پاکستان سستا ترین ملک ہے


اس وقت مہنگائی پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے، مہنگائی نے تھاں تھاں ڈیرے ڈالے ہوئے، جس کی وجہ سے عام آدمی پریشانی کا شکار ہے۔ غریب آدمی دو وقت کی روٹی کھانے سے تنگ ہے۔

عالمی بینک کے مطابق پاکستان میں خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والوں کی تعداد تقریباً 40 فیصد ہو چکی ہے۔ لیکن ہمارے وزیراعظم عمران خان کہتے ہیں کہ پاکستان دنیا کا سستا ترین ملک ہے۔

ہر دفعہ اور جتنی بار بھی مہنگائی ہوئی ہے اس سے ہمیشہ متوسط طبقہ ہی متاثر ہوا ہے۔ امیر کو اس مہنگائی سے آج فرق پڑا ہے نہ کل پڑے گا۔ پاکستان میں امیر، امیر تر ہوتا جا رہا ہے۔ اور غریب مزید غریبی کی طرف دھکیل دیا جاتا ہے، مہنگائی کی اس تیز رفتار چکی میں ہمیشہ غریب ہی پسا ہے۔

مہنگائی نے عوام کی رات کی نیندیں اور دن کا چین غارت کر دیا ہے۔ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا، جس دن مہنگائی کی خبر کانوں سے نہ گزرے، آٹا، گھی، چینی، دال، سبزی، غرض روزمرہ استعمال کی ہر شے بیچارے غریب کی پہنچ سے اس حکومت نے دور کر دی ہے۔ لوگ غربت کی وجہ سے خودکشیاں کر رہے ہیں۔

شاید آپ کو یاد ہو وزیراعظم نے اپنے ایک انٹرویو میں صحافی پارس جہانزیب کے سوال پر کہا تھا کہ لوگ اگر خودکشیاں کر رہے ہیں۔ تو ہم کیا کریں، واہ خان صاحب کمال کر دیا، آپ کچھ نہیں کر سکتے، گھر تو جا سکتے ہیں، لوگوں کی زندگی مزید کیوں اجیرن کر رہے ہیں۔ باتیں، بھاشن، ہر تقریریں میں لولی پاپ، یہ کردوں گا وہ کردوں گا، نتیجہ صفر، ہر تقریر میں اپوزیشن پر چڑھائیاں، ملک کو کھا گئے لوٹ گئے، ہر تقریر میں یہی باتیں سن سن کے کان پک گئے، خان صاحب سے بھی یہ بھی کہنا، وہ تو لوٹ کے لے گئے، جان چھوڑ گئے، آپ کیا کر رہے ہیں۔

خدارا غریب کی زندگی آسان کرے، غریب کو اس سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ اوپر کون بیٹھا ہے، اسے ضرورت کی چند بنیادی چیزیں سستی چاہیے بس، جو آپ اس میں سراسر ناکام رہے ہیں۔ ویسے قصور ہمارا بھی ہے کہ ہم نے بھی تبدیلی کے کچھ خواب سجائے تھے جو وزیراعظم عمران خان ان خوابوں کو حقیقت کا روپ دینے میں ناکام رہے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے بے بہا مہنگائی پر اجلاس بلائے، لیکن مہنگائی مزید بڑھی۔ ہر مہینے بعد عوام سے خطاب، اور ہر خطاب میں ایک نیا لولی پاپ۔ ابھی بھی پٹرول 150 روپے لیٹر سیل ہو رہا، 10 روپے سستا کر کے جیسا کوئی بہت بڑا احسان کر دیا۔ پچھلے ماہ 12 روپے مہنگا بھی کیا۔ سستا کر کے بھی حکومت 2 روپے کے منافع میں ہیں۔

بس باتیں کروا لوں ان سے اپوزیشن کی پگڑیاں گرانے کی فکر میں یہ حکومت عوام سے بے فکر ہے۔ عوام پل پل رل رہی دھکے لے رہی، اس سے انھیں کوئی سروکار نہیں۔

انھیں فکر تو اپنی فکر، اپنوں کو نوازنے کی فکر، اپوزیشن کو نیچا دکھانے کی فکر ضرور ہے۔ انھیں یہ سب بھول گیا کہ یہ کیا نظریہ لے کے حکومت میں آئے، خان صاحب دوسروں حکمرانوں سے بھی حکومت چلانے میں ناکام ہوئے ہیں۔

چائے 20 روپے کی بجائے 50 روپے کی مل رہی، بازار سے روٹی 7 روپے کی بجائے 14 روپے کی مل رہی، دالوں، سبزیوں، آٹا، گھی، چینی، پٹرول سمیت استعمال کی ہر چیز غریب آدمی خریدنے سے قاصر ہیں۔ لیکن وزیراعظم پاکستان عمران خان کہتے ہیں کہ پاکستان دنیا کا سستا ترین ملک ہے اتنا سستا کہ غریب رل، مر رہے، خودکشیوں پر مجبور، ہر پاکستانی قرضوں کے بوجھ تلے، سفید پوش طبقہ ہاتھ پھیلانے پر مجبور، لیکن پاکستان سستا ترین ملک ہے۔

واہ میرے پرائم منسٹر کیا بات ہے تیری، ناشتے اور کھانے میں ون پونی ڈشز دائیں بائیں پڑی ہو، دکھ کبھی قریب نہ آیا ہو، آگے پیچھے لمبی گاڑیاں ہو، تو پاکستان سستا ترین ملک آپ کو ضرور لگے گا۔ وزیراعظم صاحب آپ بھی پہلے جیسوں ہی کی طرح ثابت ہوئے۔ عوام کے لئے تو کوئی تبدیلی نہیں آئی، بلکہ مزید مشکل در مشکل ہی آئی۔

سستے ترین ملک پاکستان کے وزیراعظم صاحب بصد ادب، غریب آدمی کے لئے پٹرول اور بجلی کے علاوہ اور بھی اشیاء ضروریہ کی چیزیں سستی کردے، تاکہ عوام سکھ کا سانس لے، اور پاکستانی عوام بھی یہ کہہ سکے، کہ پاکستان واقعی سستا ترین ملک ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments