے بھی اتنی ترقی نہیں کی تھی لیکن اتنے بلند مینار کی سیدھ میں صرف بیس انچ کا ٹیڑھا پن ہے، جو خطر ناک نہیں سمجھا جاتا، یہ کیسے ممکن ہوا؟ اس کام کے لیے جتنی مہارت اور علم کی ضرورت تھی اس کا صحیح اندازہ ماہرین تعمیرات ہی کر سکتے ہیں۔ اس سے میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ آج سے ایک ہزار سال قبل بھی ہندوستان کے لوگوں کے پاس اتنا علم ضرور تھا جسے استعمال کر کے انھوں نے اتنی شاندار عمارتیں تعمیر کیں۔

مغلوں کی تعمیر میں نا صرف بہت وسعت ہوتی ہے بلکہ پیسے کا استعمال بھی بہت زیادہ ہوتا ہے۔ جبکہ اس مینار میں کاری گری کی انتہا ہے۔ یہ معمولی مینار نہیں ہے بلکہ اسے غور سے دیکھیں تو معلوم ہو گا اس کے چاروں طرف بہت خوبصورت کام کیا گیا ہے۔ قرآنی آیات بھی لکھی ہوئی ہیں اور یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اسے بہت ہی ذہین اور تربیت یافتہ کاریگروں نے بنایا ہے۔ ہندوؤں کا یہ کہنا ہے کہ اس جگہ پر ان کے ایک بھگوان وشنو کی چوتھی صدی کی نشانی بھی موجود ہے۔ مختلف اوقات میں مینار کو آسمانی بجلی اور زلزلوں سے نقصان پہنچا لیکن اس کی مرمت بھی ہوتی رہی۔

مجھے اس مینار کو دیکھ کر احساس ہوا کہ یہ کہنا مناسب نہیں ہے کہ اس وقت مسلمان سائنس نہیں جانتے تھے۔ ایک ہزار سال پہلے دو سو چالیس فٹ بلند مینار کی تعمیر، جو آج بھی اپنی بنیادوں پر کھڑا ہے، اس کے اوپر بے شمار نقش و نگار، اس کے لیے کتنی مضبوط بنیاد چاہیے تھی، کس طریقے سے سامان اوپر لے کر جانا تھا اور اس میں کیسا رنگ و روغن استعمال کرنا چاہیے تھا جو اب تک بھی موجود ہے، پتھر جوڑنے کے لیے کیا مٹیریل استعمال کیا گیا، میں سمجھتا ہوں کہ یہ سب کچھ تعمیر کی انجینئرنگ سمجھے بغیر ممکن نہیں ہے۔ یقیناً اسے بنانے والے یہ سب معلومات بہت اچھے طریقے سے رکھتے تھے۔ تب ہی انھوں نے ایک ایسا مینار بنایا جو آٹھ سو سال سے زلزلے بھی برداشت کر رہا ہے اور گرمی سردی میں بھی اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

عمومی طور پر ایک بات کہی جاتی ہے کہ کتنا اچھا ہوتا اگر اس مینار کی جگہ پر ایک بڑی درسگاہ ہوتی۔ میں تو یوں کہوں گا کہ مینار کے ساتھ درسگاہ ہوتی تو زیادہ بہتر تھا۔ مینار کی اہمیت اپنی جگہ اور یونیورسٹی کی ضرورت اپنی جگہ ہے۔ دونوں ایک دوسرے کا نعم البدل نہیں ہو سکتے۔

میں آج تک جن عمارتوں کی کاریگری سے متاثر ہوا، ان میں یہ عمارت بھی شامل ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ آپ تصاویر سے اس عمارت کی شان و شوکت کا اندازہ کر سکتے ہیں۔ یہ مینار دیکھنے سے ہی تعلق رکھتا ہے کیونکہ کہ اس کی اونچائی بہت زیادہ اور چوڑائی کم ہے۔ اسی وجہ سے تصاویر سے اس کا اصل حسن ظاہر نہیں ہوتا۔

قطب مینار کے متعلق ایک بہت ہی مفید مضمون مرینالینی راجا گوپلان ایک مضمون

A Medieval Monument and Its Modern Myths of Iconoclasm: The Enduring Contestations over the Qutb Complex in Delhi, India

