بلاول بھٹو کا عوامی مارچ پنجاب میں پیپلز پارٹی کی مقبولیت کس حد تک بحال کر پایا؟

عمر دراز ننگیانہ - بی بی سی اردو لاہور


پاکستان پیپلز پارٹی کا ’عوامی مارچ‘ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں اپنا سفر ختم کر چکا ہے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں مارچ کے شرکا نے اپنے زیادہ تر دن پنجاب ہی میں گزارے ہیں۔

آج وہ عوامی مارچ کے دسویں دن کا آغاز روات کے ٹی چوک سے کر چکے ہیں اور کچھ دیر بعد وہ سوہان انٹرچینچ پر عوام سے خطاب کریں گے۔ اس کے بعد یہ کارواں براستہ ایکسپریس وے پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد کے سامنے واقع ڈی چوک پہنچے گا جہاں آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔

سندھ چونکہ ایک عرصے سے پیپلز پارٹی کا گڑھ رہا ہے، اسی لیے سیاسی مبصرین کی نظریں پنجاب پر تھیں کہ پنجاب بلاول اور پیپلز پارٹی کا استقبال کیسے کرے گا؟ کیا لوگ سابق وزیرِاعظم بے نظیر بھٹو کے صاحبزادے کی تقریریں سُننے باہر نکلیں گے؟ نکلیں گے تو کتنی تعداد میں ہوں گے؟ اور کیا بلاول اور ان کا مارچ پنجاب میں اپنی جماعت کے ’سنہری دن‘ واپس لا سکیں گے؟

یہ وہی پنجاب ہے جہاں سے ایک سیاسی جماعت کے طور پر سابق وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی پیپلز پارٹی کے سفر کا آغاز ہوا تھا۔

انتخابی اعتبار سے مرکزی حیثیت رکھنے والے پنجاب سے ملنے والی حمایت نے جلد ہی پیپلز پارٹی کو ایک قومی سیاسی طاقت بنا کر کھڑا کر دیا تھا۔

پھر وقت بدلا۔ ذوالفقار علی بھٹو نہ رہے۔ لیکن ان کی جماعت کا ووٹ بینک پھر بھی پنجاب میں متحرک رہا۔ جماعت کی باگ ڈور ان کی صاحبزادی بے نظیر بھٹو نے سنبھالی۔ وہ ایک سے زیادہ مرتبہ وزیرِ اعظم بنیں۔ پھر جلا وطن ہوئیں۔

سنہ 2007 میں وطن واپس لوٹیں۔ صوبہ پنجاب ہی میں دہشتگردی کی ایک کارروائی میں ان کی ہلاکت ہوئی۔ اگلے ہی برس عام انتخابات کے بعد ان کی جماعت نے مرکز میں حکومت قائم کی۔ لیکن صوبہ پنجاب میں وہ حکومت نہ بنا سکیں۔

پی پی پی

پانچ سال بیتے مگر پنجاب میں پاکستان پیپلز پارٹی کے حالات نہ بدلے۔ گذشتہ عام انتخابات میں وہ پنجاب کی صوبائی اسمبلی میں محض چھ نشستیں حاصل کر پائی۔

گذشتہ کئی برسوں سے پنجاب اور خصوصاً جی ٹی روڈ کے دونوں اطراف واقع علاقوں کو حزبِ اختلاف کی بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کا گڑھ مانا جاتا رہا ہے تاہم گذشتہ الیکشن کے بعد پاکستان تحریک انصاف کی یہاں حکومت قائم ہوئی۔

اسی پس منظر میں بلاول بھٹو زرداری ایک ’عوامی مارچ‘ کو لے کر چند روز قبل پنجاب میں داخل ہوئے تھے۔ گذشتہ تقریباً دو دہائیوں میں یہ پہلا موقع تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی بھٹو خاندان کی وارث سمجھے جانے والی کوئی شخصیت لانگ مارچ کی قیادت کرتی پنجاب آ رہی تھی۔

پنجاب میں عوامی مارچ کا استقبال کیسا رہا؟

پیپلز پارٹی کے مارچ نے صوبہ سندھ میں کراچی سے 27 فروری کو سفر کا آغاز کیا تھا اور تین روز کے اندر ہی وہ رحیم یار خان کے مقام سے پنجاب میں داخل ہو گئے تھے۔ ان کے ساتھ ایک بہت بڑا ہجوم اور گاڑیوں کا ایک طویل قافلہ تھا۔

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ایک خصوصی طور پر تیار کیے گئے ٹرک پر سوار ہیں۔ وہ مختلف شہروں اور مرکزی مقامات پر پڑاؤ کرتے مسلسل جلسوں اور ریلیوں سے خطاب کرتے آ رہے ہیں۔

صوبہ پنجاب میں اُن کے سفر کا دورانیہ لگ بھگ ایک ہفتے پر محیط تھا۔ اس میں اُن کا زیادہ وقت جنوبی پنجاب میں گزرا۔

