تحریک عدم اعتماد کے چرچے


وزیراعظم پاکستان کا عہدہ بڑا پرکشش اور شان و شوکت کا حامل سمجھا جاتا ہے۔ جو سیاسی راہنما ایک دفعہ اس کا مزہ چکھ لیتا ہے۔ اس کے دل میں بار بار اس کو حاصل کرنے کی امنگ پیدا ہوتی ہے۔ اس بات سے قطع نظر اختیارات کے چشمے کہیں اور سے پھوٹتے ہیں۔ مگر اس عہدے کا جاہ و جلال اور آنکھوں کو خیرہ کرنے والا پروٹوکول ہر سیاستدان کو اس کے حصول کے لیے بیتاب رکھتا ہے۔

آج کل بلاول بھٹو، راجہ پرویز اشرف، شہباز شریف، شاید خاقان حتی ’کہ مولانا فضل الرحمن کے فرزند ارجمند مولانا اسعد محمود کے دل میں بھی وزیراعظم پاکستان بننے کی خواہش مچل رہی ہے۔ مگر موجودہ بدترین معاشی صورت حال کے تناظر میں یہ عہدہ کانٹوں کی سیج کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ کیوں کہ ایک طرف مہنگائی اور بے روزگاری کا عفریت اور دوسری طرف بیرونی قرضوں کا انبار اور تیسری طرف آئی ایم ایف سے کڑی شرائط پر کیا گیا معاہدہ جیسے گمبھیر چیلنجز ملک کو درپیش ہیں۔

جن سے کوئی مافوق الفطرت شخصیت ہی نمٹ سکتی ہے۔ لہذا آصف علی زرداری اور نواز شریف ایک دوسرے کو اس عہدے کی آفر کرتے پھر رہے ہیں تاکہ پرفارم نہ کر سکنے کی صورت میں ان کی جماعت کو عوام کے غیض و غضب کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ پاکستان کے سابقہ وزیراعظم کی اکثریت ماسوائے شوکت عزیز اقتدار سے زبردستی معزول کیے گئے۔ اس کی بنیادی وجہ دراصل یہ تھی کہ کسی وزیراعظم کی بھی اسٹیبلشمنٹ سے نبھ نہیں سکی۔ ان میں سے دو تین باقاعدہ ”ان“ کے ہاتھ پر بیعت کر کے کرسی پر براجمان ہوئے تھے۔ مگر مفادات کے ٹکراؤ نے دونوں کو ایک دوسرے کے مقابلے پر لا کھڑا کیا۔

ملک کا انتظامی سربراہ ہونے کے باوجود سابق وزیراعظم عدلیہ کے ایک بنچ یا ایک ٹرک پر سوار چند وردی والوں کی مار ثابت ہوئے۔ اس ذلت آمیز انجام کے باوجود آج بھی اس عہدہ جلیلہ تک پہنچنے کی خواہش بہت سوں کے دلوں میں انگڑائی لے رہی ہے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں دو شخصیات مخدوم امین فہیم اور میاں شہباز شریف کو بے شمار دفعہ وزیراعظم بننے کی آفر ہوئی مگر دونوں نے اپنے قائدین سے وفاداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہر آفر کو ٹھکرا دیا۔

اپوزیشن آج کل وزیراعظم عمران خان کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے ایوان اقتدار سے بے دخل کرنا چاہتی ہے۔ لہذا ق لیگ کے پانچ اراکین قومی اسمبلی اس بدلتی ہوئی سیاسی صورت حال میں بڑی اہمیت اختیار کرچکے ہیں۔ سیاست کے بڑے کھلاڑی بشمول وزیراعظم عمران خان چوہدری برادران کے ڈیرے پر حاضری دے چکے ہیں۔ مگر گجرات کا یہ گھاگ سیاسی گھرانا اپنے پتے سینے سے لگائے تیل کی دھار دیکھنے میں مصروف ہے۔ وزیراعظم کی چوہدری برادران کے ڈیرے پر حاضری کے بعد ، حیران کن طور پر طارق بشیر چیمہ نے ایک ٹی وی پروگرام میں یہ بیان دیا ہے۔ کہ ان کی جماعت نے حکومت کی حمایت یا مخالفت کا کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ وزیراعظم کی ق لیگ کی قیادت سے ملاقات کے مثبت نتائج برآمد نہیں ہوئے۔

درحقیقت چوہدری پرویز الہی کو آصف علی زرداری نے پنجاب کا حاکم بنانے کی نوید سنا رکھی ہے۔ چوہدری برادران یہ توقع کر رہے تھے کہ شاید وزیراعظم ان کو ویسی ہی پیشکش کریں گے۔ مگر عثمان بزدار کی وفد میں موجودگی سے ان کو اندازہ ہو گیا تھا کہ عمران خان ان کو پنجاب کے تخت پر بٹھانے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے۔

