دور بدلا ہے تو انسان بھی بدلے


آج کا انسان دوسرے انسان کو یہ تسلی دینے سے قاصر ہے کہ وہ جیے تو کیوں جیے وہ ان سوالات کے جوابات دینے میں کوتاہ بیں ہے کہ انسان کی تخلیق کا مقصد کیا ہے اور یہ کن چھنبیلوں میں پڑ چکا ہے۔ ہمارے زمانے کی نسل نو اس پر غور کرنے کے درپے نہیں۔ اس آسائش اور پر ہنگم زندگی میں ہم زندگی سے پر مسرت لمحے کشیدنے میں ناکام رہے ہیں۔ ہمیں بارش اچھی لگتی ہے نہ ہوا کہ کچھ لمحوں کے بعد سکون زائل ہو جاتا ہے۔ ہم دھند کے متوالے ہیں لیکن اس میں بھی کچھ دکھائی نہیں دیتا۔

ہم نے آنے والی نسلوں کو نہیں بتایا کہ زندگی کانٹا ہی نہیں خوش رنگ پھول بھی ہو سکتی ہے۔ جس سے دوسروں کی زندگیاں مہکیں جو فضا کو معطر و خوشبودار اور ماحول کو خوشگوار بنا دے۔ بالآخر لوگ کھلکھلا اٹھیں اور جی اٹھیں۔ ہم انھیں آسمان دکھاتے رہے لیکن یہ نہ بتا سکے کہ یہ خلا ہے۔ وہ خلا جو ہماری زندگیوں میں سب کچھ ہوتے ہوئے بھی قائم رہتا ہے۔ بحیثیت قوم ہم نے اپنی اگلی نسلوں تک ترچھ رویے لفظوں کا بے جا استعمال نفرت خود نمائی دولت کی ہوس اور خود کو آگے بڑھانے آگے لے جانے کی لگن سکھا گئے مگر یہ بتانا بھول گئے کہ احساس بھی کوئی شیئی ہے جس پہ انسانیت کی عمارت کھڑی ہے۔

یہ عمارت میں ہو تو عمارت قائم ہے نہ ہو تو منہدم۔ سلطان اعلی نے انسانی ہدایت کے لیے جو راستہ چنا جسے مذہب سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس میں پہلے پہل آدمی ابو البشر سے لے کر تاآنکہ پیکر صدق و صفاء صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم تک تمام میں ایک قدر مشترک رکھی وہ ہے احترام باہمی احساس چہرہ شناس دل جو، صلح جو انسان ہونا۔ یہی مقصود خلقت تھی اور مطلوب قدرت بھی۔ گزشتہ صدی سے نکل کر جیسے ہی دور اگلی صدی میں داخل ہوا۔

زمانے نے کروٹ بدلی۔ ٹیکنالوجی کی دوڑ میں ہر شخص آگے نکلنے کے درپے ہو گیا۔ یہ معیوب نہیں خداوندی تقاضوں اور نبوی تعلیمات کے مطابق انسان سے مطلوب ہے۔ وہ الگ بات ہے ان چیزوں کی ایجاد میں اہل مغرب صف اول میں نظر آتے ہیں۔ بہرحال یہ خالق کے شاہکار انسان سے متوقع تھا اور امر ہوکے رہا۔ ان بحثوں، جھگڑوں میں پڑنا وقت کا ضیاع ہے اس کے سوا کچھ نہیں۔ خالق کی رضا کے حصول کے لیے آگے بڑھنا ہو گا، تساہل و غفلت کے پردے دور کرنا ہوں گے۔

پھر دیکھیے رشتوں کی جگہ مشینوں اور نت نئی ایجادات نے لے لی۔ اب ترقی میں ایسی جدت آئی کہ ہم نرمی کو یاد نہ رکھ سکے۔ سخت چیزیں اس لیے لازم ہیں کہ زمین کو قائم رکھنے کے لئے پہاڑوں کا قائم رہنا ضروری ہے۔ خلیفۃ اللہ حضرت داؤد علیہ السلام جو آہن گر یعنی لوہے کا کام کرنے والے تھے جن کے ہاتھ کے لمس سے لوہا نرم اور آواز کی تاثیر سے طیور یعنی پرندے مسحور و مسرور ہو جایا کرتے تھے۔ لیکن ہمارے آس پاس رشتوں اور احساسات میں ردو بدل ہوا کی مانند سب کچھ اڑا کر لے گیا۔

اکیسویں صدی میں دو قسم کے لوگ سامنے آئے ایک وہ والدین جو سختیاں جھیل کر اولاد کو کسی مقام پر پہنچانے کی جد و جہد کرتے رہے اور چالیس سال گزر جانے کے بعد سمجھتے تھے کہ سختیاں تو اب سختیاں نہیں رہیں۔ جو ہم نے جھیلی وہ سختیاں تھی جبکہ ان کی ماضی کی سوچ حال تک آ کر انھیں یہ باور نہ کروا سکی کہ جو اب جھیل رہے ہیں وہ بھی آزمائش ہے۔

اس میں وہ اولاد کی زندگی میں پوری طرح داخل ہو کر نہیں سمجھ سکے کہ اولاد اس زمانے میں کس کرب سے گزرتی ہے۔ جب ان کی تربیت کسی اور طرح سے ہو اور اگلے کچھ سالوں میں زمانہ اور اس کے رنگ بدل جائیں۔ اولاد اس آزمائش میں کہ والدین کو دکھ نہ پہنچے۔ انھیں بتاتی نہیں اور حقوق مکمل کرنے پر کوشاں ہے۔ دوسری جانب وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنا مال زر الغرض ہر شے اولاد پر لٹا دی۔ انہیں بھی والدین نے اچھا شہری بنانے کی کوشش کی تربیت میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔

ایسے میں والدین اولاد کو توجہ نہ دے سکے۔ یوں نسل نو ایک ایسے دہانے پر پہنچی کہ کسی کو معلوم تک نہیں کہ کیسے یہ اندرونی احساس کا قتل ہو رہا ہے۔ ان کے پاس اولاد کو سننے کا وقت نہیں۔ جہاں سننے کا وقت نہ ہو وہاں ایسے سہارے تلاش کیے جاتے ہیں جو سکون دے سکیں۔ سکون کے لئے گولیوں کی ایجادات نے ایک اور راہ نکالی۔ پھر مستزاد یہ عیاشی کی روش پہ چل نکلے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ والدین اور اولاد دونوں سے سکون رخصت ہو گیا۔

کمی کہاں آئی؟ ہم سب ایک دوسرے کے قریب تھے لیکن اتنے دور کیسے ہو گئے۔ ہماری شامیں بزرگوں سے ماضی کے قصے سننے میں مشغول تھیں لیکن یک لخت ٹیکنالوجی نے فاصلے کم کیے لیکن ہم نے اسے ایسا اپنایا کہ پاس بیٹھے شخص کا فاصلہ بھی زیادہ ہو گیا۔ ہم نے ہر طرح سے ایک دوسرے کا قتل کیا۔ معاشی قتل فرضی قتل لہجوں کا قتل احساس کا قتل وقت کا قتل۔ یوں ہم کہنے لگے کہ ہم قریب ہیں لیکن بعید تھے۔ ہم پاس تھے مگر دور تھے۔ ہم میں احساس تھا مگر در اصل نہیں تھا۔

ہم جس کے لئے پریشان تھے وہ ہمارے لئے نہ تھا۔ ایسی کمی ایسی تبدیلی ایسا شعور جس نے ہمیں ہمارے اپنوں سے جدا کر دیا۔ ہم پر آہستہ آہستہ ایسی بجلیاں گرتی رہیں جس سے گھر کے گھر تباہ ہو گئے۔ پھر بھی ہم قائم ہیں۔ خدا کی زمین پر موجود ہیں۔ ہم بدلے لیکن ختم نہیں ہوئے۔ ہمارے اندر کچھ زندگی باقی تھی ہمارے اندر کچھ احساسات حاوی تھے۔

ان سارے حالات میں جب کوئی سننے والا نہ ملا تو کچھ لوگ خدا اور علم کی تلاش میں نکلے۔ کسی کو باعلم لوگوں کی راہنمائی ملی اور کسی نے خود سے وہ سفر طے کرنا شروع کیا جو خدا کی جانب تھا۔ اہل علم اور اہل تلاش کو راستہ مل جاتا ہے۔ اس سر زمین پر خدا کی بہت بڑی مہربانی یہ ہے کہ ہمارے اندر ہی عظیم لوگوں کو پیدا کیا اور انھیں عام دکھا کر عظیم بنا دیا۔ اپنے قریب کر لیا۔ انھیں وہ روشن چراغ بنایا جس سے لوگ روشنی حاصل کرتے ہیں۔

یہ وہ ستارے ہیں جن سے اندھیرے میں سفر کرنا ممکن ہو جاتا ہے۔ وہ لوگ جو اس کرب سے گزر کر والدین بنے وہ جان گئے تکلیف کیا ہے۔ احساس کسے کہتے ہیں تمنا ہو تو اس کی رخصت کیسے ہوتی ہے اور کس خواہش کو حاصل کا جامہ پہنایا جاتا ہے۔ وہ جو آج کے دور کے والدین ہیں جن کے ہاتھوں میں اگلی نسل کے ستارے ہیں وہ آسمان بن کر اس نسل کو کسی منزل پر پہنچانے کے درپے ہیں۔ وہ جو جھیل گئے آگے نہ جھیلنے دیں گے۔ وہ جواب پا گئے اسی لئے ان کے پاس اگلی نسل کے سوال کا جواب موجود ہے۔

مجھے یقین ہے جو علم انھیں حاصل ہے وہ اگلی پود کو منتقل ہو گا۔ وہ رنگوں کے معنی جان پائیں گے وہ پھول کے ساتھ کانٹوں کو بھی نگاہ میں رکھیں گے۔ مگر مایوس نہیں ہوں گے۔ مجھے یقین ہے وہ قدرت کے قریب ہوں گے۔ مجھے یقین ہے وہ زندگی جئیں گے۔ مجھے یقین ہے وہ لوگوں کو جینا سکھائیں گے۔ مجھے یقین ہے وہ نہ سننے کے غم سے آزاد ہوں گے۔ میں ان کی سرشت میں قیادت دیکھ رہا ہوں۔ میں انہیں راست گو معاملہ فہم فیصلہ ساز محسوس کر رہا ہوں۔ میں انہیں نباض وقت و قوم اور عہد ساز دیکھتے ہوئے سلام پیش کر رہا ہوں۔ اے آب و گل گواہ رہنا۔ میں ان کی چھوٹی آنکھوں میں چمک خلوص نیک نیتی اور محبت دیکھ رہا ہوں۔

Facebook Comments HS