اردو میں اقبال شناسی کی روایت


اقبال تاریخ فکر و ادب کی ان چند شخصیات میں سے ایک ہیں جن کی زندگی میں ہی ان کے شعری و فکری افکار کو قومی اور عالمی سطح پر پذیرائی حاصل ہوئی۔ اقبال کے فکر کی تازگی بلند آہنگی اور انقلابی تم نے سارے زمانے کو اپنی طرف متوجہ کر لیا دنیا میں اس کا خیر مقدم ہے نہ اس کے فکرو شعر کی تفہیم کا عمل شروع ہونے لگے ان کا دروازہ کھلا اختلاف کا اکتساب بڑھتے چلے گئے۔ اور ایک ایسی روایت کا آغاز ہوا جو جلد ہی برصغیر کی جغرافیائی حدود پار کر کے چار دانگ عالم میں پھیلی پروان چڑھی اور مستحکم ہوتی چلی گئی اقبال فہمی کے اس رعایت میں مشرق و مغرب کے نامور محققین اور ناقدین کی ایک بڑی تعداد نے اپنے انداز سے شرکت کی اقبال فہمی و علمی روایت ہے جس کی بنیاد میں حیات و افکار اقبال کی تفہیم کے سلسلہ میں کی جانے والی اب تک کی تمام کاوشیں شامل ہیں۔

نہ صرف اقبال کے فکر و فلسفہ اور نظریات کو سمجھنے کے لئے آئے بلکہ اقبال فہمی کی روایت کو جاننے کے لیے بھی ضروری ہے کہ سب سے پہلے اقبال کی اپنی تحریروں سے رجوع کیا جائے اور یہ جاننے کی کوشش کی جائے کہ خود اپنے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ اپنی اور شاعری میں وہ کیا پیغام دیتے ہیں؟ اس ضمن میں اقبال کی تمام تصانیف اور تحریری (شاعری و نثر، مقالات و مضامین خطبات و تقاریر، ارشادات و ملفوظات باقیات اقبال اور مکاتیب کے مجموعوں ) کو مدنظر رکھنا چاہیے۔

تفہیم اقبال کے سلسلے میں اقبال کے تین شعری مجموعوں اسرار خودی، موزوں بے خودی اور پیام مشرق کے دیباچوں کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔ جنہیں اقبال نے صرف اس لئے اردو میں لکھا کہ ان کی قوم کے زیادہ سے زیادہ لوگ ان کے پیغام کو سمجھ سکیں۔ بانگ درا کا دیباچہ جو شیخ عبد القادر نے لکھا وہ بھی اہم ہے۔ اسی طرح مثنوی اسرار خودی کا حصہ ”درحقیقت شعر۔“ اور ”زبور عجم“ نظم کی ”بندگی نامہ“ بھی اہم ہیں۔ جن میں اقبال کے فن کے بارے میں اپنے نظریات پیش کیے۔ ”اقبالیاتی تفہیم میں اقبال کی تحریروں کے بعد ان کی تصانیف اور تحریروں کا ذکر آتا ہے۔ جو اقبال پر دوسرے لوگوں نے لکھیں۔ ان ابتدائی سالوں میں ہی بعض جوہر شناس اقبال کے تخلیقی Genius کو بھانپ گئے تھے۔ اس ضمن میں محمد دین فوق، شیخ عبد القادر اور چکبست کے نام قابل ذکر ہیں۔

اقبال کی زندگی میں ان پر جو کچھ لکھا گیا ہے۔ اس کی نوعیت زیادہ تر ستائشی اور جذباتی تھی۔ البتہ ان کی وفات کے بعد ارباب فکر و نظر تنقیدی انداز میں اقبال کو اپنی تحریروں اور تصانیف کو موضوع بنانے لگے۔ ان میں سے کچھ نے اقبال کے سوانحی حالات کو موضوع بنایا اور کچھ نے اقبال کے فکر و فلسفہ ہر توجہ دی۔ اسی طرح خاصی تعداد میں تحریریں اور تصانیف وجود میں آتی گئیں۔ اقبال کے حالات پر سب سے پہلا سوانحی خاکہ مضمون محمد دین فوق کا ہے جو اپریل 1909 کے کشمیری میگزین میں شائع ہوا۔ اقبال پر لکھی جانے والی ان سوانح عمریوں میں اکثر و بیشتر میں فوق ہی کے بیانات کو دہرایا گیا ہے۔ یہ مضمون بعد میں 1932 نیرنگ خیال کے اقبال نمبر میں شائع ہوا۔