حکومت کی ایک اور اتحادی جماعت ایم کیو ایم کے کنوینر خالد مقبول صدیقی کا یہ بیان بھی بڑی دلچسپی کا حامل ہے۔ جس میں انہوں نے کہا ہے وزیراعظم کا اپنے عہدے پر برقرار رہنا اتنا اہم نہیں ہے جتنا عوام کا زندہ رہنا۔

ملک کے ڈرامائی سیاسی منظرنامے میں بالادست قوتوں کا رول اس بات کا تعین کرے گا۔ کہ موجودہ حکومت برقرار رہے گی یا کوئی نیا بندوبست سامنے آئے گا۔ یہ بات سب جانتے ہیں کہ ایم کیو ایم اور ق لیگ وہی فیصلہ کریں گی۔ جس کا ان کو اوپر سے کہا جائے گا۔

دوسری طرف مگر وزیراعظم صاحب ماضی کے وزیراعظم کی طرح آسانی کے ساتھ گھر نہیں جائیں گے۔ خان صاحب نے فرمایا ہے اگلے چار پانچ ہفتے بڑے اہم ہیں۔ اگر حالات ان کے قابو میں نہ آئے تو وہ اپوزیشن میں جا کر بیٹھ جائیں گے۔ اس وقت عمران خان کی مقبولیت کا گراف کافی کم ہو چکا ہے۔ مگر تحریک عدم اعتماد کے ذریعے نکالے جانے کی صورت میں وہ سیاسی شہید بن کر بڑے خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔ غیر جانبدار مبصرین کی اکثریت اپوزیشن کی طرف سے بچھائی جانے والی بساط کو غیر ضروری اور غیر منطقی سمجھتی ہے۔ کیوں کہ اس کے نتیجے میں عمران خان کو سیاسی طور پر زبردست فائدہ ہو گا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ خان صاحب بطور اپوزیشن لیڈر محاذ آرائی کو عروج پر لے جائیں۔ جس کا نہ ملک متحمل ہو سکتا ہے اور نہ ہی جمہوریت۔

فرض کرتے ہیں کہ تحریک عدم اعتماد اگر کامیاب بھی ہوجاتی ہے تو اپوزیشن کے پاس کون سی گیدڑ سنگھی ہے کہ وہ موجودہ تباہ کن معاشی جمود کو پلک جھپکتے ہی ختم کردے۔ ہو سکتا ہے انہیں چند غیر مقبول فیصلے کرنے پڑھ جائیں۔ جس کے نتیجے میں عوام میں مایوسی پیدا ہونے کا احتمال ہو سکتا ہے۔ اس طرح برسراقتدار جماعت کی مقبولیت میں واضح کمی آ سکتی ہے۔ جس کا فائدہ بہرحال دوسری پارٹی کو ہو گا۔

مبصرین کے مطابق اپوزیشن کی دونوں پارٹیوں کے درمیان اگلی حکومت کی مدت کے معاملے پر اتفاق رائے نہیں ہوسکا۔ نواز شریف فوری طور پر الیکشن کا انعقاد چاہتے ہیں۔ کیوں کہ فوری الیکشن نواز لیگ کو سوٹ کرتے ہیں۔ جب کہ زرداری صاحب سندھ حکومت اور عدم اعتماد کی تحریک کے بعد قائم ہونے والی وفاقی حکومت کو 2023 تک برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ چڑیا والی ایک اہم شخصیت نے اپنے حالیہ تبصرے میں کہا ہے زرداری صاحب وفاق شہباز شریف کے حوالے کر کے نون لیگ کی مقبولیت میں ڈینٹ ڈالنا چاہتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ نئی حکومت بقیہ ڈیڑھ سال میں پرفارمنس دکھانے میں ناکام رہے گی لہذا عوام توپوں کا رخ نون لیگ کی طرف کر دیں گے۔ اس طرح آنے والے انتخابات میں نواز لیگ مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کرسکے گی۔

دوسری طرف بلاول بھٹو نے وزیراعظم کو مستعفی ہونے کے لیے پانچ دن کا الٹی میٹم دے دیا ہے۔ انہوں نے دوسری صورت میں اسلام آباد پہنچ کر تحریک عدم اعتماد لانے کا عندیہ دیا ہے۔

آنے والے دو ہفتے ملکی سیاست کے حوالے سے بڑے اہم سمجھے جا رہے ہیں۔

Facebook Comments HS