تین مورتی: انگریز فوج کے سپہ سالار کی رہائش گاہ اور کناٹ پیلس انگریزوں کی یاد گار عمارتیں


1996 ء میں دہلی کے سفر میں جو جانا، جو سنا، جو سمجھا، اس کی ایک جھلک پیش ہے۔

تین مورتی

جب انگریزوں نے نئی دہلی کو آباد کیا تو انھوں نے وائسرائے کی رہائش گاہ کے ساتھ ساتھ برطانوی آرمی چیف کی رہائش گاہ بنانے کا بھی فیصلہ کیا اس مقصد کے لیے ایک بڑی عمارت بنائی گئی۔ اس عمارت کی خوبصورتی یہ ہے کہ اس کے مرکزی دروازے پر تین سپاہیوں کے مجسمے بنائے گئے ہیں۔ بظاہر تو یہ کوئی اہم بات نہیں تھی لیکن جب میں نے اس کی تاریخ پڑھنے کی کوشش کی تو بہت ہی دلچسپ بات معلوم ہوئی۔

دنیا میں جہاں بھی انگریزوں کی لڑائی ہوتی تھی اس کے لیے برطانوی فوج میں ہندوستان بھر سے بھرتی کیے ہوئے لوگ جاتے تھے۔ 1918 ء میں حیفہ نام کا ایک شہر فلسطین میں تھا جو ترکوں کے قبضہ میں تھا اور یہ سلطنت عثمانیہ کا ایک اہم حصہ تھا، اب یہ اسرائیل کا تیسرا بڑا شہر ہے اور سمندر کے کنارے واقع ہونے کی وجہ سے بہت اہمیت کا حامل بھی ہے۔ اس شہر پر قبضے کے لیے انگریزوں اور ترکوں کی آپس میں ایک سخت لڑائی ہوئی، جس میں ہندوستان کے تین علاقوں جو دھپور، میسور اور حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے مسلمان، ہندو اور سکھ سپاہیوں نے بہت اہم کردار ادا کیا۔

اس جنگ میں 44 ہندوستانی سپاہی اپنی جان کی بازی ہار گئے۔ مرنے والوں میں مسلمان، ہندو اور سکھ تینوں شامل تھے۔ ان تینوں علاقوں کے فوجیوں کی یاد میں یہاں پر تین مورتیاں بنائی گئیں۔ اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ انگریز اپنے جانثاروں کا بہت زیادہ خیال رکھتے تھے۔ چیف آف آرمی سٹاف کے گھر کے باہر تین فوجیوں کی مورتیوں کی وجہ سے اس عمارت کو تین مورتی کہتے ہیں اور اس چوراہے کا نام بھی تین مورتی چوک ہی ہے۔

ایک دلچسپ بات یہ کہ اس وقت ایک طرف تو ہندوستانی مسلمان خلافت عثمانیہ کے بچاؤ کے لیے تحریک چلا رہے تھے، مسلمان خواتین اپنے زیور تک ترکی بھجوا رہی تھیں اور دوسری طرف انگریزوں کے تنخواہ یافتہ ہندوستانی سپاہی جن میں مسلمان بھی شامل تھے، ترکوں کے ساتھ جنگ کر رہے تھے۔ ان کی خدمات کے صلہ میں انگریز ان کی مورتیاں بنا کر اپنے گھروں کے سامنے رکھ رہے تھے۔

ہم کس طرف تھے؟ آپ خود ہی فیصلہ کریں تو بہتر ہو گا۔

یہ بات بھی کافی اہمیت کی حامل ہے کہ بھارت کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو 16 سال تک اس عمارت میں رہائش پذیر رہے اور اسی عمارت میں ان کی وفات بھی ہوئی۔ ان کی وفات کے بعد یہاں پر جواہر لال نہرو انسٹیٹیوٹ اور لائبریری کے علاوہ اس طرح کی بہت ساری چیزیں بنائی گئیں ہیں۔ اس وقت یہ کسی کی رہائش گاہ نہیں بلکہ ایک بہت بڑا کمپلیکس ہے۔

مجھے خیال آیا کہ فوج کا حکومت میں عمل دخل کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اس کی بنیاد صدیوں پہلے ہندوستان میں رکھ دی گئی تھی۔ یہ عمارت کسی بھی لحاظ سے وائسرائے کی رہائش سے کم نہیں ہے اور اس کا رقبہ بھی تیس ایکڑ سے زائد ہے۔

اس بات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ سپہ سالار اس وقت بھی کم اہم نہیں تھا اور اب بھی نہیں ہے!

ایک اور اہم بات یہ کہ 2018 ء میں جب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو بھارت آئے تو انھوں نے اس چوک کا نام تین مورتی حیفہ رکھنے کی فرمائش کی جو بھارتی حکومت نے مان لی۔ کچھ حلقوں سے اس کی مخالفت بھی ہوئی لیکن بالآخر اسرائیل جیت گیا اور اس علاقے کا نام تین مورتی حیفہ رکھ دیا گیا ہے جو ہمیں یاد دلاتا رہے گا کہ سلطنت عثمانیہ کی تباہی میں ہم ہندوستانی لوگوں کا بھی ایک اہم کردار ہے۔ جب نریندر مودی اسرائیل گیا تو وہ حیفہ بھی گیا جہاں پر ہندوستانی فوجیوں کی قبریں ہیں۔ انگریزوں اور ترکوں کی لڑائی میں ہندوستانی لوگ مارے گئے۔ اب بھی ایسا ہی ہو رہا ہے۔ روس اور امریکہ کی جنگ میں افغان تباہ ہو گیا اور افغان مسلمان ان گنت تعداد میں مارے گئے۔

ہاتھیوں کی لڑائی میں نقصان تو گھاس ہی کا ہوتا ہے۔ اور وہ آج بھی ہو رہا ہے۔
تاریخ کا مطالعہ نئی نسل کی ذہنی تشکیل کر تا ہے تو اس میں یہ بات اہم کردار ادا کرتی ہے۔

تاریخ سے یہ پتا چلتاہے کہ اس علاقے میں خوشک نام کا ایک گاؤں آباد تھا جس میں جاٹ لوگ رہتے تھے۔ فیروز شاہ تغلق نے اپنے دور حکومت میں یہاں ایک شکار گاہ تیار کروائی تھی۔ اس شکار گاہ کی باقیات اب بھی موجود ہیں لیکن میں انھیں دیکھ نہ سکا۔ 1922 ء میں اس گاؤں کو ختم کر کے تیس ایکڑ پر فوج کے سربراہ کا گھر بنا دیا گیا۔ میں بہت دیر تک وہاں پہ رکا رہا۔ ایک طرف فوج کے سربراہ کا گھر تو دوسری طرف پارلیمنٹ کی پر شکوہ عمارت اور تیسری طرف صدر کا محل نظر آ رہا تھا۔

یہ سب طاقت کے مراکز تھے۔ اور جو میں نے پچھلے دنوں میں دہلی کے پسماندہ علاقے دیکھے تھے وہاں رہنے والوں کے کندھے ان کی طاقت کا سر چشمہ تھے۔

ایک اچھی بات یہ ہے کہ نہرو کی موت کے بعد اب یہ وزیراعظم کا گھر نہیں ہے بلکہ ایک کمپلیکس ہے۔ یہاں آنے والے لوگوں کو ہندوستان کی آزادی کی تاریخ بتائی جاتی ہے اور اب یہ تین مورتی حیفہ چوک ہے جو بھارت اور اسرائیل کی گہری دوستی کا ایک منہ بولتا ثبوت ہے۔ تین مورتی بارے ہندوستان ٹائمز نے ایک تفصیلی مضمون لکھا ہے۔ جس میں اس عمارت کے بارے میں کافی دلچسپ معلومات دی ہوئیں ہیں۔ 1

کناٹ پلیس : نئی دہلی کا تجارتی مرکز

انگریزوں نے جب نیو دہلی آباد کرنے کا فیصلہ کیا تو انھوں نے پارلیمنٹ ہاؤس، وائسرائے کی رہائش گاہ اور بہت سی دوسری عمارتوں کے ساتھ بہت ایک بڑی مارکیٹ بھی بنانے کا بھی فیصلہ کیا۔ جس کے لیے انگریزوں کو کئی گاؤں ختم کرنے پڑے۔ ایسا تو ہمیشہ سے ہی ہوتا آیا ہے۔ ملکہ وکٹوریہ کے تیسرے بیٹے پرنس آرتھر، جو ڈیوک آف کناٹ ہونے کے ساتھ ساتھ کینیڈا میں گورنر جنرل بھی تھے، نے ہندوستان کے دورے کے موقع پر 1921 ء میں کناٹ پلیس کا سنگ بنیاد رکھا۔ اس مارکیٹ کی تعمیر 1929 ء میں شروع ہوئی اور 1933 ء میں مکمل ہوئی۔ یاد رہے کہ کناٹ آئر لینڈ کا ایک صوبہ بھی ہے۔

کناٹ پلیس میں مارکیٹ ایک گول شکل میں ہے۔ یہ بہت ہی مصروف علاقہ ہے۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ بھارت کے اندر سب سے بڑی کمرشل مارکیٹ ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ دنیا کی دس بڑی مہنگی جگہوں میں سے ایک یہ بھی ہے۔ یہاں پر پالیکا بازار کے نام سے ایک زیر زمین مارکیٹ بھی ہے۔

اس کی تعمیر کی تفصیل میں جانا تو مناسب نہیں ہے لیکن ایک بات بہت واضح ہے کہ انگریزوں نے نئی دہلی میں عمارتیں بناتے وقت ہندوستانی طرز تعمیر کا خاص خیال رکھا ہے لیکن کناٹ پلیس کو انھوں نے بالکل اپنے برطانوی طرز پر بنایا ہے۔ اسی طرز کے برآمدے اور گول ستون ہیں۔ مجھے اس مارکیٹ میں مال روڈ لاہور پر بنی ہوئی پرانی مارکیٹوں میں بے حد مشابہت محسوس ہوتی ہے۔ لاہور کا مال روڈ اور دہلی کی کناٹ پلیس ایک ہی دور میں بنائی گئیں ہیں جس کی وجہ سے ان کا طرز تعمیر بھی ایک ہی جیسا ہے۔

