کیا امریکی سپر پاور کا سورج غروب ہونے والا ہے؟

کیا آپ عالمی سیاسی صورت حال کے بارے میں فکرمند رہتے ہیں؟
کیا آپ کو تیسری عالمی جنگ کا خطرہ ہے؟
کیا آپ کو روس اور یوکرین کی جنگ نے پریشان کر رکھا ہے؟
کیا آپ امریکہ اور یورپ کی خارجہ پالیسی سے اختلاف رکھتے ہیں؟
میری طرح اگر آپ کے ذہن میں بھی یہ سوالات پیدا ہوتے رہتے ہیں تو آپ کے لیے بھی فرانس کے صدر ایمینول میکرون کی تقریر اتنی ہی اہمیت کی حامل ہوگی جتنی کہ میرے لیے ہے۔ میں اس طویل تقریر کا ترجمہ اور تلخیص آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں۔
ایمینول میکرون فرماتے ہیں
یورپ کو جان لینا چاہیے کہ وہ امریکہ کی خود غرضانہ اور شاطرانہ خارجہ پالیسی کی اتنی جو حمایت کرتا رہا ہے اب اس حمایت کی قیمت ادا کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ اب مغربی استعماریت کے خاتمے کا آغاز ہو چکا ہے۔ ساری دنیا میں طاقت کا توازن دھیرے دھیرے بدل رہا ہے۔ تاریخ میں ایک نیا موڑ آ رہا ہے۔ وقت کے دریا کا دھارا بدل رہا ہے۔ ہم اٹھارہویں صدی سے جو بین الاقوامی روایت دیکھ رہے تھے وہ روایت اب بدل رہی ہے۔ وہ روایت کیا تھی؟
وہ روایت فرانس کی اٹھارہویں صدی کی روشن خیالی کی روایت تھی وہ روایت انگلستان کی انیسویں صدی کے صنعتی انقلاب کی روایت تھی وہ روایت امریکہ کی بیسویں صدی کی دو عالمی جنگوں کے بعد ترقی کی روایت تھی فرانس انگلستان اور امریکہ نے پچھلی تین صدیوں میں مغربی روایت کو عظمت سے ہمکنار کیا تھا لوگ پوچھتے ہیں مغرب نے ساری دنیا کو کیا تحفے دیے میری نگاہ میں فرانس نے کلچر کا تحفہ دیا انگلستان نے صنعت کا تحفہ دیا لیکن امریکہ نے جنگ کا تحفہ دیا۔
مغرب نے ساری دنیا کی معیشت اور سیاست پر غلبہ پا کر اپنی عظمت کی دھاک بٹھائی۔ لیکن اب سیاسی موسم بدل رہا ہے۔ اب ساری دنیا ایک بحران کا شکار ہے۔ اس بحران کی وجہ مغرب کی سیاسی غلطیاں بھی ہیں اور مشرق کی آزمائشیں بھی۔ مغربی ممالک نے جو خود غرضانہ اور غیر دانشمندانہ فیصلے کیے تھے اب ان فیصلوں کے مکافات عمل کا وقت آ گیا ہے۔ امریکی حکومت کے غلط فیصلے ٹرمپ کی حکومت کے فیصلوں تک محدود نہیں ہیں۔ کچھ غیر دانشمندانہ فیصلے کلنٹن، بش اور اوباما کے دور میں بھی کیے گئے تھے۔ کلنٹن نے چین کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا تھا۔ بش نے جنگ کا آغاز کیا تھا۔ اور اوباما نے دنیا کو معاشی بحران میں دھکیل دیا تھا۔ امریکی حکومتوں کے ان فیصلوں نے مغرب کی اجارہ داری اور بالادستی کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ یورپ نے دو غلط سیاسی فیصلے کیے۔ یورپ نے امریکہ کو بے جا سراہا اور دوسرے ممالک کی آزادی و خود مختاری کی تحریکوں کو درخور اعتنا نہ سمجھا اور نظرانداز کیا۔
