تنقید کا زہریلا اثر


تنقید کی اہمیت کا تذکرہ دیکھنا ہے تو ٹی ایس ایلیٹ، میتھیو آرنلڈ، افلاطون، ارسطو، لانجائنس اور ان جیسی دیگر شخصیات سے ملتا ہے جنہوں نے اپنی مثال خود قائم کی، کیونکہ انہوں نے اسی اعتبار سے ادب اور تخلیق کی دنیا میں انقلاب برپا کیا۔ اسی انقلاب نے نئی آنے والی نسلوں کے لیے نئی راہیں ہموار کیں۔ ان کا مجموعی طور پر اسلوب، ادب اور کلچر کے تعلق کو فروغ بنیادی ذریعہ سمجھتے تھے۔ انہوں نے اپنی تنقید کا از سر نو جائزہ لیا اور تہذیب و معاشرتی بحران کے اسباب ڈھونڈ نکالے۔ میتھیو آرنلڈ کا تذکرہ کیا جائے تو انہوں نے عمدہ خیال، عمدہ تنقید اور عمدہ کلچر کی بنیاد رکھنے میں انقلابی ادب اور انقلابی تنقید کی بنیاد رکھی اس کی بنیاد بھی از سر نو تحقیق پر ہی ہے۔

ان کا بیان تھا کہ
” آئندہ عمدہ خیال ہی عمدہ ادب و تنقید و کلچر کو بناتا ہے“

افلاطون نے فلاحی ریاست کی بنیاد اور اس کے بنیادی لوازمات وہ بیان کر ڈالے جو تشکیل کلچر اور اس کی فلاح کے لیے بے حد ضروری تھے۔ تاریخ آج بھی اس بات کی گواہی اور ثبوت دیتی ہے کہ ان لوگوں نے اپنی عقل و فہم و فراست کا استعمال کیا حقیقی تحقیق و تنقید کو بروئے کار لائے اور تاریخ کے اوراق پر عمدہ نقوش ثبت کیے۔ وقت حاضر کے لحاظ سے دوسری طرف نگاہ کریں تو میرا معاشرہ جس کو انارکی کہا جا سکتا ہے دن بدن ایک زہریلا اثر چھوڑتے ہوئے نظر آ رہا ہے مگر وہ کیسے؟

اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی تھوڑی سی کوشش تو کریں گے اور جواب بلاتاخیر منظر عام پر آ جاتا بھی ہے۔

مثلاً آج کا طالب علم کسی اصل تصنیف کے بارے میں اپنا کوئی تجربہ یا رائے نہیں رکھتا ہے۔ کیونکہ اسے ادب اور ادب پاروں سے دلچسپی ہی نہیں، بلکہ صرف اور صرف نصابی نقادوں کی رائے ہی ادب پاروں کا روپ دھار چکی ہے۔ جس نے سوچنے کی صلاحیت، سمجھنے کی قوت اور تخلیقی طاقت کو مردہ کر دیا ہے۔

اس کی وجہ سے ادب پاروں کی حقیقی چاشنی ادھوری ہو چکی ہے اور نوجوان طبقہ کے ذہنی اور تنقیدی سفر کو بے معنی اور بے مفہوم بنا کر بربادی کے دہانے پر لا کھڑا کر دیا۔ اس زہر نے اپنا اثر ان کی رگوں میں چھوڑ دیا ہوا ہے جو پورے جسم میں مسلسل گردش کرتے ہوئے نظر آتا ہے۔

نصابی نقادوں کی جو رائے ہیں ایک طرح کی بیساکھیاں بن چکی ہیں اور یہ بیساکھیاں صرف اور صرف آج کے نوجوان طالب علم کے پاس ہیں۔ جو ایک جسمانی اور ذہنی معذوری کی بہترین علامتیں ہیں۔

اس کا نتیجہ زہریلی اور جعلی دستاویزات، جعلی اور نقلی مواد اصل کی جگہ استعمال ہو رہے ہیں۔

اس سرگرمی تحقیق اور تنقید کا جو اثر راستہ تھا بند کر دیا ہے۔ ادب کا مفہوم اور معنی بدل کر رکھ دیا ہے تخلیق میں تنقید کا عنصر غلط اور بے بنیاد قرار دیا ہے۔ صرف کاغذی ڈگریوں کی حد تک اس کو محدود کر دیا ہے تعلیم کو دھندا اور تجارت بنا کر محدود کر دیا ہے۔ ہمارے تعلیمی ادارے تعلیم کے نام پر جعلی ڈگریاں فروخت کر رہے ہیں۔ جو کہ معاشرے میں گڑبڑ، انتشار، بحران اور تشویشناک صورتحال اختیار کر چکے ہیں۔ کلچر اور معاشرے کی بجے انارکی نے جگہ لے لی ہے، لکیر کے فقیر بنا دیا ہے۔ اس لیے یہ کہنا بجا ہے کہ:

جس معاشرے میں کتابیں فٹ پاتھ پر اور جوتے شیشوں میں سجائے جائیں، اس قوم کو کتابوں کی نہیں بلکہ جوتوں کی ضرورت ہے۔

اس کے عوض معاشرے میں بانجھ پن عروج کو جا پہنچا ہے۔ یہ ایک زہریلا اثر لے کر موجودہ نوجوان نسل کے ذہنوں پر، جسموں پر اور ترقی کی راہوں پر مسلط ہو چکا ہے۔ یہ زہریلا اثر ہے جس نے کلچر کو انارکی میں تبدیل کر دیا ہے۔ اس کا عملی ثبوت یہی کافی ہے کہ پاکستان اس وقت دنیا کے تعلیمی میدان میں 94 نمبر پر ہے اور ایمانداری میں 140 سے نمبر پر ہے۔

Facebook Comments HS