مجوزہ تحریک عدم اعتماد اور اپوزیشن کا تذبذب

اپوزیشن جماعتوں نے جب سے حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے پر اتفاق کرنے کا اعلان کر دیا ہے تب سے اس کے بارے سیاسی اور صحافتی حلقوں میں بڑی ہلچل مچ گئی ہے
اس حوالے سے ایک سوال یہ ہے کہ کیا اپوزیشن مجوزہ تحریک عدم اعتماد لانے میں کامیاب ہو سکے گی؟
بعض حلقوں کے دعووں کے باوجود اس حوالے سے یقین سے نہیں کہا جا سکتا ہے۔ ایک وجہ تو یہ ہے کہ اپوزیشن جماعتیں اگرچہ عدم اعتماد لانے پر تو متفق ہیں مگر اس پر اتفاق نہیں کہ اس کو کب اور کہاں سے شروع کریں۔ پھر یہ کہ اس کی کامیابی کے بعد کیا کرنا ہو گا؟ اپوزیشن اس حوالے سے واضح لائحہ عمل تاحال سامنے نہیں لا سکی ہے اور کچھ تذبذب کا شکار لگتی ہے
تاہم ان معاملات کو طے کیے بغیر بھی اپوزیشن رہنماؤں نے حکومت کے اتحادی جماعتوں اور ناراض ارکان سے رابطوں اور ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کیا مگر اس حوالے سے کامیابی کے کوئی ٹھوس اثار فی الحال نظر نہیں آرہے ہیں
اس ضمن میں شہباز شریف کا چودھری برادران کے ہاں جا کر ملاقات کرنے کو بڑی اہمیت دی گئی۔ اس ملاقات کی با قاعدہ تفصیلات تو سامنے نہیں آئیں مگر چونکہ اس کا مقصد ق لیگ کو حکومتی اتحاد سے نکال کر اپوزیشن کے مجوزہ تحریک عدم اعتماد کے لیے حمایت کا حصول تھا اس لیے ظاہر ہے کہ ق لیگ کو اس سے مطلوب حمایت کے بدلے نون لیگ نے کوئی پیشکش ضرور کی ہوگی یا ق لیگ نے اس کے لیے کچھ شرائط پیش کیے ہوں گے
یہ پیشکش یا شرائط کیا تھے یہ بھی صحیح طور سے معلوم نہیں مگر بعض باخبر گردانے جانے والے صحافیوں اور تجزیہ کاروں کے مطابق ق لیگ نے اپنی حمایت کے لیے ایک شرط یہ رکھی کہ اسمبلیوں کو اپنی مدت سے پہلے توڑا نہیں جائے گا اور دوسرا یہ کہ اس مدت کے دوران پنجاب کی وزرات اعلی چودھری پرویز الہی کو دی جائے۔
ان مبصرین کے مطابق نون لیگی قیادت کو یہ شرائط منظور نہیں کیونکہ ایک تو یہ کہ نون لیگ ہر صورت فوری انتحابات چاہتی ہے دوسرا اس کو یہ خدشہ ہے کہ اگر ڈیڑھ سال تک صوبہ پنجاب میں وزرات اعلی ق لیگ کے پاس رہی تو یہ نون لیگ کے پوزیشن کو کمزور کرنے کا سبب بن سکتی ہے۔
اب ان تجزیہ کاروں کے متذکرہ خیالات یا دعوے اگر محض ان کے اندازے نہیں بلکہ واقعی درست ہیں تو نون لیگ کے اس روئیے کو اس کی بڑی غلطی بھی کہا جا سکتا ہے
ق لیگ کی مبینہ شرائط ( اسمبلیوں کی مدت پوری کرنا اور پرویز الہی کو وزرات اعلی دینے ) کو مان لینے کے دو فائدے ہوتے
ایک تو یہ کہ تحریک عدم اعتماد کی کامیابی تقریباً یقینی ہوتی
دوسرا یہ کہ کم از کم آئندہ انتحابات میں ق لیگ کا پی ٹی آئی کے ساتھ سیاسی اتحاد کے امکانات حتم ہوتے۔
جہاں تک نون لیگ کے اس مبینہ خدشے کا تعلق ہے کہ ’اگر اگلے ڈیڑھ سال تک پنجاب میں ق لیگ کی وزرات اعلی رہی تو یہ نون لیگ کے مقابلے میں خود کو مستحکم کر سکتی ہے ”۔ تو یہ قدرے بے جا خوف ہے وہ یوں کہ اگرچہ وزرات اعلی بے شک پرویز الہی کے پاس ہوتی مگر زیادہ تر وزیر نون لیگ کے ہوتے کیونکہ ق لیگ اپنے گنے چنے ارکان سے تو پورا کابینہ نہیں بنا سکتی
پھر یہ کہ نون لیگ کا جو پرانا مستحکم ووٹ بینک ہے اور اس کو اتنی جلدی با آسانی کم نہیں کیا جا سکتا ہے
بالفرض اگر ق لیگ اس کو اپنی ڈیڑھ سال حکومت میں نقصان پہنچا سکتی ہے تو اس کی جگہ اگر پی ٹی آئی کی حکومت بقیہ عرصے کے لیے برقرار رہی تو وہ اس حوالے سے زیادہ موثر ثابت ہو سکتی ہے
