میں بھی اچھوت ہوں

آج کل میں ڈاکٹر مبارک علی کی کتاب ”اچھوت لوگوں کا ادب“ مطالعہ کر رہا ہوں۔ شاید یہ ادبی روایات میں سے ایک ہے کہ میں راہ چلتے موبائل فون نکال کر کہیں بھی کبھی بھی کچھ بھی پڑھ سکتا ہوں۔ اس کتاب میں ہندوستان کی پسماندگی کا وہ موڑ چسپاں ہے جس کے نشانات آج بھی ان لوگوں کی ثقافت میں موجود ہیں۔ میں جب جب اس کتاب کو پڑھتا ہوں مجھے لگتا ہے کہ میں بھی اچھوت ہوں

Read more

منٹو کے افسانے بلاؤز کا تجزیہ

منٹو پر تنقیدی جائزہ تو نہیں البتہ تجزیہ ضرور کر سکتے ہیں۔ منٹو فحش نہیں تھا اور نہ ہی بد گو۔ وہ صرف سچ کا پرستار تھا یا سچ منٹو کا پرستار۔ ایک مرتبہ سوشل میڈیا پر کسی لڑکی نے طنز کرتے ہوئے پوچھا کہ بتائیں کہ افسانہ بلاؤز کا معاشرے سے کیا تعلق ہے۔ لاعلمی کے باعث وہاں کمنٹ میں موجود دوسری لڑکی نے اس بات کو مزاح میں اڑا کر ادھر ادھر کی چھوڑ کر رفع دفع کر

Read more

ریفارمر اجنبی

مرشد کا علم بلند کرنے والے آزاد شاعری کے منکر تہذیب حافی اور علی زریون پر اکثر لوگ تنقید کرتے رہتے ہیں یا محبت کرتے ہیں۔ پتا نہیں کب تک مرشد خود کو منوائیں گے۔ خیر مرشد کو چھوڑیں اور منکر کو پکڑیں۔ اصل میں جتنے بھی صاحب ذوق جہاں کہیں بھی پائے جاتے ہیں سبھی مرشد کو یا ان کی شاعری کو مرحوم تصور کرتے ہیں اور شاید یہ سچ بھی ہے۔ اندازہ بیان بے وزن شعر کو بھی

Read more

سیاست

جب سے پاکستان معرض وجود میں آیا ہے تب سے لے کر آج تک جتنا پاکستان کا معیار ہے وہ اتنا اچھا نہیں رہا۔ جو بھی اس ملک میں حکمران بنا اس نے خود کو سنوارا اپنا خاندان کی معیشت بہتر کی اور یہیں چسکا منہ کو لگا کر جمہوریت کو تباہ کر دیا۔ اگر محمد علی جناح چاہتے تو وہ اس ملک میں صدارتی نظام نافذ کرتے۔ جب قائد اعظم محمد علی جناح نے پاکستان بنایا تو تقریباً سبھی

Read more

گنگو بائی کاٹھیاواڑی

لفظ طوائف آتے ہی فرد کے ذہن میں گندا یا کیچڑ جو اس کے ذہن میں پل بھر رہا ہوتا ہے وہ ابل کر سامنے آ جاتا ہے اور اس سے پہلے کہ ابل کر یہ باہر گرے چولہے کی آنچ ہلکی کر دی جاتی ہے۔ لوگ کہتے ہیں طوائف سے نکلو اور دوسرے موضوعات کو پرکھو اور اس پر لکھو۔ تم طوائف کے بارے میں لکھوں گے تو تمہارے ذہن میں گند ہے۔ کہتے ہیں اور بھی مسائل ہیں

Read more

منٹو کے افسانے ”یزید“ کا ایک جائزہ

جس سعادت حسن منٹو کو دنیا آج عورتوں کے گندے پہلوؤں اجاگر کرنے والے کے نام سے جانتی ہے وہ دراصل ان تمام احساسات سے ماورا تھا جسے ایک عام انسان میں آپ ڈھونڈ سکتے ہیں، یوں تو منٹو نے کافی افسانے لکھیں اور لوگ اس کو پڑھتے رہتے ہیں مگر منٹو ہر افسانے میں الگ ڈھنگ سے آپ کو ملے گا جیسے وہ تھوڑا ممد بھائی بن جاتا ہے، کبھی حنیف بن کر ہندو لڑکی کو دل دے بیٹھتا

Read more