روسی حملہ اور عالمی منظر نامے پر بچھی سیاسی بساط

یوکرین پر روسی حملہ آٹھویں روز میں داخل ہو چکا ہے۔ ابتدائی ایام میں روسی فوج نے یوکرین کے اندر مختلف اطراف سے بڑی تیزی کے ساتھ پیش قدمی کی اور دارالحکومت کیف تک جا پہنچی یہاں تک کہ یوکرین کے صدر نے امریکہ سمیت نیٹو ممالک کو غیرت دلائی اور شکوہ کیا اب مصیبت میں کوئی ملک بھی یوکرین کے ساتھ نہیں کھڑا ہے۔ جس پر امریکہ نے اپنا روایتی طریقہ اپناتے ہوئے روس پر معاشی پابندیاں عائد کر دیں۔ امریکہ تا حال اپنے فوجی دستوں کے ہمراہ براہ راست جنگ میں شامل نہیں ہوا۔
تاہم دیگر یورپی اور نیٹو ممالک کے ساتھ مل کر یوکرین کو فوجی امداد دینا شروع کر دی ہے۔ فرانس، جرمنی، بیلجیئم، کینیڈا، چیک ریپبلک، یونان، پرتگال، رومانیہ، سپین، نیدرلینڈ برطانیہ اور امریکہ یوکرین کو فوجی امداد دینے والے ممالک میں شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ امریکہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا پلیٹ فارم استعمال کرتے ہوئے جنرل اسمبلی کے ہنگامی اجلاس کے انعقاد کی قرارداد پاس کروا لی۔ سلامتی کونسل کے 15 میں سے 11 ارکان نے جنرل اسمبلی کے ہنگامی اجلاس بلانے کے حق میں ووٹ دیا، جبکہ چین، بھارت اور متحدہ عرب امارات غیر جانبدار رہے۔
روس نے اس قرارداد کو ویٹو کیا جس پر اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نے کہا کہ ”ہم یوکرین اور اس کے عوام کے پیچھے متحد ہیں اس کے باوجود کہ سلامتی کونسل کے ایک لاپروا اور غیر ذمہ دار مستقل رکن نے اپنے پڑوسی ملک پر حملہ کرنے اور اقوام متحدہ اور ہمارے بین الاقوامی نظام کو تباہ کرنے کے لئے اپنے اختیارات کا غلط استعمال کیا“ ۔ اقوام متحدہ میں یوکرین کے سفیر نے روس کی طرف سے اس قرارداد کو ویٹو کرنے پر کہا کہ وہ روس کے اس اقدام سے حیران نہیں ہیں ’کیونکہ روس نازی طرز عمل کو جاری رکھنے کا خواہاں ہے ”۔ جبکہ روسی سفیر نے امریکی قرارداد کو یوکرین کی بساط پر ایک وحشیانہ کا انسانی قدم قرار دیا ہے۔
امریکی قرارداد پر جنرل اسمبلی کا گیارہواں ہنگامی اجلاس شروع ہو چکا ہے جس میں امریکہ اور اس کے اتحادی، دیگر 193 رکن ممالک سے یوکرین پر روسی حملے کی مذمت چاہتے ہیں۔ پاکستان میں تقریباً تمام یورپی ممالک اور امریکہ کے سفیروں نے مل کر ایک مراسلہ جاری کیا ہے جس میں مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان یوکرین پر حملہ کی مذمت کرے۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق پاکستان نے اس معاملے پر غیر جانبدار رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پاکستان سمیت دیگر کئی ممالک جیسے چین ’بھارت‘ مشرق وسطی اور وسطی ایشیا کے ممالک یہاں تک کہ اسرائیل نے بھی کھل کر روسی حملے کی مذمت نہیں کی ہے۔
