ڈیجیٹل لٹریسی: فیک نیوز اور فیک ویڈیوز کا توڑ

پاکستان میں ان دنوں فیک نیوز کے معاملے میں حکومت اور اس کے حامی خاصے پریشان ہیں۔ ان کی نظر میں شاید پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ میڈیا کا راہ راست پر نہ ہونا ہے۔ بگڑے میڈیا کو سیدھی راہ پر لانے کے لیے کبھی میڈیا ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے قیام کی بات کی جاتی ہے تو کبھی پروینشن آف الیکٹرانک کرائمز (پیکا) نامی قانون میں ترمیم کے ذریعے آزادی رائے پر قدغن لگانے کی کوششیں کی جاتی ہیں۔ لیکن میڈیا اور ڈیجیٹل لٹریسی کے حوالے سے خال خال ہی بات کی جاتی ہے۔
امریکن لائبریری ایسوسی ایشن کی بیان کردہ تعریف کے مطابق ڈیجیٹل خواندہ وہ افراد ہیں ”جنہیں کمیونی کیشن ٹیکنالوجیز کی بنیادی باتوں کے بارے میں سمجھ بوجھ ہو، جو سوشل میڈیا ٹولز کو بہتر انداز میں استعمال کرنا جانتے ہوں۔ جو اپنی آن لائن سرگرمیوں کو محفوظ اور ہراسمنٹ سے بچنا جانتے ہوں۔ جنہیں یہ پتہ ہو کہ ڈیجیٹل مواد کو کیسے تلاش، تخلیق اور استعمال کرنا ہے۔ ایپلی کیشن انسٹال، ویب سائٹ وزٹ، اور ڈیوائس خریدنے سے قبل شرائط و ضوابط کے بارے میں جان کر استعمال کر نے والوں کو خواندہ تسلیم کیا جاتا ہے۔ “
ترقی یافتہ ممالک میں، اسکولوں سے لے کر جامعات تک ڈیجیٹل لٹریسی کو بطور مضمون پڑھایا جاتا ہے ۔ طلبہ کو ڈیٹا پروٹیکشن، مضبوط پاسورڈ، جھوٹ اور سچ کو پرکھنا اور ہراسانی کی صورت میں متعلقہ فورمز سے رجوع کرنا سکھایا جاتا ہے۔ اس کے بر عکس ہمارے ہاں ذرائع ابلاغ پر پابندیاں لگانے پر اکتفا کیا جاتا ہے۔
حالیہ برسوں میں ایک نئی چیز سامنے آئی ہے جسے ڈیپ فیکس کہا جاتا ہے۔ تصاویر اور ویڈیوز میں ردو بدل کر کے مخالف فرد کی نازیبا ویڈیوز اور تصاویر بنا نے کے عمل کو ڈیپ فیکس کہا جاتا ہے۔ پاکستان میں گزشتہ کچھ سالوں کے دوران ذاتی نوعیت کی ویڈیوز لیک ہونے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ 2020 سے لے کر اب تک 50 سے زائد مختلف شعبہ ہائے سے تعلق رکھنے والی مشہور شخصیات سے منسوب نازیبا ویڈیوز وائرل ہو چکی ہیں۔ ایسی ویڈیوز جو سوچے سمجھے منصوبے کے تحت، سیاسی، سماجی، مذہبی اور شوبز سے جڑی شخصیات کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے لیے بنائی جائیں وہ ”مال انفارمیشن“ کہلاتی ہیں۔
پاکستان میں جن مشہور شخصیات کے نام سے منسوب، نازیبا ویڈیوز اور تصاویر وائرل کی گئیں ان میں سے اکثریت نے متعلقہ فورمز سے رجوع کرنا گوارا نہیں سمجھا۔ شاید اس کی وجہ ہمارے سماجی رویے اور پیچیدہ قانونی نظام ہے۔ جامعہ کراچی کے شعبہ نفسیات سے منسلک خاتون لیکچرار نے سائبر کرائم کے قانون پروینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 (پیکا) کے تحت سنہ 2016 میں ساتھ کام کرنے والے پروفیسر کے خلاف آن لائن ہراسانی کا مقدمہ درج کروایا تھا۔