اقبال کی زندگی میں ان کے دوست نواب ذوالفقار علی خان نے ان پر ایک مختصر کتاب A voice from the East کے نام سے تحریر کی جو کہ 1922 میں شائع ہوئی۔ یہ اقبال پر لکھی جانے والی پہلی انگریزی کتاب ہے۔ 1923 میں اقبال کے ایک قریبی دوست مولوی احمد دین نے ”اقبال“ کے نام سے ایک کتاب لکھی۔ اس کتاب میں اقبال کے سوانحی حالات کے علاوہ مصنف نے اقبال کا متروک کلام بھی شائع کر دیا جسے اقبال نے خود خارج کیا تھا۔ اقبال نے اس بات کو پسند نہ کیا چنانچہ مولوی صاحب نے اس کتاب کا مسودہ جلا دیا۔

بانگ درا کی اشاعت کے بعد مولوی صاحب نے اسے از سر نو جمع کیا اور 1926 میں اس کتاب کی اشاعت ہوئی۔ یہ ایڈیشن تقریباً ناپید تھا۔ ڈاکٹر مشفق خواجہ نے اس کی بازیافت کر کے کتاب کا ایک تحقیقی ایڈیشن تیار کیا جس میں 1923 کے ایڈیشن کی عبارت کی بھی نشاندہی کی ہے اور ضروری حواشی بھی لکھے ہیں۔ یہ اردو میں اقبال پر اولین کتاب سمجھی جاتی ہے۔

اقبال کی وفات کے چند ماہ بعد حسن حسرت نے حیات اقبال کے نام سے ایک مختصر سی سوانح عمری لکھی جسے تاج کمپنی نے شائع کیا یہ کتاب 150 صفحات پر مشتمل کتابچہ ہے۔ یہ کتابچہ آسان زبان میں لکھا گیا ہے تاکہ اقبال کو عوام میں متعارف کرایا جا سکے۔ حسد کی کتاب دو ماخذات پر مبنی ہے۔

1۔ اول محمد دین فوق کا مضمون
2۔ دوم علی بخش کا مضمون جو کہ 1937 میں شائع ہونے والے ”شیرازہ“ کے اقبال نمبر میں شامل تھا۔

1939 میں پروفیسر طاہر فاروقی نے ”سیرت اقبال“ کے نام سے اقبال کی سوانح عمری لکھی۔ انگلش میں نہ صرف اقبال کے سوانحی حالات کو بیان کیا گیا ہے بلکہ ان کی شعری اور نثری تصانیف کا مفصل تعارف بھی دیا گیا ہے۔ اس کتاب میں بھی سیرت اقبال کا سوانحی حصہ فوق کے بیان کردہ حالات پر مبنی ہے۔ یہ کتاب مصنف کی سہل انگاری کا ادنی نمونہ ہے۔ کئی واقعات کے بیان میں مصنف نے کسی تحقیق سے کام لیے بغیر انہیں جوں کا توں شامل کر دیا ہے۔

نواب ذوالفقار علی خان کی مختصر انگریزی کتاب کے بعد اقبال پر انگریزی زبان میں کئی اور کتابیں بھی لکھی گئیں جن میں عبداللہ انور بیگ کی the poet of the East قومی کتب خانہ لاہور 1940 اور بشیر احمد ڈار کی Iqbal philosophy of society بالترتیب 1930، 1932 اور 1933 میں لاہور سے شائع ہوئیں۔ سید عبداللہ الواحد نے 1942 میں Iqbal is the art and thought کے نام سے ایک کتاب شائع کرائی۔