یہ تمام ممالک مصلحت آمیز خاموشی کی چادر اوڑھے ہوئے ہیں۔ یہ ممالک روس کے ساتھ کھڑے ہیں اور نہ اس کی مذمت میں۔ اپنے اپنے مفاد میں یہ تمام ممالک جانبدار رہنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ امریکہ اور یورپ نے روس پر پابندیاں مزید سخت کرتے ہوئے روسی بینکوں پر پابندی لگا دی ہے۔ یورپی فضائی حدود استعمال کرنے پر بھی مکمل پابندی ہے۔ امریکہ اور اتحادی ممالک اقوام متحدہ میں روسی نمائندگان کو بھی نکال رہے ہیں۔ صدر پوٹن، روسی وزیر خارجہ اور دیگر کئی حکومتی عہدیداران پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ امریکہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر روس کو عالمی سطح پر مکمل طور پر تنہا کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
چین نے روس کے ساتھ تجارتی تعلقات قائم رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ چین نے امریکہ اور نیٹو ممالک کی طرف سے روس پر معاشی پابندیوں کی مخالفت کرتے ہوئے موقف پیش کیا کہ روس پر معاشی پابندیوں کی وجہ سے معاشی مسائل جنم لیں گے اور دنیا کا معاشی نقصان ہو گا۔ دراصل چین روس سے تائیوان کے معاملہ پر اپنے موقف کی تائید چاہتا ہے۔ دنیا خاموشی کے ساتھ بڑی تیزی سے دو عالمی بلاکس میں تقسیم ہو رہی ہے۔ جنرل اسمبلی کے اجلاس کے نتائج دنیا کی اس تقسیم کو مزید واضح کر دیں گے۔
افغانستان میں تقریباً 20 سال تک لگاتار بے نتیجہ جنگ اور وہاں سے شکست کھا کر نکلنے کی وجہ سے عالمی سطح پر امریکہ اور اس کے نیو ورلڈ آرڈر کے اسٹیٹس کو انتہائی نقصان پہنچا ہے۔ امریکہ کے مقابلے میں چین ایک بڑی معاشی طاقت بن کر ابھرا ہے۔ فوجی و عسکری میدان میں اب روس حقیقی طور پر امریکہ کے مدمقابل ہے۔ یہ جنگ بظاہر یوکرین کی سرزمین پر لڑی جا رہی ہے لیکن مقابلہ امریکہ اور روس کے درمیان ہے۔ امریکہ کسی بھی طرح سے اپنا سپر پاور کا اسٹیٹس برقرار رکھنے کی کوشش میں ہے۔
امریکہ کبھی نہیں چاہے گا کہ روس اب یوکرین اور اس کے بعد دیگر مشرقی یورپ کے ممالک میں اپنا اثر و رسوخ بڑھائے۔ اس لیے امریکہ اپنے اتحادی نیٹو ممالک کے ساتھ مل کر روس پر دباؤ بڑھا رہا ہے۔ غیر جانبدار ممالک پربھی سفارتی ذرائع سے اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔ پاکستان ہر طرح کی جارحیت کے خلاف ہے اور اس معاملے پر غیر جانبدار رہنا چاہتا ہے۔ پاکستان طویل عرصہ تک امریکہ اور مغربی بلاک کا حصہ رہا ہے ’تاہم اب پاکستان خطے کے دیگر طاقتور ممالک کے ساتھ بھی سفارتی اور تجارتی تعلقات قائم کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔
پاکستان سمجھتا ہے کہ امریکہ اور مغربی ممالک نے ہمیشہ پاکستان کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کیا اور جہاں بھی پاکستان کو امریکہ اور یورپی ممالک کی ضرورت پڑی وہ اس کے ساتھ کھڑے نہ ہوئے۔ ایف اے ٹی ایف میں پاکستان 98 فیصد شرائط پوری کر چکا ہے لیکن اس کے باوجود ابھی تک گرے لسٹ میں ہی ہے۔ ایف اے ٹی ایف کی شرائط پر بھرپور عمل کرنے کے باوجود اگر پاکستان کو کوئی ریلیف نہیں ملا تو یہ بات واضح ہوتی جا رہی ہے کہ اس میں ضرور کچھ جیو پالیٹکس شامل ہے۔
