گنگو بائی کاٹھیاواڑی
لفظ طوائف آتے ہی فرد کے ذہن میں گندا یا کیچڑ جو اس کے ذہن میں پل بھر رہا ہوتا ہے وہ ابل کر سامنے آ جاتا ہے اور اس سے پہلے کہ ابل کر یہ باہر گرے چولہے کی آنچ ہلکی کر دی جاتی ہے۔ لوگ کہتے ہیں طوائف سے نکلو اور دوسرے موضوعات کو پرکھو اور اس پر لکھو۔ تم طوائف کے بارے میں لکھوں گے تو تمہارے ذہن میں گند ہے۔ کہتے ہیں اور بھی مسائل ہیں ان مسائل کو بیان کبھی نہیں کیا جاتا۔ ارے بھائی جب طوائف جیسا مسئلہ بھی معاشرے کا حصہ ہے تو اس پر لکھنا اور باقی مسائل کو چھوڑ کر اس پر بحث کرنا کیوں غلط ہے؟
طوائف جو بذات خود ایک گالی ہے یا نیچ قسم کی شے ہے تو کون عورت اس کو اپنے ساتھ منسوب کروانا چاہتی ہے؟
کسی کے پاس ان سوالات کے جامعہ جوابات نہیں۔ یہاں سوالات کے جوابات ادھر سے ادھر کی چھوڑ کر دیے جاتے ہیں۔
پچھلے دنوں 25 فروری 2022 ء کو *گنگو کاٹھیاواڑی* فلم ریلیز ہوئی جس میں کوٹھا چلانے والی کا کردار عالیہ بھٹ نے کامیابی سے ادا کیا ہے۔ اس فلم کا موضوع طوائف اور ریڈ لائٹ ایریاز ہیں۔ گنگو بائی کاٹھیاواڑی ایک حقیقی کردار ہے جو 1960 ء کی دہائی میں انڈیا کے شہر ممبئی کے ایک چھوٹے سے علاقے کماٹھی پورہ میں کوٹھا چلاتی تھی۔ یہ فلم حسین زیدی انڈین کرائم رپورٹر کی کتاب مافیا کوئینز آف ممبئی سے ماخوذ ہے۔
اس فلم میں سنجے لیلا بھنسالی نے عورت میں طوائف کے احساس کو بغیر تعصب سے ایک ایسے انداز سے پیش کیا ہے کہ ذرہ برابر بھی نہ فیمنزم کو فروغ دیا اور نہ ہی عورت کی توہین دکھائی ہے۔ ایک سچ کا آئینہ جس میں بھوکے کا مرجھایا ہوا چہرہ، مذہب کے پتھر سے خون سے رستا ہوا زخم اور بدذات سے انسان کا کٹتا گلا صاف نمایاں ہو جاتا ہے۔ ایک حساس موضوع پر فلم بنانا آسان نہیں ہوتا ہے۔ انڈیا میں بننے والی منٹو فلم کو بین کر دینا اور مختلف موضوعات کو بھی کیس سے عدالتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ منٹو کہتا ہے بہت سی چیزیں جو سمجھ نہ آ رہی ہوں اسے فلم بنا کر سمجھایا جا سکتا ہے۔
فلم میں جب کماٹھی پورہ یعنی ریڈ لائٹ ایریا کو ہٹانے کے بارے میں سکول کے اساتذہ سرگرم ہوتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ چکلے کا سکول پر غلط اثر پڑتا ہے۔ گنگو بائی بولتی ہے ہمارا چکلہ اور سکول ساتھ ساتھ ہے، ہمارے چکلے کا آپ کے سکول پر اثر پڑتا ہے مگر آپ کے سکول کا ہمارے چکلے پر اثر کیوں نہیں پڑتا۔ جواب ندارد۔
ساحر لدھیانوی کے فلم انڈسٹری پر کیے گئے سحر کا آج بھی گہرا اثر نمایاں دکھتا ہے۔ گنگو بائی فلم کے آخر میں وزیر اعظم سے ملاقات کے وقت ساحر کی نظم *چکلے * کے کچھ اشعار پڑھتی ہے :
مدد چاہتی ہے یہ حوا کی بیٹی
یشودھا کی ہم جنس رادھا کی بیٹی
پیمبر کی امت زلیخا کی بیٹی
جنہیں ناز ہے ان پر وہ کہاں ہے۔
آخری لائن پرکاش کاپاڈیا (جن نے فلم کے مکالمے تحریر کیے ) نے شاید خود جوڑا ہے۔ مگر عالیہ بھٹ کی زبان سے نکلا یہ مکالمہ اس میں بھر پور جان ڈال گیا ہے۔
فلم ضرور دیکھیں شاید طوائف میں چھپی عورت اور عورت میں چھپی طوائف مل جائے اور سمجھ آئے کہ منٹو نے طوائف پر ہی کیوں لکھا۔
ہر موضوع طوائف سے شروع ہوتا ہے۔






بہترین تجزیہ۔ بہت شکریہ