جھوٹا ہے یہ پیالہ


عظیم انسان کی تلاش جاری تھی۔ خدا جانے کس جرم کے بدلے یہ خبط پلے باندھ دیا گیا۔ ہم تین دوست اپنی کمیونیٹی میڈیسن کی ریسرچ کے سلسلے میں انٹرویو کر رہے تھے۔ ہمیں ڈپریشن کے سلسلے میں عمومی رائے اور حقائق کی کھوج لگانی تھی۔ اس دوران ہی پرانے زخم ہرے ہو گئے کہ انسان کے خمیر میں عظمت کے حصول کی جو جستجو ہے اس خیال کے اثرات ہمارے لا شعور میں کہاں تک جاتے ہیں۔ مجھے آج بھی یاد ہے وہ جملہ جو تم نے کہا تھا، ”تمام عظیم انسان پاگل ہوتے ہیں، اپنے جھوٹے خوابوں کے اسیر“ ( یقین جانیے میں نے لفظ بدل دیا ہے ) ۔

کیا میں جو سلیبس کی کتاب کھولے اونگھ رہا ہوں، زیادہ اچھا سٹوڈنٹ ہوں، اپنے اس دوست سے جو لائبریری میں بیٹھا نینسی فرائیڈے کی راز و نیاز بھری کتاب پڑھ رہا ہے۔ یقیناً وہ ایک نیک کام کر رہا ہے۔ عظمت کا حصول کار لا حاصل ہے۔ ہم چاہ کر بھی اپنی بے چارگی کو ختم نہیں کر سکتے۔ پھر چاہے لوگوں میں گھل مل بیٹھو، سونے کے تمغے جیت لو یا ساری دنیا کی سیلف ہیلپ کتب پی جاؤ۔ یہ تمہارا وہم ہے کہ اعلیٰ تعلیم ترقی کی ضامن ہے، یا دولت خوشی کا ذریعہ ہے یا میں پارسا جنتی ہوں اور تم پاپی۔

ہم دونوں ہی ایک کھیت کی مولی ہیں۔ نیکی اور بدی کے فلسفے جھاڑنے سے کوئی نکال نہیں۔ یقیناً ممکن ہے آپ کو میری تقریر لغو لگے۔ یقین کیجئے زندگی ہے ہی بے چارگی کا دوسرا نام۔ جس طرح آسکر وائلڈ نے کہا، ہم سب ایک ہی گڑھے میں ہیں، مگر ہم میں سے کچھ دیوانے تاروں کو دیکھ رہے ہیں۔ کل سنتے ہیں کانووکیشن ہو گا، تقریریں ہوں گی ، میڈل ہوں گے مگر شام ایسی ہی ہوگی بے وقعت۔ اس چھوٹی سی زندگی کو با معنی بناؤ، سائنسدان بن جاؤ، اپنے ملک کو کرائسس سے نکالو۔

کیسے کرو گے یہ سب، انگریزی کی صحیح سمجھ ہے نہیں، ڈکشنری کی نسل، لفظی ترجمہ کرنے والو تم کاپی پیسٹ سے ریسرچ کرتے ہو۔ خاموش کانووکیشن شروع ہو گیا قاری صاحب خوب قرات کر رہے ہیں، کاش معانی بھی سمجھ جائیں۔ ہاں تو میں کہہ رہا تھا علوم چاہے اجلے اجلے سیکھو یا کالا علم پڑھ لو، حالات کہاں بدلتے ہیں۔ بھلے کی کوئی امید نہیں بچی۔ جاؤ سٹیفن کنگ کو پڑھو، یا چھلاوا کی بانوں کی کہانی چھپ چپ کے پڑھو، نظریہ پاکستان پہ گیان جھاڑو، کچھ بدلنے کا نہیں۔ اب تم کہو گے انارکسٹ اور نہیلسٹ ہو گیا ہوں۔ نہیں بھیا حقیقت پسند ہو گیا ہوں۔ یہ ریسرچ، ڈپریشن پہ مقالے تمہیں نوکری دلوا دیں گے۔ فارغ بیٹھ کر سوچنا۔

ننگا دھوئے کیا اور نچوڑے کیا۔ سو جاؤ آدھی رات ہو گئی ہے۔ لائبریرین نے بھی جانا ہے مگر کیا نینسی فرائیڈے کو پڑھ لینے کے بعد نیند آ جائے گی۔

Facebook Comments HS