خیر اب تو ق لیگ کے ساتھ معاملہ طے کرنے کا امکان نہیں رہا اور اگر اس کی وجہ واقعی نون لیگ کا مبینہ رویہ ہو تو اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ نون لیگ پی ٹی آئی حکومت کے خاتمے کے لیے سرگرم تو ہے مگر بہت کچھ پانے کے لیے تھوڑا کچھ بھی کھونے پر آمادہ نہیں۔
ن لیگ کا عدم اعتماد کے بعد فوری انتحابات کرانے پر یہ اصرار اس کا پیپلز پارٹی کے ساتھ بھی مسئلہ کا باعث لگتا ہے جو اپوزیشن کا تحریک کے حوالے سے واضح لائحہ عمل نہ لا سکنے کی بھی شاید ایک بڑی وجہ ہے۔
فوری انتحابات کرانے کے پیچھے نون لیگ کی سوچ غالباً یہ ہے کہ پی ٹی آئی حکومت کی کارکردگی سے عوام چونکہ مایوس ہو چکے ہیں یوں فوری انتحابات کی صورت میں وہ (ن لیگ ) ہی بھاری اکثریت ( بالخصوص پنجاب سے ) لے کر حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہو سکتی ہے۔ دوسرا یہ کہ صوبے میں اس کے مقابلے میں پیپلز پارٹی تاحال اتنی موثر نہیں اس لیے عام ووٹرز کے پاس فی الحال وہ ( نون لیگ ) ہی بہتر آپشن ہو گا۔ جبکہ ڈیڑھ سال کے بعد انتحابات کرنے کی صورت میں اس کو اپنی پوزیشن کئی عوامل کے باعث متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
ن لیگ کے فوری انتحابات کرانے کی بات پیپلز پارٹی کو شاید اس لیے منظور نہ ہو کہ
ایک تو یہ کہ پیپلز پارٹی سندھ میں اپنی صوبائی حکومت کو برقرار رکھنا اپنے لیے مفید سمجھتی ہے
دوسرا یہ کہ پیپلز پارٹی قیادت غالباً سمجھتی ہے اور درست سمجھتی ہے کہ فوری انتحابات کے نتیجے میں اس کا مرکز اور پنجاب میں موثر پوزیشن میں آنا مشکل ہو گا۔ ہاں اگر اس کو بقیہ ڈیڑھ سال کی مدت مل گئی تو اس دوران اس کو یہاں اپنی کارگردگی بہتر کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔ اور فوری انتحابات کے نون لیگی موقف سے پیپلز پارٹی کا متفق ہونے میں تردد اسی بنا ہو۔
اپوزیشن کی ان دونوں بڑی جماعتوں کے درمیان اس مسئلے پر عدم اتفاق کے باعث مجوزہ تحریک عدم اعتماد کا منجمد ہونے کا خدشہ بھی ہو سکتا ہے
تاہم اگر نون لیگ اور پیپلز پارٹی کے درمیان اس مسئلہ کے بارے باہمی اتفاق ہو گیا تو بھی تحریک کی کامیابی کے لیے اپوزیشن کو نمبرز پورے کرنے ہوں گے جس کے لیے اس کا بڑا دار و مدار تو ق لیگ اور ترین گروپ سے متوقع حمایت پر رہا ہے
ق لیگ سے تو سودا طے نہ ہو سکا یوں اس کی گاڑی تو اپوزیشن سے چھوٹ گئی ہے۔
اب رہتا ہے جہانگیر ترین کا جہاز۔ معلوم نہیں کہ
لندن سے کب آتا ہے اور کہاں اترتا ہے اور اگر آ کر بوجوہ پرانے
ائر پورٹ پر اترنے کا فیصلہ کر لیتا ہے تو اپوزیشن والوں کے پاس اخری ذریعہ کسی بس ( کوچ ) کا انتظام کرنا رہتا ہے
”تاہم اگر مطلوبہ سواریوں پورا نہ ہونے کی وجہ سے“ بس بھی چلنے سے رہی تو پیدل رہنا پڑے گا
چونکہ پیدل جانے سے منزل پر نہیں پہنچ سکتے ہیں یوں اس صورت میں ان کو تھکے ماندے چہروں کے ساتھ اپنے گھروں کی راہ لینے کے سوا شاید کوئی چارہ نہیں رہے
ہاں اگر کوئی انہونی ہو گئی یا کسی طرف سے غیبی امداد مل گئی ( جس کو خارج امکان قرار نہیں دیا جا سکتا ہے ) تو اپوزیشن کو زیادہ خفتگی اور سبکی سے بچنے کی شاید کوئی راہ نکل آئے


بہت اچھی تحریر ہے ۔ وطن عزیز میں غیب سے امداد ملنے کا کسی بھی وقت کسی کو بھی نوید مل سکتی ہے ۔ ایک ڈرامہ ہے جس کے رائٹر کو بھی شائد انجام کا نہیں معلوم۔