اس سوانحی تصانیف کے علاوہ اقبال کے فکر و فن پر ان کی زندگی ہی میں ارباب فکر و نظر مختلف مقالات اور مضامین کی صورت میں بحث و تمحیص کرتے رہے۔ اقبال مثنوی اسرار خودی کے منظر عام پر آتے ہی بہت سے لوگوں نے اقبال پر اعتراضات کیے۔ مولانا حسین مدنی، احمد مدنی کے ساتھ وطنیت کے موضوع پر اخبارات میں اختلافات کا اظہار ہوتا رہا۔ اقبال پر کفر کے فتوے لگائے گئے خطبہ الہ آباد پر انہیں تنگ نظر اور متعصب مسلمان قرار دیا گیا۔ مضامین کا یہ سلسلہ اس زمانے کے معروف مجلسوں، رسالوں اور اخبارات میں شائع ہوتا رہا۔

یہ مضامین اس زمانے کے مشہور و معروف مجلات و رسائل مثلاً زمانہ ”رسالہ“ ایسٹ ویسٹ ”،“ معارف ”،“ نیرنگ خیال ”،“ الناظر ”،“ مخزن ”اور آثار اقبال وغیرہ میں چھپتے رہے۔ ان مضامین کے لکھنے والوں میں خصوصاً مولانا جیراج پوری، عبدالرحمن بجنوری، سید سلیمان ندوی، پروفیسر رشید احمد صدیقی، مولانا عبدالحق، چوہدری محمد حسین، عبد الماجد دریا آبادی اور شیخ عبد القادر شامل ہیں۔

اقبال کی وفات کے فوراً بعد ان کی حیات فکر و فن اور خدمات کے حوالے سے جرائد کی طرف سے اقبال نمبروں کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا۔ ان میں رسالہ ”جوہر“ (جامعہ ملیہ) کا اقبال نمبر 1938 ان کے علاوہ ”سب رس“ کا اقبال نمبر 1938 علی گڑھ میگزین اپریل اور علی گڑھ اردو میگزین کا اقبال نمبر اکتوبر 1938 نیرنگ خیال کا اقبال نمبر 1932 اور سب سے بڑھ کر شیرازہ لاہور اقبال نمبر 1938 کو چراغ حسن حسرت نے مرتب کر کے ”اقبال نامہ“ کے نام سے کتابی شکل میں پیش کیا۔ چراغ کے مرتبہ ”اقبال نامہ“ کے معلوماتی دیباچے کے علاوہ بہت سے مضمون نگاروں کے ایسے مضامین شامل ہیں جو اقبال کی زندگی کے کئی گوشے سے منور کرتے ہیں اسی طرح رسالہ جامعہ اور رسالہ اردو دہلی اقبال اور اقبال کے نام سے شائع ہوئے۔

روح اقبال کو تین حصوں 1۔ آرٹ 2۔ تمدن 3۔ مذہب میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلے ایڈیشن 1942 کے بعد جتنے ایڈیشن شائع ہوئے۔ ان میں نئی معلومات کا اضافہ بھی کیا گیا ہے ڈاکٹر یوسف حسین خان پر پی ایچ ڈی کا تحقیقی مقالہ لکھنے والی خاتون محقق ڈاکٹر شبینہ اپنے ایک مضمون میں روح اقبال کال کو اقبال پر لکھی جانے والی دوسری کتب سیرت اقبال الظاہر فاروقی اقبال کامل از عبدالسلام ندوی اقبال نئی تشکیل از عزیز احمد اور فکر اقبال خلیفہ عبدالحکیم پر فوقیت دی ہے کہ یوسف حسان خان کے آفتاب اور فلسفے کو ربط و تسلسل کے ساتھ پیش کیا ہے جبکہ باقی مذکورہ کتب میں ربط کا فقدان ہے ڈاکٹر منظور احمد اقبال کے بارے میں لکھتے ہیں کہ:

” 1941 میں ڈاکٹر یوسف حسین نے“ روح اقبال ”کے نام سے جو کتاب لکھی تھی اس کو آج بھی تفہیم اقبال کے سلسلے کی اہم کتاب سمجھتا ہوں“ 1947 میں عطیہ بیگم نے ”اقبال“ کے نام سے خطوط اقبال شائع کر کے ادبی دنیا میں تہلکہ مچا دیا۔

