کیا ہونے جا رہا ہے؟


کیا بلاول بھٹو کے لانگ مارچ کا حشر بھی اسی طرح ہو گا جیسے کہ مولانا فضل الرحمان کے لانگ مارچ کا ہوا تھا۔ فضل الرحمان کے ساتھ اس وقت اکثریتی پارٹیاں کھڑی تھی اور اسلام آباد میں ان کے دھرنے میں شرکت کا عندیہ بھی دیا ہوا تھا۔ لیکن ملتان میں جب فضل الرحمان سے غیبی آواز کے سہارے لاتعلقی کا اعلان ہوا تو ساری سیاسی پارٹیاں غیر علانیہ اپنی اپنی دائروں میں جا کے سمٹ گئی۔ اس وقت بھی عام طور پر یہ کہا جا رہا تھا کہ جب مولانا فضل الرحمان اتنے یقین اور وثوق کے ساتھ اسلام آباد تک لانگ مارچ اور پھر ادھر دھرنے کے خواہاں ہیں تو کوئی خفیہ ڈیل ہوئی ہوگی، کوئی ان کے استقبال کے منتظر ضرور ہوں گے لیکن وہ اسلام آباد بھی پہنچے، دھرنا بھی ہوا اور پھر چلے بھی گئے لیکن مولانا صاحب نے یہ کہ کر خود کو مطمئن کیا کہ میں کچھ لے کے گیا ہوں میں خالی ہاتھ نہیں گیا ہوں اس کا پتہ تین مہینے بعد چلے گا۔

لیکن جو فضا بنی تھی یا جو فضا بنائی گئی تھی وہ فضا اپنا تاثر کسی بھی حوالے سے اپنا اثر یا رنگ نہ دکھا سکی اور نہ چھوڑ سکی۔ اب کی بار بھی پیپلز پارٹی یا بلاول کے لانگ مارچ سے یہ تاثر لیا جا رہا ہے کہ اسلام آباد میں ضرور کوئی ہل چل مچے گا جب یہ لانگ مارچ وہاں پہنچے گا اور وہاں دھرنا ہو گا۔ لیکن اپوزیشن کی ملاقاتیں اور پھر عمران خان کی ملاقاتوں کا اگر موازنہ کیا جائے تو جو وعدے وعید اپوزیشن میڈیا کو دکھا اور سنا رہے تھے۔

اس کے بالکل الٹ عمران خان کے دوروں میں سامنے آیا۔ تو اگر اپوزیشن ٹھیک ہے تو پھر تو عدم اعتماد پکا ہے لیکن اگر حکومت درست ہیں تو پھر تو عدم اعتماد پکا کیا کچا ہی کچا ہے۔ اور جب عدم اعتماد نہ ہو پھر اعتماد کس بات کا اور اپوزیشن کی ملاقاتوں اور بلند بانگ دعووں کا مقصد کیا۔ دوسری بات یہ کہ اگر اب سلیکٹڈ کہنے والے بھی املا لینے والے ہیں تو پھر تو سلیکٹڈ ورسز سلیکٹڈ کا تبادلہ ہے۔ فرق صرف کرسی بان کی تبدیلی کا رہ جاتا ہے نہ کہ کرسی کا فرق۔

تو پھر تو عوامی امنگوں اور خواہشات اور ضروریات کو مد نظر رکھ کر سب کچھ نہیں ہو رہا بلکہ اپنی انا اور چاہتوں کو تسکین اور آرام دینے کے جتن ہو رہی ہے۔ ویسے بھی حالیہ روس کی یاترہ کے بعد عمران خان کا سیاسی قد کاٹ خانگی اکابرین کی نظروں میں بدل چکا ہے اب امریکن تپکی سے نکل کر رشین تپکی پر انحصار کر رہا ہے اور تبدیلی سرکار عمران خان کے ہٹانے کا اگر سوچتے بھی ہیں تو پھر بھی اس بات پر سوچیں کہ متبادل کون ہو گا وہ عمران خان کی طرح چلن رکھنے والا ہو گا یا نہیں کیوں کہ تبدیلی سرکار کو عمران خان سے وفادار شخص کا ان کو پھر سے پورے پیکج کے ساتھ دستیاب ہو گا بھی کہ نہیں۔ کیونکہ اپوزیشن پرامید ہے کہ ان کے پاس وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کے لئے مطلوبہ ممبران کی تعداد پوری ہے۔

تین سو بیالیس اراکین میں سے ایک سو بہتر اراکین چاہیے ہوتے ہیں عدم اعتماد کے لئے، متحدہ اپوزیشن کے پاس اس وقت ایک سو ساٹھ اراکین موجود ہیں۔ یہ بارہ اراکین کہاں سے آئیں گے؟ اگر ہم سینیٹ الیکشن میں یوسف رضا گیلانی کی جیت کے اعداد و شمار کا جائزہ لیتے ہیں تو وہ اس طرح بنتا ہے، سینیٹ انتخابات میں یوسف رضا گیلانی نے عبدالحفیظ شیخ کو پانچ ووٹوں کے فرق سے شکست دی تھی۔ گیلانی نے ایک سو انہتر ووٹ لیے جب کہ حکومتی امیدوار کے حصے میں ایک سو چونسٹھ ووٹ آئے۔ سینیٹ الیکشن میں ٹوٹل تین سو چالیس ووٹ ڈالے گئے جن میں سے سات ووٹ مسترد کر دیے گئے۔

لیکن قومی اسمبلی میں خواتین کی نشست پر تحریک انصاف کی امیدوار فوزیہ ارشد نے ایک سو چوہتر ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی، جب کہ مسلم لیگ نون کی امیدوار فرزانہ کوثر نے ایک سو اکسٹھ ووٹ لئے، اس انتخاب میں پانچ ووٹ ضائع ہوئے۔

یہ ایک ہی دن ہونے والے ووٹوں کے نتائج ہیں، اب آصف علی زرداری یا بحیثیت مجموعی پیپلز پارٹی ہی جانتی ہے کہ انہوں نے کون کون سے حکومتی اراکین اسمبلی سے گٹھ جوڑ کر کے گیلانی کو کامیاب کروایا تھا لیکن یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اسی دن پھر ”ن“ لیگ کی امیدوار کو شکست بھی ہوئی تھی۔

گیلانی کی جیت کے بعد عمران خان نے قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے کا جرت مندانہ فیصلہ کیا تھا اور وزیراعظم اس میں سرخرو بھی ہو گئے تھے۔

لیکن اس دفعہ نون لیگ بھی تحریک انصاف کے اراکین قومی اسمبلی کا ساتھ دینے کا وعدہ کر رہی ہے، شاید اس لئے مولانا فضل الرحمن نے 48 گھنٹے اہم قرار دیے ہیں، دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے یا اسلام آباد کی راہداریوں میں کیا ہونے جا رہا ہے؟ کیا عمران خان تاریخ رقم کرنے جا رہے ہیں کہ پہلے وزیر اعظم پاکستان کی حیثیت سے اپنا پانچ سال کی مدت پوری کریں گے یا پھر اپوزیشن رکارڈ ساز کامیابی کے ساتھ پہلی بار کسی پاکستانی وزیر اعظم کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے گھر بھیج رہے ہیں؟

Facebook Comments HS