اگرچہ کیس رپورٹ ہونے کے بعد ایف آئی نے بہت ہی کم وقت میں ملزم کا پتہ لگا کر اس کے زیر استعمال چیزیں ضبط کر لیں تھیں۔ لیکن قانونی پیچیدگیوں کی وجہ سے ملزم کو سزا سنانے میں عدالت کو چار سال آٹھ ماہ کا عرصہ لگا۔ 141 سماعتوں کے بعد عدالت نے بالآخر جون 2021 میں الزامات ثابت ہونے پر ملزم کو آٹھ برس قید کی سزا سنائی۔ اسی طرح اداکارہ فاطمہ سہیل کے نام سے منسوب نازیبا ویڈیو لیک کی گئی۔ جس کے بعد فاطمہ سہیل نے ایف آئی اے سے رجوع کیا۔ فارنزک کے بعد یہ بات تو ثابت ہو گئی کہ ویڈیو میں نظر آنے والی خاتون فاطمہ سہیل نہیں بلکہ کوئی اور ہیں۔ لیکن یہ نہیں معلوم ہو سکا کہ جعلی ویڈیو کس نے وائرل کی؟ ایسی کئی مثالیں موجود ہیں، جن کے بارے اگلے مضمون میں لکھنے کا ارادہ ہے۔
گزشتہ کچھ سالوں سے پاکستان میں ’ففتھ جنریشن وار فیئر‘ کی اصطلاح کافی عام ہو چکی ہے۔ ایک طرف اسکرین کے پیچھے چھپے دشمن سے بیانیے کی جنگ جیتنے کے لیے نوجوان نسل کی ذہن سازی کی جا رہی ہے تو وہیں دوسری طرف معلومات تک رسائی کو مشکل بنایا جا رہا ہے۔
ریاست کو فیک نیوز اور اس کی روک تھام سے کہیں زیادہ اس بات کی فکر ہونی چاہیے کہ ملک میں اس وقت بھی چالیس فیصد آبادی ان پڑھ ہے۔ اقتصادی سروے برائے 2020۔ 21 کے مطابق ”ملک میں شرح خواندگی 60 فیصد ہے۔ بائیس کروڑ آبادی والے ملک میں سرکاری و نجی جامعات کو ملا کر کل جامعات کی تعداد 233 ہے۔ اور ان جامعات میں زیر تعلیم طلبہ کی تعداد 19 لاکھ سے کچھ زائد ہے۔“
پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن کے فراہم کردہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ملک میں اس وقت انٹرنیٹ استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد 10 کروڑ 96 لاکھ 12 ہزار سات سو سات ہے۔ ذرا سوچیں جس ملک میں ہر سو میں سے چالیس شہری ان پڑھ ہوں، اور ساٹھ فیصد آبادی میں سے بمشکل دس سے پندرہ فیصد اعلیٰ تعلیم یافتہ ہوں اور انٹرنیٹ تک رسائی تقریباً نصف آبادی کو حاصل ہو، تو ایسے میں زیادہ خطرناک کون ہوا؟ جھوٹی خبریں بنانے والے یا پھر جھوٹی خبروں کو آگے پھیلانے والے وہ افراد جو لائک، شیئر اور ٹیگ کرنے کے علاوہ آگے کچھ نہیں جانتے۔
فیک نیوز کی روک تھام کے لیے قانون بنانا اچھی بات ہے، لیکن جو سب سے زیادہ غیر محفوظ اور نشانے پر ہیں ان کے بارے میں سوچیں۔ جب تک اس طبقے کو کمیونی کیشن ٹیکنالوجیز کے علوم سے روشناس نہیں کرایا جاتا، جھوٹ کا کاروبار یونہی چلتا رہے گا۔ لہذا مسائل کا مستقل حل ڈیجیٹل لٹریسی کو عام کرنے اور اسے بطور مضمون نصاب میں شامل کرنے میں ہے۔


بہت بہترین معلومات۔ بہت شکریہ