نئی نئی معاشرتی اور تہذیبی تبدیلیوں کی وجہ سے اسلامی اقدار کو نئے چیلنج کا سامنا کرنا پڑا۔ ان نازک حالات میں دو قسم کی قیادتیں سامنے آئیں۔ دینی قیادت جس کی علمبردار علمائے دین تھے ان کی تعلیمات کا رخ زیادہ تر ”دنیا“ کی بجائے خانقاہ کی طرف تھا۔ دوسری قیادت جدیدیت پسندی تھی جس کے علمبردار سر سید اور ان کے حلقہ اسلام اور مسلمانوں کے تحفظ اور ترقی کے لیے مذہب اور سائنس کا ملاپ کر کے ایک نئے علم الکلام کی بنیاد رکھنا چاہتے تھے۔ غرض سر سید احمد خان نے جدید علوم و فنون، اسلام کی نئی تعبیر و تشریح، محنت و عمل، عقلیت و فطرت، اجتہاد، روشن خیالی اور علیحدہ قومیت پر مبنی خیالات پیش کیے اور ان کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کی۔ علی گڑھ تحریک کی اصطلاحی کوشش تعلیمی، سیاسی، مذہبی امور تک محدود نہ تھیں بلکہ اردو ادب کو بھی اجتماعی مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہوئے علمی افکار کی اشاعت کا ذریعہ بنایا اور اسے بھی عقل و افادیت اور فطرت کی بنیادوں پر استوار کیا۔

رفقائے سر سید میں سے حالی نے اپنی شاعری کے ذریعے (مسدس حالی) مسلمانوں کے شاندار ماضی کا ذکر کرتے ہوئے انہیں ان کی موجودہ پستی اور زوال کا احساس دلایا اور جدید علوم و فنون کی طرف راغب کیا۔ شبلی نے مشاہیر اسلام کی سوانح عمریوں کے ذریعے مسلمانوں کو بیدار کیا۔ وہ مغرب کی اندھی تقلید کے قائل نہ تھے بلکہ بقول مہدی افادی انہوں نے مذہب اور سائنس دونوں کا مصافحہ کرا دیا۔

نذیر احمد اجتہادی مقاصد کے پر زور مبلغ تھے۔ وہ دین و دنیا کی دوئی کے قائل نہ تھے۔ وہ اسلام اور مغرب کے دلکش امتزاج کے قائل تھے۔ سید امیر علی اور مولوی چراغ علی نے جدید علم کلام کو فروغ دیا۔ عقلیت پسندی، خرد افروزی اور رواداری کی تائید کی۔

ادھر ہندوستان میں سرسید تحریک اصطلاح مال اصلاح تحریک اصلاح احوال میں مصروف تھی تو ادھر دوسرے اسلامی ممالک میں سید جمال الدین 1838۔ 1897 کی مساعی سے روسی اور یورپی ملوکیت اور عالمگیر تصورات کو اپنانے اور مسلم ممالک کے اتحاد سے ایک مستحکم اسلامی بلاک بنانے کی تحریک شروع ہو چکی تھی۔ افغانی، اسلامی جدیدیت اور اسلامی جمہوریت و اتحاد کے ذریعے استعماری طاقتوں سے آزادی اور مسلمانوں کی نشاۃ ثانیہ کے خواہاں تھے۔

ان کی ادویات اور بھارت کا سنڈی نے اسلام کو دائرے واسطہ سے نکال کر عہد جدید میں بین الاقوامی توجہ نعت سے ہم آہنگ کر دیا علامہ اقبال مغرب کا مقابلہ کرنے کے لیے افغانی کی اصلاح ہو تو جدید، جدید جمہوریت اور مسلم اتحاد کے بے حد مداح نظر آتے ہیں۔ اقبال میں آپ امی کو مذہبی فکر و عمل کے لحاظ سے اپنے زمانے کا سب سے زیادہ ”ترقی یافتہ مسلمان“ قرار دیا۔

اقبال ایک صاحب بصیرت اور وسیع المطالعہ شخص تھے۔ اپنے ملکی حالات اور مشرقی علوم کا مطالعہ کیا بلکہ عمیق نگاہوں نے مغربی علوم، مغربی تاریخ اور مغربی تہذیب کا بغور مطالعہ کیا۔ یورپ جاگیر خود مشاہدہ تہذیب کرتے ہوئے وسیع اور ٹھوس بنیادوں پر اسلام اور مغرب کا تجزیہ کیا۔