ایف اے ٹی ایف کا فورم جو کہ مکمل طور پر ایک غیر سیاسی ٹیکنیکل ادارہ ہے، اسے پاکستان پر معاشی دباؤ قائم رکھنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح کشمیر کے معاملہ پر بھی جب پاکستان کشمیریوں پر ہونے والے بھارتی ریاستی جبر کے خلاف دنیا کو آگاہ کر رہا تھا تو پاکستان کی آواز کو زیادہ پذیرائی نہیں ملی۔ اس کے مقابلے میں بھارت کو ایک بڑی تجارتی منڈی کے طور پر ہمیشہ اہمیت دی جاتی رہی۔
روس پر معاشی پابندیوں کی وجہ سے روس کے اندر بھی معاشی حالات کافی زیادہ خراب ہو رہے ہیں۔ روس جلد یا بدیر اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر ضرور اس کا حل نکالنے کی کوشش کرے گا۔ موجودہ عالمی معاشی نظام امریکہ کی مٹھی میں ہے۔ امریکی ڈالر کو بین الاقوامی کرنسی کی حیثیت حاصل ہے۔ روس اور چین اس سے پہلے ہی دو ہزار انیس میں باہمی تجارت اپنی کرنسی میں کرنے کا معاہدہ کر چکے ہیں۔ روس اور یوکرین کی جنگ طویل ہوتی ہے تو روسی معاشی پابندیوں کا اثر روس کے کے ساتھ ساتھ باقی دنیا پر بھی پڑے گا۔
جیسا کہ عالمی منڈیوں میں معدنی تیل سمیت اشیائے خورونوش کی قیمتیں ابھی سے بڑھ گئی ہیں۔ روس اپنی معاشی حیثیت کو بچانے کے لیے اگر چین اور دیگر کچھ ممالک کو اپنے ساتھ تجارتی معاہدوں میں شامل کرنے کی کوشش کرتا ہے تو یقیناً کئی ممالک جو کہ امریکہ اور یورپ کی معاشی ’عسکری اور خارجہ پالیسی سے تنگ ہیں، روسی گروپ میں شامل ہو جائیں گے۔ دنیا واضح طور پر دو عسکری اور معاشی بلاکس میں بٹ جائے گی۔ اس کی کچھ نشانیاں سامنے بھی آ رہی ہیں۔
چند ماہ قبل امریکہ کی طرف سے منعقد کردہ ڈیموکریٹک سمٹ میں پاکستان سمیت کچھ ممالک نے امریکی دعوت کے باوجود شرکت کرنا ضروری نہیں سمجھا۔ اسی طرح حال ہی میں چین میں ہونے والے اولمپکس مقابلوں کی تقریب میں امریکہ اور بھارت سمیت اکثر یورپی ممالک نے شرکت نہیں کی۔ جب کہ روسی صدر کا چین کے صدر نے گرم جوشی سے استقبال کیا۔ موجودہ حالات میں یہ بات بڑی اہم ہے کہ روس، امریکہ اور نیٹو ممالک کا عسکری اور معاشی میدان میں کس حد تک مقابلہ کرتا ہے۔
اگر روس، چین جیسی معاشی قوت کے ساتھ مل کر اپنا معاشی نظام ترتیب دیتا ہے تو خطے اور دنیا کے دیگر کئی ممالک اپنی معاشی اور عسکری ضرورتوں کے پیش نظر امریکی پابندیوں کو پس پشت ڈال کراس نظام کا حصہ بن جائیں گے۔ روس خود تیل، گیس، گندم، اور دیگر کئی اشیا کا برآمد کنندہ ہے جو کہ پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک کی ضرورت ہیں۔ عرب ممالک جو کہ اپنی گندم کی ضروریات یوکرین اور روس سے پوری کرتے ہیں ابھی سے پریشان ہیں۔ عالمی نظام پر امریکہ کی کمزور ہوتی گرفت عالمی افق پر طاقت و اختیار کے دنیا کے دیگر خطوں اور ممالک کی طرف انتقال کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔ روس اور یوکرین کی جنگ کے نتائج سے پتہ چل جائے گا کہ دنیا میں 1991 میں قائم ہونے والی یونی پولر حیثیت برقرار رہتی ہے یا اس کا خاتمہ ہوتا ہے۔

