پاکستانی قوم، عمران خان اور چارلس ڈارون کا نظریہ ارتقا


چارلس ڈارون کا نظریہ ارتقاء ہم نے بچپن میں پڑھا تھا جس کے تحت انسان شروع میں ایک ایسی مخلوق کی نسل سے تھا جو بعد میں انسان اور بندر میں تبدیل ہوئی۔ وہ بندر کی طرح ہاتھ زمین پر رکھ کر چلتا لیکن دھیرے دھیرے اس نے تھوڑا سا اٹھنا شروع کیا اور پھر سیدھا کھڑا ہو گیا۔ اس کے جسم پر بال تھے، جو بعد میں غائب ہو گئے۔

لیکن عقل کا کیا ہوا؟ جسمانی طور پر تو انسانی جسم ترقی کرتا گیا لیکن کچھ لوگوں میں عقل، شعور اور اپنی ذات کی نمائش اور پرستش ابتدائی شکل میں قائم رہیں۔ عمران خان بھی کچھ اسی المیہ کا شکار ہیں۔ ان کی کہی ہوئی باتیں اور تقریریں اب ان کے تعاقب میں ہیں۔

ایک امید کی کرن عمران خان کی شکل میں سامنے آئی تھی لیکن وہ بھی مایوسی کا سبب نکلے۔

حکایت ہے کہ ایک دفعہ ایک بندر نے جنگل میں ہنگامہ برپا کر دیا کہ مجھے بھی جنگل کا بادشاہ بناؤ۔ یہ کیا کہ شیر ہی ہر وقت بادشاہ بنتا ہے۔ شیر نے بندر سے کہا اچھا تم بادشاہ بن جاؤ۔ بندر بھائی اب جنگل کے بادشاہ بن گئے۔ کچھ دنوں بعد ایک بکری غائب ہو گئی۔ سب جانور بندر کے پاس آئے اور کہا اے جنگل کے بادشاہ بکری غائب ہو گئی ہے، آپ کچھ کریں۔ آپ بادشاہ ہیں۔ بندر نے کہا ارے میں کیا کر سکتا ہوں۔ جانوروں نے کہا شیر تو ہمیں تحفظ دیتا تھا، اب آپ ہی کچھ کریں۔

بندر نے کچھ سوچا اور پھر درخت پر چڑھ کر کبھی اس پیڑ پر چھلانگ کبھی دوسرے پیڑ پر۔ کبھی اس درخت سے لٹکتا کبھی دوسرے درخت پر لٹکتا اور لہراتا۔ جانوروں نے کہا یہ کیا کر رہے ہو اس طرح تو بکری نہیں ملے گی۔ بندر نے جواب دیا ”بکری ملے یا نہ ملے، میری کوششوں میں کوئی کمی ہے تو بتاؤ“ ۔

ہمارے ملک کا بھی حال کچھ اسی طرح کا ہے۔ ایسی ہی کوشش کرنے والے بندروں کی حکومت ہے چاہے سندھ ہو یا وفاق۔ ابھی حالیہ دنوں میں پاکستان جانا ہوا۔ ہر گلی اور چوراہے پر مفلسی، بھوک، غربت اور بے حسی بال کھولے سو رہی تھی۔ امن و امان صرف ارب پتی لوگوں کو میسر ہے جو اپنے ساتھ سیکیورٹی گارڈز لے کر چلتے ہیں۔

سڑکوں پر چیختے ہوئے عہدے بتاتے ہیں کہ ہم کتنے امیر ہیں اور ہمارا اس سوسائٹی میں کیا مقام ہے۔ ان چار سالوں میں کچھ بھی تو نہیں بدلا۔ ہاں مگر غریب کی دوا چار ہزار سے سولہ ہزار ہو گئی۔ وزیر مشیر سب ارب پتی ہو گئے لیکن خراب کارکردگی پر احساس ندامت اور شرمندگی کی بجائے الٹا عوام کو ہی مورد الزام ٹھہرانا کہ وہ ٹیکس نہیں دیتے۔ عوام اور کتنا ٹیکس دیں اور کس کس چیز پر دیں؟