کے نام سے ایک کتاب میں لکھا ہے۔ یہ ایک انتہائی مفید کتاب ہے۔ میں نے اس کتاب میں بھی پڑھا ہے کہ چند ہندوؤں نے مسجد قوت الاسلام میں ہندو طریقہ سے عبادت کرنے کا اعلان بھی کیا۔ جس کی عام لوگوں نے سخت مخالفت کی۔

یہ مسجد بہت بڑے صحن کے ساتھ ایک عمارت پر مشتمل ہے۔ اس کی تعمیر مینار سے بھی پہلے 1198 ء میں شروع ہوئی تھی۔ ایک عجیب بات میرے لیے باعث حیرت تھی اور آپ بھی اسے آسانی سے قبول نہ کر سکیں گے لیکن یہ حقیقت ہے کہ جب میں مسجد کی سیر کر رہا تھا تو میرے گائیڈ نے بتایا کہ ستائیس مختلف مندروں کو توڑ کر اس مسجد کے ستون بنائے گئے تھے۔ میں نے اس کا چہرہ غور سے دیکھا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔ مجھے لگا شاید یہ ایک ہندو ہے اور میں مسلمان ہوں اسی لیے وہ جان بوجھ کر ایسی بات کر رہا ہے۔

میں نے اس سے پوچھا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ مندروں کا سامان مساجد میں استعمال ہوا ہو؟ قطب الدین ایبک تو خود ایک بہت ہی مذہبی آدمی تھا اور اس کی خواجہ بختیار کاکی سے بھی بہت زیادہ عقیدت تھی۔ گائیڈ نے میری بات سن کر کہا کہ میں آپ کو کچھ چیزیں دکھاتا ہوں۔ اس نے مسجد کے چاروں طرف برآمدے میں لگے ہوئے بے شمار ستون دکھائے جن پر مختلف بتوں کی تصویریں تھیں جو عام طور پر مندروں میں ہوا کرتی ہیں۔ ان میں سے متعدد تصاویر کو کھرچ کر ختم کرنے کی کوشش بھی کی گئی لیکن کچھ تصاویر تا حال موجود تھیں۔

میں نے گائیڈ سے مزید جاننا چاہا تو اس نے بتایا کہ اس مسجد کے برآمدے میں جتنے بھی ستون ہیں سب ہندؤں اور جین مندروں سے لائے گئے ہیں۔ میرے لیے ان سب پر یقین کرنا بہت مشکل تھا۔ لیکن یہ سب کچھ میری آنکھوں کے سامنے تھا پھر میں انکار کیسے کرتا؟ اس نے مجھے یہ بھی بتایا کہ ہندوؤں اور جین مت کے ماننے والوں کے بے حد اصرار پر اب یہاں کوئی مسلمان نماز نہیں پڑھ سکتا۔ اب یہ مسجد صرف ایک تفریح گاہ ہے۔ جب تک مسلمانوں کی حکومت تھی تو یہ مسجد آباد تھی لیکن جب ان کی حکومت آئی جن کے مندر توڑے گئے تھے تو مسجد کو بند کر دیا گیا۔ اب اس کا نام مسجد قوت الاسلام ہے لیکن در حقیقت یہ ایک تفریح گاہ ہے۔

یہ سب دیکھ کر مجھے محسوس ہوا کہ جہاں پر ایک مسلمان بادشاہ اتنا بڑا مینار بنا سکتا تھا کہ جس کی دنیا میں اس وقت کوئی مثال نہیں ملتی تھی اس کے لیے کیا ممکن نہیں تھا کہ وہ مسجد کے لیے بھی نئے ستون بنواتا اور کسی مندر کی کوئی چیز اٹھا کر یہاں نا رکھتا؟ اگر قطب الدین ایبک نے ایسا کیا ہوتا تو آج میں اس مسجد میں نماز ادا کر سکتا تھا۔ میرے خیال میں دنیا میں یہ دو مساجد ہیں جو بنی تو مساجد تھیں لیکن ان میں نماز نہیں ہوتی۔

آہ۔ کاش ایسا نہ ہوتا اور ہم اس میں نماز پڑھتے اور آج کسی کو اسے بند کرنے کی ہمت نہ ہوتی۔

Facebook Comments HS