وجود زن سے ہیں تصویر کائنات میں رنگ

عورت معاشرے کا ایک لازمی، ناقابل تردید اور قابل قدر کردار ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق دنیا کے 90 میں سے 85 فیصد معاشروں میں عورت پر تشدد کیا جاتا ہے اور خواتین پر تشدد دراصل اس بیمار ذہنی سوچ کی عکاسی ہے جو خواتین کو ان کا جائز مقام اور حق دینے کو کسی طرح تیار نہیں۔ اس بیمار اور قبیح سوچ کو رفع کرنے کے لیے اقوام متحدہ ہر سال 25 نومبر سے 10 دسمبر تک خواتین پر جنسی تشدد کے خلاف عالمی مہم کا انعقاد کرتا ہے۔
خواتین پر تشدد کی کئی صورتیں ہیں جن میں جسمانی تشدد، جنسی تشدد، نفسیاتی تشدد اور معاشی تشدد شامل ہیں۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا میں 54 ہزار لڑکیاں 2012 میں جسمانی تشدد کے باعث ہلاک ہوئیں جن میں 30 ہزار لڑکیاں جنوبی ایشیاء سے تعلق رکھتی تھیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ
پاکستان میں ڈیموگرافک اینڈ ہیلتھ سروے کے مطابق گزشتہ برس 3445 جسمانی تشدد کے کیسز میں سے 1746 جنسی استحصال کیسز رجسٹرڈ ہوئے، جن میں سے 76 فیصد دیہی علاقوں میں اور 24 فیصد شہری علاقوں میں تھے۔ ترقی یافتہ ممالک کے اعداد و شمار سے ان کے اس دعوے کی نفی ہوتی ہے جو وہ عرصے سے کرتے آ رہے ہیں کہ ان کا معاشرہ عورت کو مرد کی برابری کا مقام دیتا ہے
عورت کی عزت کسی بھی اسلامی معاشرے کا سب سے اہم اصول ہے مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ہونے کے باوجود ہم مکمل طور پر اسلامی شریعت لاگو نہ کر پائے ہیں۔ جس کا ایک واضح ثبوت عورت کو ہمارے معاشرے میں مرد کی نسبت حقیر سمجھنا ہے۔ اللہ تعالی نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے۔ جس میں مرد و زن دونوں شامل ہیں اس سے یہ بات واضح ہوئی کہ سب انسان مساوی ہیں۔ اس میں کچھ غلط نہیں کہ انسان تو بس پیدا ہوتا ہے۔ مساوی یا غیر مساوی نہیں اب یہ خود انسان کے اپنے اوپر منحصر ہے کہ وہ خود کو کیا مقام دے۔ یہ انسانی فطرت ہے کہ وہ رسومات اور تجربات کی روشنی میں اپنے اخلاقی اصول بنا کر اپنے مقام کا تعین کرتا ہے۔
اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ مرد جسمانی طور پر مضبوط ہونے کے باعث معاشرے میں نگہبان اور محافظ کی حیثیت رکھتا ہے مگر یہ بھی سچ ہے کہ ایسے گھرانے بھی اسی معاشرے میں موجود ہیں جہاں عورت کے ذمہ کفالت بھی ہوتی ہے اور نگہبانی بھی لہذا یہ امر انتہائی اہم ہے کہ عورت اور مرد کی تعلیم و تربیت یکساں ہو۔ مرد و عورت کا جداگانہ دائرہ کار ہماری معاشرتی کمزوری ہے یہ ہمارے رسم و رواج اور عادات کا نتیجہ ہیں۔
اس بات سے قطعاً انکار نہیں کیا جا سکتا کہ عورت فطری طور پر مرد کی نسبت جذباتی ہوتی ہے۔ اس کے لیے رشتے اہم ہوتے ہیں لیکن اس کا یہ مقصد نہیں ہے کہ ہمارے معاشرے میں اس کی اس فطرت کو اس کی کمزوری سمجھا جائے اور اسے اخلاقی طور پر بلیک میل کیا جائے۔ عورت کے جذبات اس کے لیے انتہائی اہمیت رکھتے ہیں مگر یہ کہہ کر اسے ناقص العقل کہہ دینا بالکل غلط ہے۔ بقول ایک شاعر
لوگ عورت کو فقط جسم سمجھ لیتے ہیں
روح بھی ہوتی ہے اس میں، کہاں سوچتے ہیں
یہ بے حد افسوس کی بات ہے کہ ہمارا معاشرہ عورت کو کسی صورت میں بھی وہ مقام نہیں دے پا رہا جو کہ ہمارا عالمگیر مذہب اسے دیتا ہے اگر وہی مقام عورت کو دیا جائے تو یہ مرد و زن کا جھگڑا ہی ختم ہو جائے۔
بیشک بیٹیاں تو ایسے پھول کی طرح ہوتی ہیں جو اگر گھر کے گلشن میں ہو تو پورا گلشن معطر رہے اور جب وہ کسی اور کے گلشن میں چلی جائے تو مرجھانے کے بجائے اس گھر کا گلشن بھی اسی طرح معطر ہو جائے۔
کاش کہ ہم یہ بات سمجھ جائیں کہ عورت کی توقیر و عزت میں ہی مرد کی عزت ہے۔ بے حد دکھ کی بات ہے کہ کچھ جاگیردارانہ سوچ کے حامل افراد صرف اپنے ذاتی مفادات کے تحت عورت کو اس کے حق سے محروم کر دیتے ہیں ایسا عموماً اس وقت زیادہ دیکھنے میں آتا ہے جب وراثت یا زمین کا مسئلہ آڑے آتا ہے تب یہ ظالم جاگیردارانہ سوچ والے افراد عورت کو قتل کرنے سے بھی نہیں چوکتے۔ ایک صورت یہ بھی اکثر نظر آتی ہے کہ جائیداد کی تقسیم کے خوف سے یہ ظالم لوگ عورت کا نکاح قرآن سے کر دیتے ہیں جس کی مذہبی یا اخلاقی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ اب جیسے جیسے ہمارا معاشرہ ترقی کر رہا ہے یہ رسومات اور طور طریقے دم توڑ رہے ہیں۔ مگر ان کا وجود اب تک ہے اور یہی لمحۂ فکریہ ہے۔
قرآن کے مطابق مرد و عورت ایک دوسرے کے حریف نہیں بلکہ زوج ہیں۔ اس لیے دونوں مل کر ایک بنیاد رکھتے ہیں اور اسی طرح ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔ ہمارا مذہب کسی صورت عورت پر جسمانی تشدد کی اجازت نہیں دیتا۔
یہ انتہائی دکھ کی بات ہے کہ مرد سے برابری کے چکر میں آج کی عورت وہ جذبات اور احساسات سے محروم ہوتی جا رہی ہے جو اس کا فطری تقاضا رہے ہیں اور بس یہی وجہ ہے کہ آج کا مرد بھی عورت کو وہ عزت نہیں دے رہا جو عورت کو ہمارا دین دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہماری زندگیاں بے مزہ اور احساسات سے عاری ہو گئی ہیں اور اپنا توازن کھو بیٹھی ہیں۔ ہمیں چاہیے کے یہ برابری کی جنگ چھوڑ کر زندگی کے ہر معاملے میں ایک دوسرے کا سہارا بنیں۔