اقبال کے تخلیقی محرکات اور تہذیبی رویے کو سمجھنے کے لئے پنجاب کی تہذیبی صورت حال کو بھی سمجھنا ضروری ہے۔ اس سلسلے میں انجمن حمایت اسلام 1884 کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ اس دور میں انجمن سے وابستگی کے سبب اقبال کی ملی یا عوامی شاعری کا آغاز ہوا۔ اقبال عوام میں مقبول ہوئے۔ اقبال 12 نومبر 1899 کو انجمن مجلس منتظمہ کے رکن منتخب ہوئے اور اس کے بعد آخر تک انجمن سے وابستہ رہے۔

جنگ روس و جاپان میں جاپان کی فتح 1905 اتحاد بین المسلمین کی تحریک مغربی استعمار کے خلاف، تقسیم بنگال کی منسوخی، اٹلی کا طرابلس پر حملہ، مسولینی کے اثرات، روسیوں کی مشہد مقدس پر گولہ باری، جنگ طرابلس و بلقان، مسجد کانپور کا سانحہ، خلافت کا مسئلہ، پہلی جنگ عظیم اور اس کے بعد یورپ کا دنیائے روس، دوسری جنگ عظیم ان جیسے لاتعداد اسباب اور واقعات پر اقبال کی گہری نظر تھی۔

اقبال اپنے استاد آرنلڈ کے لئے خاص عقیدت رکھتے تھے۔ انہوں نے آرنلڈ کے ذریعے مغربی استعمار اور اسلام کو سمجھا۔ 1905 سے 1908 تک اقبال کا دور دورہ پے۔ انھوں نے مجلسی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیا۔ نکلسن، براؤن، میک ٹیگرٹ، ارنلڈ، ایماویگے ناسٹ، سینے شل، عطیہ فیضی وغیرہ جیسے ذہین و فطین لوگوں سے ان کی گفت و شنید اور تدریس کے سلسلے رہے۔ سیاسی، عالم اسلام کی سیاسی، سماجی، معاشرتی، معاشی، ذہنی غلامی اور یورپ کے استبداد کا دکھ اس دور کی تحریروں میں نظر آتا ہے۔ اقبال نے تحریک پاکستان کو نظریاتی اساس فراہم کی اور اس آزاد خود مختار اور علیحدہ ریاست میں ایک مثالی فلاحی معاشرے کا خواب دیکھا۔

پاکستان بننے کے بعد اقبال کو ایک عظیم مفکر، فلسفی، شاعر اور سب سے بڑھ کر مصور پاکستان کی حیثیت سے ایک خاص اہمیت حاصل ہوئی۔ حیات اقبال اور فکریات و شعریات اقبال کو موضوع بحث بنایا گیا ہے۔ اقبال کے کلام کے تراجم و تشریحات کا سلسلہ شروع ہوا۔ 1977 میں حکومت پاکستان کی طرف سے جشن اقبال صدی منایا گیا اور لاہور میں ایک بین الاقوامی اقبال کانگریس ( 2 تا 7 دسمبر) منعقد کی گئی۔ بیرون ملک اقبال کے حلقہ تعارف میں اضافی ہوا۔

اور اس موقع پر ”اقبالیات“ کوایک علمی شعبے کے طور پر تسلیم کیا گیا اور 1984 میں اسلام آباد میں فاصلاتی تعلیم کے لیے قائم ہونے والی یونیورسٹی کو 1977 میں اقبال کے صد سالہ جشن ولادت کے مناسبت سے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد کا نام دیا گیا یہ یونیورسٹی اقبالیات کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

”پاکستان وہ اہم اساسی مرکز ہے۔ جہاں سے اقبالیات کی روایت کے برگ و بار پھوٹے اور پروان چڑھے۔ یوں اقبالیات پر لکھی جانے والی تحریروں اور تصانیف کا ایک بہت بڑا ذخیرہ وجود میں آیا۔ اگر پاکستان میں اقبال شناسی کی روایت پر ایک طائرانہ نظر ڈالی جائے تو اس کی مختلف جہات و اطراف نظر آتی ہے۔ اقبال پر لکھی جانے والی ابتدائی سوانحی کتابوں میں“ حیات اقبال ”از چراغ حسن حسرت ( 1938 ) اور“ سیرت اقبال ”