عمران خان اور سندھ کے وزیر اعلٰی مراد علی شاہ کی باتیں سن کر لگتا ہے کہ ہم شاید اس پاکستان اور سندھ میں نہیں رہتے جس کا ذکر یہ اپنی تقریروں میں کرتے ہیں۔ ان کی پاکستان کی خوشحالی اور ترقی کی باتیں سن کر ایک پنکھا بنانے والے کا واقعہ ذہن میں آ جاتا ہے۔ ایک دفعہ ہاتھ سے جھلکنے والا پنکھا بنانے والا گلی میں آواز لگاتا پھر رہا تھا کہ پنکھا لے لو ساری عمر چلے گا۔ آپ ختم ہو جاؤ گے لیکن پنکھا کبھی ختم نہیں ہو گا۔

بادشاہ نے بھی یہ آواز سنی اور اس کو اشتیاق ہوا کہ اتنا ہلکا پھلکا سا پنکھا ساری عمر کیسے چل سکتا ہے۔ اس نے پنکھے والے کو بلایا اور کہا تم جھوٹ تو نہیں بول رہے۔ مجھے نہیں لگتا یہ پنکھا ساری عمر چلے گا۔

پنکھے والے نے جواب دیا نہیں بادشاہ سلامت۔ اگر پنکھا ٹوٹ جائے تو جو چاہے آپ سزا دیں۔ میں اگلے ہفتے پھر یہاں آوں گا۔ اگر پنکھے ٹوٹ گئے تو پھر میں سزا کا حقدار۔ بادشاہ نے یہ سن کر اس سے کچھ پنکھے خریدے اور اس سے اگلے ہفتے آنے کا کہا۔

بادشاہ کے ملازمین نے پھنکا جھلکنا شروع کیا تو دوسرے ہی دن اس کی ایک ڈنڈی ٹوٹ گئی اور اس طرح دوسرے تیسرے دن ساری ڈنڈیاں ٹوٹ گئی اور پنکھا ناکارہ ہو گیا۔ باقی پنکھوں کا بھی یہی حال ہوا۔ بادشاہ بہت ناراض ہوا اور سمجھ گیا کہ پنکھا بیچنے والے نے اس کو بے وقوف بنایا ہے اور اب تو وہ دوسرے شہر جا چکا ہو گا اور اب واپس نہیں آئے گا۔

اگلے ہفتے وہی پنکھا بیچنے والا گلی میں آواز لگا رہا تھا کہ پنکھا لے لو، ساری زندگی چلے گا۔ بادشاہ کی حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی کہ وہی پنکھا بیچنے والا اس کے شہر میں پھر آن پہنچا اور وہی جھوٹ بول رہا تھا۔

بادشاہ نے اسے اوپر بلایا اور غصے میں کہا کہ تمھارے سارے پنکھے ایک ہی ہفتے میں ناکارہ ہو گئے۔ تم ایک جھوٹے مکار اور فریبی شخص ہو اور تمہیں اس کی سزا ملے گی۔ پنکھے والے نے انتہائی اطمینان سے جواب دیا کہ بادشاہ سلامت جان کی امان پاؤں تو کچھ عرض کروں۔ بادشاہ نے جواب دیا کہ امان ہے، تم کہو۔

پنکھے والے نے کہا کہ حضور میرا پنکھا ساری زندگی چلتا ہے۔ بندہ گزر جائے گا لیکن پنکھا قائم رہے گا لیکن منحصر اس بات پر ہے کہ آپ نے پنکھا استعمال کیسے کیا تھا۔ بادشاہ نے جواب دیا کہ جیسے اس کو استعمال کیا جاتا ہے۔ میرے ملازمین نے تمھارے پنکھے کو پکڑا اور پھر ادھر سے ادھر گھمانا شروع کر دیا۔

پنکھے والے نے پھر جان کی امان پائی اور عرض کیا نہیں بادشاہ سلامت آپ نے غلط طریقے سے استعمال کیا۔ پنکھے کو ادھر سے ادھر نہیں گھمانا بلکہ اپنے سر کو ادھر سے ادھر گھمانا ہے۔

چارلس ڈارون نے انسانی ارتقاء پر اپنا نظریہ پیش کیا تھا لیکن اسے معلوم نہیں تھا کہ ایک قوم اور اس کے حکمراں ایسے بھی ہو گے جن کی سوچ، عقل اور شعور کا ارتقاء بندر کے اجداد سے شروع ہو کر اس پنکھے بیچنے والے کے جھوٹ، مکر اور فریب پر ختم ہو جاتا ہے۔

Facebook Comments HS