میں نے مارکیٹ کے پاس گردوارہ بنگلہ صاحب، ہندو مندر اور اس سے ملحقہ ایک پارک جہاں بھارت کا ایک بڑا جھنڈا لہرا رہا تھا بھی دیکھا۔ مجھے ان تینوں چیزوں کی موجودگی سے احساس ہوا کہ یہ لوگ ایسے کسی بھی موقع کو ہاتھ سے جانے نہیں دیتے جہاں پر اپنا دھرم اور وطنیت ظاہر نہ کریں۔ لاہور کی لبرٹی مارکیٹ بھی ایک سیمی سرکل میں ہے۔ اس سے پہلے گلبرگ لاہور میں مین مارکیٹ بھی ایک سیمی سرکل کی شکل ہی میں بنائی گئی تھی۔ کیا ہم نے کناٹ پلیس سے متاثر ہو کر لبرٹی اور مین مارکیٹ اسی طرز پر بنائی ہیں یا محض اتفاق ہے؟ معلوم نہیں!

میری سب سے زیادہ دلچسپی انڈر گراؤنڈ مارکیٹ میں تھی۔ میں بڑی دیر تک لوگوں کو دیکھتا رہا۔ بے شمار لوگ خریداری کر رہے تھے لیکن ان جگہوں پر سب سے زیادہ رش تھا جہاں چٹ پٹے کھانوں کی دکانیں تھیں۔ مجھے ایک نہایت ہی انوکھا پان دیکھنے کو ملا، جسے فائر پان کہتے ہیں۔ اسے منہ میں ڈالنے سے پہلے آگ لگاتے تھے اور پان منہ میں جاتے ہی ٹھنڈا ہوجاتا ہے !

اس مارکیٹ کے بارے میں ہندوستان ٹائمز میں Avishek G Dastidar نے ایک مضمون لکھا ہے جس میں اس مارکیٹ کی ایک دلچسپ تاریخ دی ہوئی ہے 2۔ ایک اور مضموں میں یہ بھی لکھا ہوا ہے کہ کبھی یہاں پر ایک ایسا گاؤں بھی تھا جس کا نام راجہ کا بازار تھا۔ اب اس گاؤں کا علاقہ کناٹ پیلس میں شامل ہے۔

راجہ اور وائسرائے میں نام کے علاوہ کوئی اور فرق نہیں ہے۔ دونوں کا کام حکمرانی کرنا ہے۔

ایسی جگہوں پر میری سب سے بڑی خواہش کسی کونے میں بیٹھ کر چائے یا کافی پینے کی ہوتی ہے۔ میں انڈر گراؤنڈ مارکیٹ کی چھت پر ایک درخت کے نیچے لگی کرسی میز پر بیٹھ کر چائے پینے لگا۔ اس وقت میرے ذہن میں اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ انگریزوں نے یہ سب کچھ کتنی ترتیب اور خوبصورتی سے بنایا ہے جس میں سو سال بعد بھی کسی تبدیلی کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ یہ کیسے ممکن ہوا اور ان کے پاس وہ کون سا خاص ہنر تھا جو ہمارے پاس نہیں ہے۔

بالآخر میں اس نتیجے پر پہنچا کہ غیر ملکی حکمران (جن میں ترک، افغان اور انگریز بھی تھے ) چند ہزار کی تعداد میں آئے اور یہاں لاکھوں لوگوں پر انھوں نے ساڑھے سات سو سال تک حکومت کی۔ یاد رہے کہ 1206 ء میں قطب الدین ایبک مسلمانوں کا پہلا بادشاہ بنا تھا اور 1947، یعنی 741 سال اس شہر پر غیر ملکی حکمرانوں کی حکومت رہی۔ ان غیر ملکیوں کی حکمرانی کی وجہ ان کی تعداد نہیں بلکہ وہ فن حکمرانی تھا جو ان کے پاس تھا اور ہمارے پاس نہیں۔

یہ بات شاید آپ کو مناسب نہ لگے لیکن مجھے آج بھی یہ محسوس ہوتا ہے کہ اب بھی غیر ملکی ہم پر بالواسطہ حکمرانی کر رہے ہیں۔ اب ان کا نام وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن نہیں، بلکہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک، یو این او کے ساتھ ساتھ اور بھی کئی طرح کے نام ہیں۔ ہمیں آزادی حاصل کرنے کے لیے وہی فن حکمرانی حاصل کرنا ہو گا تب جا کر ہم ایک آزاد قوم کہلوانے کے حق دار ہوں گے۔ اس سلسلے میں بھارت اور پاکستان کی حالت میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔

اس دوران میری چائے بھی ختم ہو گئی اور ٹیکسی ڈرائیور نے بھی اپنی گھڑی دکھا کر کہا کہ گھر جانے کا وقت ہو گیا ہے۔ اس کی پتنی اس کا انتظار کر رہی ہے۔

Facebook Comments HS