از پروفیسر اطہر فاروقی 1939 کے بعد 1955 میں عبد المجید سالک کی ”ذکر اقبال“ منظر عام پر آئی۔ ”

”سوانحی سلسلے کی ایک اور کتاب صابر کلوری کی“ یاد اقبال ”1977 اس میں اقبال کی زندگی سے متعلق جس قدر معلومات و واقعات جمع کیے گئے ہیں وہ کسی کتاب میں یکجا نہیں ملتے۔ اگرچہ یہ معلومات نئی نہیں تاہم مؤلف بعض تحقیق طلب روایات اور مختلف واقعات سے سرسری نہیں گزرا، بلکہ تحقیق و تفحص سے کام لیتے ہوئے کسی نتیجے تک پہنچنے کی کوشش کی گئی ہے۔“

”اس عرصے میں بعض ایسی کتابیں بھی سامنے آئیں جو باقاعدہ طور ہر اقبال کی سوانح عمریاں تو نہیں لیکن سوانحی مواد پر مشتمل ہیں۔ اور حیات اقبال کے بعض خاص ادوار یا گوشوں کو سامنے لاتی ہیں۔ مثلاً“ اقبال کے اخری دو سال ”، از ڈاکٹر عاشق حسین بٹالوی

، ”اقبال کے حضور“ مرتبہ از خالد نظیر صوفی، ”اقبال اور بھوپال“ ، ”سفر نامہ اقبال“ از محمد حمزہ فاروقی، ”اوراق گم گشتہ“ مرتبہ رحیم بخش شاہین، ”اقبال او انجمن حمایت اسلام“ از محمد حنیف شاہد۔ ”

” ان کتب میں“ اقبال درون خانہ ”علامہ مرحوم کی گھریلو زندگی، نجی محبتوں اور خاندانی محفلوں کا عمدہ سوانحی ریکارڈ ہے۔ اسے اقبال کے بڑے بھائی شیخ عطا محمد کے نواسے نظیر صوفی نے علامہ کے اعزہ و اقربا کے حوالے سے روایات و حکایات کی شکل میں مرتب کیا ہے۔“

”دانائے راز“ از نذیر نیازی 1979 تا 1907 تک کے حالات پر محیط ہے۔ نذیر صاب نے اقبال کے اس ابتدائی دور پر جسے وہ تشکیل دور کہتے ہیں مربوط اور مفصل نظر ڈالی ہے۔ یوں انہوں نے حیات اقبال کے ایک اہم دور کی تفصیلات تو محفوظ کر دیں لیکن یہ ایک آدھی یعنی ادھوری سوانح ہے۔ ”

”عروج اقبال 1982 ڈاکٹر مختار احمد صدیقی کی تصنیف ہے یہ معروف معنوں میں اقبال کی سوانح عمری تو نہیں بلکہ مصنف کا اصل موضوع اقبال کی شخصیت اور ذہنی فکری اور فنی ارتقا کا دور یہ دور جائزہ ہے اس کی شعری اور نثری تخلیقات کے علاوہ صرف کر اور شاعر اقبال کی نجی زندگی کے واقعات کا تذکرہ نا گزیر تھا۔ چنانچہ عروج اقبال کے مصنف نے حیات اقبال کے 1908 تک ضروری کو الف بھی بہ اختصار و جامعیت بیان کر دیتے ہیں اور عقیدت اور مبالغے سے ہٹ کر ان کا تجزیہ کیا اور اقبال سے متعلق بیانات کی تصحیح کردی یوں“ عروج اقبال ”ایک سوانحی حیثیت بھی رکھتی ہے۔ “

”مفکر پاکستان“ از محمد اقبال حنیف شاہد 1982 اقبال کی سوانح عمریوں میں غالباً ضخیم ترین ہے۔ مصنف نے لوازمات تو بہت جمع کیے لیکن مناسب ترتیب و تدوین کرنے سے قاصر رہا جس کی وجہ سے یہ ایک اچھی سوانح عمری نہ بن سکی۔ ”

Facebook Comments HS