دلیل کا مقابلہ دلیل سے کیا جائے بموں سے نہیں


نظریاتی جنگ دلائل سے لڑی جاتی ہے ہتھیار اور بموں سے نہیں۔ اگر آپ اپنے نظریات کا استحکام اور دفاع چاہتے ہیں تو قلم کو پکڑیے، کتابوں سے دوستی کیجیے، مکالمہ کا ماحول پیدا کیجیے۔ نظریات کی حفاظت اپنے حریف کو قتل کر کے، احتجاج و مظاہرہ کر کے ہر گز نہیں کی جا سکتی ہے۔

انسانی خون اتنا بھی بے قدر نہیں ہے کہ جس کو صرف نظریاتی اختلاف کی بنیاد پر بہا دیا جائے، انسان کے جسم کو بم کے دھماکوں سے چیتھڑوں میں بدل دیا جائے۔

اسلام تو فمن شآء فلیؤمن ومن شآء فلیکفر کی صدائیں بلند کرتا ہے، وہ لا اکراہ فی الدین کا پیغام سنا کر جبر و تشدد کا خاتمہ کر کے فرد کی آزادی، مذہب کی آزادی کی راہیں ہموار کرتا ہے۔

مذہب کے ٹھیکیدار جو عوام میں چیخ چیخ کر، جنت کی بشارتیں سنا سنا کر عدم برداشت کی بیج بوتے ہیں، یہ اعلان کرتے ہیں کہ اپنے مخالف کو برداشت نہیں کرنا ہے۔

انہیں ٹھیکیداروں کی محنت کا نتیجہ ہے کہ نظریات کی حفاظت استدلال اور مکالمہ سے کرنے کے بجائے گن مشین اور بموں کی چوٹ سے کی جا رہی ہے، مختلف جماعتوں کے علماء میں سے کسی کو منظر سے غائب کر دیا جاتا ہے تو کسی کے اوپر گولیاں داغ دی جاتی ہیں تو کسی فرقے کی مجالس و محافل میں کوئی خبطی اپنے جسم پر بموں کو لگا کر خود کش حملے کرتا ہے اور بے شمار معصوم لوگوں کو لقمہ اجل بنا دیتا ہے تو کوئی حیوان انسانی جان اور مساجد کی حرمت کو بموں کے دھماکوں سے پامال کر دیتا ہے۔

مذہب کے ٹھیکیدار ان کارناموں کے خلاف کھل کر کیوں نہیں بولتے ہیں؟ اس کی مذمت میں احتجاج کیوں نہیں کرتے ہیں، عوام کے اندر تحمل و برداشت پیدا کرنے کے لیے تحریک کیوں نہیں چھیڑتے ہیں؟

یاد رکھیے موجودہ عہد بہت بدل چکا ہے مجادلے پر مکالمے کی فتح ہو چکی ہے۔ اس دور کی حقیقت یہ ہے کہ بے شمار مختلف رجحانات، بے شمار افکار اپنے تضاد کے کے باوجود موجود ہیں اور سب کو ایک سطح پر عمل کرنے کی آزادی بھی ہے۔

یہ دور عقلیت کا ہے اس دور میں عقیدت و احترام کی بنیاد پر نظریات کو فالو کرنے کا رجحان مائل بہ زوال ہو رہا ہے۔ آج کا دور اس نظریے کو فوقیت دے رہا ہے جس کی بنیادیں دلائل پر قائم ہیں، جو عقلیت کے میزان پر پورا اتر رہا ہے، جس کی تبلیغ و اشاعت کے لیے طاقت و قوت کو استعمال کرنے کے بجائے مکالمے کو اپنایا جا رہا ہے۔

اس دور میں اگر کسی بھی نظریے کے دفاع یا استحکام کے لیے ذرا بھی تشدد کی راہ اختیار کی جاتی ہے تو وہ حق ہونے کے باوجود اپنی اہمیت اور صداقت کھو دیتا۔ اس لیے معاصر اسلوب کو سمجھنا بہت ہی ضروری ہے اور لوگوں کو آداب گفتگو سے زیادہ آداب اختلاف سکھانے کی ضرورت ہے۔

Facebook Comments HS