ہمیں اب اس تلخ حقیقت کو قبول کرنا ہو گا کہ چین ’ہندوستان اور روس نے پچھلی چند دہائیوں میں حیرت انگیز ترقی کی ہے۔ اب عالمی منظر نامہ بدل رہا ہے چین ہندوستان اور روس معاشی ترقی کی طرف اور فرانس انگلستان اور امریکہ تنزل کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ عالمی سیاست کا توازن بدل رہا ہے اور مغربی استعماریت کا زوال شروع ہو چکا ہے۔ امریکی سپر پاور کا سورج غروب ہونے والا ہے۔ مغرب کے زوال کی وجہ سیاسی اور معاشی کے ساتھ ساتھ اخلاقی اور نظریاتی بھی ہے۔
مغرب نے آزادی اور انصاف کے جن خوابوں اور آدرشوں کو عزیز رکھا تھا اب اس نے ان آدرشوں پر عمل کرنا چھوڑ دیا ہے۔ چین نے ہزاروں لاکھوں کروڑوں انسانوں کی غربت کو کم کیا ہے لیکن مغرب نے فری مارکیٹ معیشت کی وجہ سے امیر اور غریب کے فرق کو کم کرنے کی بجائے بڑھا دیا ہے اور معاشرے میں مڈل کلاس کو کم کر دیا ہے۔ یورپ اور امریکہ کے عوام دھیرے دھیرے غربت اور ناخوشی کی طرف بڑھ رہے ہیں اور جب عوام کو بھوک افلاس اور نا انصافی کا سامنا کرنا پڑے تو وہ شدت پسندی اختیار کر لیتے ہیں اور اپنے رہنماؤں پر عدم اعتماد کی تحریکیں شروع کر دیتے ہیں۔
امریکہ کے معاشی اور سیاسی مسائل ایک عرصے سے بڑھ رہے تھے لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت نے اس تنزل میں سرعت پیدا کر دی۔ امریکہ نے روس سے دشمنی کی۔ یورپ نے امریکہ کا ساتھ دیا اور دوست کے دشمن کو اپنا دشمن بنا لیا۔ یہ یورپ کی سیاسی غلطی تھی۔ اگر یورپ روس سے دوستی نبھاتا تو روس بھی یورپ کے خلاف نہ ہوتا۔ چونکہ یورپی ممالک کی اپنی کوئی علیحدہ فوج نہیں ہے اس لیے وہ نیٹو کا حصہ ہے اور نیٹو افواج امریکی افواج کی دست نگر ہیں۔
میں نے جرمنی کی چانسلر اینگلا میرکل سے تبادلہ خیال کیا تو ہم اس بات پر متفق ہوئے کہ یورپ کو امریکہ کی خارجہ پالیسی کا ساتھ نہیں دینا چاہیے تھا۔ ہمیں امریکہ کی دوستی نے بہت نقصان پہنچایا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہمیں اپنے دوست کے دشمن کو ہمیشہ اپنا دشمن سمجھنا چاہیے؟ اگر امریکہ روس کو اپنا دشمن سمجھتا ہے تو کیا ہمیں بھی روس سے دشمنی مول لینی چاہیے؟ سچ تو یہ ہے کہ امریکہ اپنے بڑھاپے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ دنیا میں امریکہ کا اثر کم اور چین کا اثر بڑھ رہا ہے۔ اور یورپ کے لیے فیصلے کا وقت آ گیا ہے؟ کیا یورپ کو مستقبل میں امریکہ کا ساتھ دینا چاہیے یا چین کا؟ ہمیں یہ فیصلہ بہت سوچ سمجھ کر کرنا ہو گا کیونکہ اس فیصلے کے اثرات دور رس ہوں گے اور ہماری اگل نسلوں کی زندگیوں کو متاثر کریں گے؟