پنجاب میں مختلف شہروں میں ہونے والے اُن کے جلسوں کو دیکھنے والے صحافیوں کے مطابق لوگوں کی ایک اچھی خاصی تعداد تقریباً ہر مقام پر نظر آئی۔ خصوصاً جی ٹی روڈ پر ان جلسوں کے دوران جشن کا سماں رہا۔

تاہم مبصرین کے سامنے اب سوال یہی ہے کہ بلاول بھٹو زرداری پنجاب میں اپنی جماعت کی پوزیشن بہتر کرنے میں کس حد تک کامیاب ہوئے؟

پی پی پی

ان کو لگتا ہے قیادت نے پھر سے انھیں اپنایا ہے

صحافی اور تجزیہ کار عاصمہ شیرازی بھی مارچ کے ساتھ سفر کر رہی تھیں اور مختلف شہروں میں بلاول بھٹو زرداری کے جلسے دیکھتی آ رہی ہیں۔

جی ٹی روڈ پر واقع شہر لالہ موسٰی سے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے عاصمہ شیرازی کا کہنا تھا کہ اُن کے خیال میں بلاول بڑی حد تک پنجاب کے حوالے سے طے کیے گئے اپنے مقاصد میں کامیاب ہوتے نظر آئے ہیں۔

’میرے خیال میں وہ اپنے مقاصد میں 70 فیصد تک کامیاب رہے۔ یہ 25 برس میں پہلا موقع تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی بھٹو خاندان سے قیادت پنجاب میں اس طرح لانگ مارچ کر رہی تھی۔‘

عاصمہ شیرازی نے بتایا کہ مختلف شہروں میں ان کی جلسوں میں شریک ہونے والے لوگوں سے بات چیت ہوئی۔ یہ زیادہ تر ان علاقوں کے مقامی افراد ہوتے تھے۔

’انھوں نے ہمیں بتایا کہ کئی برسوں سے ان کی جماعت کی قیادت ان کے پاس نہیں آئی تھی۔ اب بلاول کے آنے سے انھیں لگتا ہے کہ ان کی قیادت نے ان کو ایک مرتبہ پھر اپنایا ہو۔‘

عاصمہ شیرازی کے مطابق انھوں نے پی پی پی کے مارچ کے دوران نوجوانوں اور خواتین کی ایک اچھی خاصی تعداد کو بھی موجود دیکھا۔ وہ کہتی ہیں کہ جتنے بھی لوگ مختلف شہروں میں جلسوں میں شریک ہوئے، انھوں نے ایک پرجوش مجمے کی شکل اختیار کی۔

’کچھ لوگوں نے ہمیں بتایا کہ وہ (سابق وزیرِ اعظم) بینظیر بھٹو کی صاحبزادی آصفہ بھٹو کو دیکھنے اور سُننے کے لیے آئے تھے۔ لوگوں میں جوش اور جذبہ تھا اور یہ امر بہت اہمیت کا حامل ہے۔‘

’پنجاب میں جدوجہد طویل ہو گی‘

عاصمہ شیرازی کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت وسطیٰ پنجاب کے شہروں ساہیوال اور لاہور میں مارچ کو ملنے والے استقبال سے پوری طرح مطمئن تھی۔

لاہور میں پڑاؤ کے دوران پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما ندیم افضل چن نے بلاول سے ملاقات کر کے پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان بھی کیا۔ عاصمہ شیرازی نے بتایا کہ گجرات شہر میں ایک موقع پر ن لیگ سے تعلق رکھنے والے غضنفر گل بھی مارچ میں پہنچ گئے۔

ان سے جب پوچھا گیا کہ وہ تو ان دنوں ن لیگ کے ساتھ وابستہ تھے تو انھوں نے جواب دیا کہ وہ ذاتی حیثیت میں آئے تھے۔ ’انھوں نے کہا میں خود کو روک نہیں سکا۔‘

غضنفر گل ابتدائی طور پر پی پی پی سے منسلک رہے تھے اور بینظیر بھٹو کے دورِ حکومت میں کئی عہدوں پر فائز بھی رہے تھے۔

صحافی اور تجزیہ کار مظہر عباس کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو زرداری اور ان جماعت کی طرف سے یہ ایک سیاسی مشق کا اچھا آغاز ہے تاہم صوبہ پنجاب میں ان کے لیے جدوجہد بہت طویل ہے جس کے نتائج سامنے آنے میں وقت لگے گا۔

ان کے خیال میں پی پی پی کے لیے یہ بات اچھی ہے کہ کافی لمبے عرصے کے بعد پنجاب میں ایک سیاسی تحریک کا آغاز کیا گیا ہے تاہم اس سے سیاسی اعتبار سے کس حد تک جماعت کی تقدیر بدلے گی اس کا اندازہ جلد ہی ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں لگایا جا سکے گا۔

وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے مارچ کی منصوبہ بندی اچھی کی تھی۔ انھوں نے سندھ سے آغاز کیا تھا جہاں ان کی حکومت بھی ہے۔ جنوبی پنجاب میں بھی تاریخی طور پر ان کی پوزیشن وسطی پنجاب کے مقابلے بہتر رہی ہے۔

تاہم مظہر عباس کے خیال میں ’بلاول اور ان کی جماعت کی اعلیٰ قیادت کو پنجاب میں کافی مزید کام کرنے کی ضرورت ہو گی۔‘

’پنجاب میں سیاسی بحالی کی طرف اچھا آغاز ہے‘

صحافی اور تجزیہ کار راشد رحمان کے خیال میں پنجاب ایک ایسا مرکز تھا جسے پاکستان پیپلز پارٹی تقریباً کھو چکی تھی تاہم ’بلاول بھٹو زرداری کے عوامی مارچ کو پنجاب میں ملنے والا ردِ عمل میرے لیے غیر متوقع تھا اور میرے خیال میں خود ان کے لیے بھی ہو گا۔‘

راشد رحمان کے مطابق اس ’غیر متوقع کامیابی‘ کی دو بنیادی وجوہات ہیں۔ ’ایک تو لوگ دیکھ رہے تھے کہ (آصف علی) زرداری نہیں، بلاول بھٹو قیادت کر رہے تھے۔ دوسرا ملکی حالات ایسے تھے جن کی وجہ سے لوگوں میں بے چینی پائی جاتی ہے۔‘

راشد رحمان کا کہنا تھا کہ ایک زمانے میں پاکستان پیپلز پارٹی کو صوبہ سندھ سے بھی زیادہ حمایت پنجاب سے ملتی تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ سابق وزیرِاعظم ذوالفقار علی بھٹو نے جو کام کیے وہ عام لوگوں میں بہت مقبول ہوئے تھے۔

’تاہم بعد میں پاکستان پیپلز پارٹی نے عملیت پسندی یا عملی حدود کے اندر رہنے کی حکمتِ عملی اپنائی تو پنجاب میں انھوں نے اپنی مقبولیت کھو دی۔‘

صحافی مظہر عباس بھی سمجھتے ہیں کہ پاکستان پیپلز پارٹی سب سے زیادہ مقبول ملازمت پیشہ طبقے میں تھی اور یہی طبقہ اب گذشتہ کچھ عرصے سے بہت کمزور ہوا ہے۔

’بلاول بھٹو کو اس طبقے کو دوبارہ سے مضبوط کرنا ہو گا اور یہی ان کی جماعت کی طاقت ہے۔ تاہم اس میں وقت لگے گا۔‘

عوامی مارچ سے پی پی پی کو پنجاب میں کیا فائدہ مل سکتا ہے؟

راشد رحمان سمجھتے ہیں کہ بلاول بھٹو زرداری کے عوامی مارچ میں شریک ہونے والے افراد کی تعداد اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ انھوں نے پنجاب میں اپنی جماعت کی سیاسی بحالی کے لیے ایک اچھا آغاز کیا ہے۔

تاہم کیا وہ اس ابتدائی کامیابی کو انتخابات میں عملی کامیابی میں تبدیل کر پائیں گے، ’یہ کہنا قبل از وقت ہو گا۔‘

مظہر عباس سمجھتے ہیں کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے لیے یہ آئندہ عام انتخابات کی تیاری کے لیے ایک آغاز ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور دیگر حزبِ اختلاف کی جماعتیں ان دنوں وزیرِ اعظم عمران خان کے خلاف پارلیمان میں عدم اعتماد کی تحریک لانے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ عوامی مارچ سے بلاول بھٹو زرداری کئی مرتبہ عمران خان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔

’ان کی کوشش تھی کہ ان کے اسلام آباد پہنچنے تک کم از کم تحریکِ عدم اعتماد پیش کر دی جائے۔ اگر وہ کامیاب ہو جاتی تو وہ اس کا کریڈٹ لے سکتے تھے۔ اگر وہ نہ بھی ہوتی تو وہ کہہ سکتے تھے کہ وہ اگلے انتخابات کی تیاری کر رہے ہیں۔‘

عاصمہ شیرازی بھی سمجھتی ہیں کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے مارچ کے لیے موزوں وقت کا انتخاب کیا جب ملک میں مہنگائی کافی اونچی سطح پر تھی اور تحریک انصاف کی حکومت کو سیاسی محاذ پر مشکلات کا سامنا تھا۔

’میں یہ نہیں سمجھتی کہ اس مارچ سے پنجاب میں پیپلز پارٹی کی سیاسی طور پر مکمل بحالی ہوئی ہے۔ لیکن اگر وہ اس کے بعد مزید محنت کریں اور کام کریں تو وہ سنہ 2008 کے انتخابات میں اپنی کارکردگی کے بہت قریب پہنچ سکتے ہیں۔‘


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 24793 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments