پشاور کے قصہ خوانی بازار کی مسجد میں دھماکہ، 30 افراد ہلاک

پاکستان کے صوبے خیبرپختونخوا کے شہر پشاور کی مسجد میں ہونے والے دھماکے میں 30 افراد ہلاک جب کہ متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔ دھماکہ قصہ خوانی بازار کے کوچہ رسالدار کی شیعہ جامع مسجد میں ہوا۔
وفاقی وزیرِ داخلہ شیخ رشید احمد نے دھماکے کو خود کش قرار دیتے ہوئے کہا کہ دھماکے سے قبل کوئی تھریٹ الرٹ موجود نہیں تھا۔
اُنہوں نے کہا کہ ایک حملہ آور نے مسجد کے باہر ڈیوٹی پر مامور پولیس اہلکار کو ہلاک کیا اور وہ مسجد میں داخل ہو گیا ۔
اُن کا کہنا تھا کہ یہ اندوہناک واقعہ ہے اور یہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب آسٹریلیا کی ٹیم 24 برس کے طویل وقفے کے بعد پاکستان میں ٹیسٹ میچ کھیل رہی ہے۔
پشاور پولیس نے تصدیق کی ہے کہ دو حملہ آوروں نے مسجد میں گھسنے کی کوشش کی اور اس سے قبل باہر موجود پولیس اہل کاروں کو نشانہ بنایا۔
ایس ایس پی آپریشنز ہارون رشید نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ دہشت گردوں کی فائرنگ سے ایک پولیس کانسٹیبل ہلاک جب کہ دوسرا شدید زخمی ہوا۔
پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے پشاور دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے واقعے کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
عمران خان نے زخمیوں کو بہترین علاج معالجے کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے انتظامیہ کو ہدایات بھی جاری کر دی ہیں۔
پاکستان کے ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق دھماکہ قصہ خوانی بازار کے علاقے کوچہ رسالدار کی مسجد میں ہوا ۔
دھماکے کے فوری بعد امدادی ٹیمیں جائے حادثہ پر پہنچ چکی ہیں جب کہ شہر کے بڑے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔
پاکستان کے انگریزی اخبار ‘ڈان’ کی رپورٹ کے مطابق زخمیوں کی بڑی تعداد کو پشاور کے لیڈی ریڈنگ اسپتال میں منتقل کیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ قصہ خوانی بازار کا علاقہ ماضی میں بھی دہشت گردی کی کارروائیوں کا نشانہ بنتا رہا ہے۔ یہاں بڑی تعداد میں دکانیں اور ریستوران ہیں اور جمعے کو یہاں رش دیکھا جاتا ہے۔
خیبر پختونخوا حکومت کے معاونِ خصوصی برائے اطلاعات محمد علی سیف نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ حملہ آور کا مسجد کے باہر پولیس کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس کے بعد زوردار دھماکہ ہو گیا۔
اُن کا کہنا تھا کہ جمعے کے روز مساجد کی سیکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے جاتے ہیں اور مذکورہ مسجد کے باہر بھی پولیس اہل کار تعینات تھے۔ تاہم اس کے باوجود یہ ناخوشگوار واقعہ پیش آیا۔

انسان نما وحشی درندوں پر اللہ کی لعنت ہو ۔۔۔ ان دہشت گردوں کی حمایت کرنے والوں پر بھی لعنت ۔ پاکستان واحد ملک ہے جہاں مسلک دیکھ کر اظہار ہمدردی کیا جاتا ہے یعنی انسانیت نامی کوئی چیز پاکستان میں ہے ہی نہیں ۔۔۔۔ مسلکی کاروبار بڑے عروج پر ہے ۔