چاند کی ڈائری
میں کیسی خوش بخت ٹھہری کہ جس دن پیدا ہوئی اسی دن مر بھی گئی۔ یا پھر مار دی گئی۔ کوئی خاص فرق نہیں، ایک ہی بات ہے!
خدا کا شکر ہے کہ میں ایک بے حس، درندہ صفت اور مردہ معاشرے میں چند گھنٹے زندہ رہی۔ اور زندہ رہتی تو شاید میں روز مرتی۔ رسم، رواج، عزت، غیرت۔ پردہ۔ کتنا اچھا ہوا کہ ایسی تمام صعوبتوں سے، قید سے میری روح آزاد ہو گئی۔ یا پھر کر دی گئی۔ فرق کیسا؟ ایک ہی بات ہے!
میں اپنے قسمت پر کیوں نہ ناز کروں جب مجھے اپنی ساری زندگی میں۔ چاہے یہ زندگی چند دنوں کی ہی تھی۔ صرف ایک بار۔ صرف ایک بار درد ملا اور وہ بھی اس وقت جب میرے باپ کے پستول سے نکلی گولی میرے پھول جیسے جسم میں پیوست ہوئی۔ یہ چند ساعتوں پر محیط زندگی اگر ساٹھ ستر سالوں پر پھیل جاتی تو نجانے کیسے کیسے درد ملتے۔ باپ کی ڈانٹ، شوہر کی مار، بیٹے کی لاپرواہی، بہو کی بدتمیزی۔ شکر ہے ان تمام دکھوں کو سہنے سے پہلے ہی میری آنکھیں بند ہو گئیں۔ یا پھر میری آنکھیں بند کر دی گئیں۔ بالکل فرق نہیں، ایک ہی بات ہے!
میں اپنے آپ کو بختاور کیوں نہ سمجھوں جب کہ مجھے دنیا میں آنے کے فوراً بعد قبر کی صورت میں اپنی ذاتی گھر مل گیا۔ زندہ رہتی تو پہلے باپ کے گھر، پھر شوہر کے گھر اور اس کے بعد بیٹے کے گھر میں پڑی سسکتی رہتی، ساری زندگی مجھے ایسا ٹھکانہ ہی نہ ملتا جسے میں اپنا کہ سکتی۔ اب میرا اپنا گھر ہے، چاہے اس میں روشنی نہیں آتی، ہوا کا گزر نہیں ہے۔ لیکن ہے تو اپنا۔ شکر ہے میں کسی اور کے گھر میں زندہ رہنے کے بجائے مر کر اپنے گھر پہنچ گئی۔ یا پہنچا دی گئی۔ ایک ہی بات ہے!
میرے نصیب کتنے اچھے نکلے کہ زندگی میں کوئی خواہش پالنے کا موقع ہی نہیں ملا اور بنا خواہش کی زندگی کیسی مزے کی ہوتی ہے یہ کوئی مجھ سے پوچھے۔ لیکن مرنے کے بعد میری ایک خواہش ضرور ہے کہ قدرت میرے باپ۔ نہیں، میرے قاتل باپ۔ نہیں یہ ٹھیک نہیں لگتا۔ میرے ابو کو اولاد نرینہ سے نوازے۔
اس کو۔ نہیں ان کے ان کے بیٹے اتنا خوش رکھیں کہ انہیں میری کبھی یاد نہ آئے۔ میری دعا ہے میرے ابو کو ایسے تنومند اور جری بیٹے ملیں جو ان کا کندھوں کا بوجھ ہلکا کر سکیں۔ یہ بھی دعا ہے کہ جب ان کے کندھوں کا بوجھ ہلکا ہو جائے تو تب میرے ابو کو بالکل یہ سوچ نہ آئے کہ اگر آج بیٹی زندہ ہوتی۔ یا میں نے اسے قتل نہ کیا ہوتا۔ ایک ہی بات ہے۔ تو وہ میرے دل کا بوجھ ہلکا کرتی۔
لیکن ابو آپ اس وقت نہیں سمجھ سکتے کہ بیٹیاں کیسے اپنے باپ کے دل کا بوجھ ہلکا کرتی ہیں۔ اور آپ کو بتاؤں، کندھوں کے بوجھ اور دل کے بوجھ میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ یہ ایک بات نہیں ہے۔
ابو، مجھے دکھ ہو رہا کہ آپ کو بوجھل دل کے ساتھ زندہ رہنا پڑے گا کیونکہ آپ کی تو بیٹی ہی نہیں ہے۔ وہ مر گئی ہے۔ یا پھر مار دی گئی ہے۔ ایک ہی بات ہے!


