کچھ مجبوریاں رشتوں سے اعتماد ختم کر لیتی ہیں
انسان بھی آزمائش کی دنیا کا ایک بادشاہ ہے۔ مگر پھر بھی ایک وقت ہوتا جب وہ معاشرے میں ہوتے ہوئے بھی نہ ہونے والی کیفیت کو محسوس کرتا ہے۔ اسی طرح میں نے بھی زندگی میں بہت بڑی پریشانیوں کا سامنا کیا۔ مگر ایک بات آج مجھے بہت تنگ کر رہی ہے۔ گزشتہ روز میرے دوست کے ہاں فوتگی ہوگی انہوں نے مجھے فون کیا کہ آپ فوتگی پر آئے مگر میں نوکری کی وجہ سے نہیں آ سکا ان دنوں گھر والوں کی طبیعت بھی نا ساز تھی۔ میرے اس عزیز کو بات کا پتا تھا۔
انہوں نے کوئی بات نہیں کی۔ میں نے چھٹی کی رپورٹ بھی دی مگر چھٹی نہیں ملی۔ میں نے بتایا کہ سوری میں نہیں آ سکتا تو اس بات کی وجہ سے آج کافی دنوں میں میرے اس رہبر سے میری بات ہوئی تو انہوں نے بہت ناراضگی کا اظہار کیا۔ اور تعلق توڑنے تک چلے گے کہ ایسے میں آپ ہمارے دکھ سکھ پر نہیں آئے گے تو ہم نے آپ کو کیا کرنا ہے۔ میں نے ان کو سیدھا بولا میرے پاس ایک ہی راستہ ہے کہ میں درخواست دے کر نوکری چھوڑ دیتا ہوں۔ اور کیا حل ہو سکتا ہے۔ اس بات پر بھی انہوں نے غصے سے کہا کہ مانا کہ آپ ہم سے تیز ہیں مگر اتنے بھی نہیں۔ مجھے بہت دکھ ہوا کہ حقیقی بات کو یہ کہا لے کر جا رہیں ہیں۔ میں حیران رہ گیا کہ میری ساری مجبوریاں ان کے سامنے کچھ بھی نہیں مگر ان کے سامنے صرف فوتگی ہی ہے۔ میں نے اسی وقت سوچنا شروع کر دیا اور اپنے ماضی میں ایک گہرا غوطہ لگا تو پتا چلا کہ ایسی کتنے مرگ تھے جو میرے دادا خاندان اور نانا خاندان میں ہوئے مگر ان فوتگیوں پر مجھے میرے کسی دوست نے فون کر کے یاد تک بھی نہیں کیا۔ اور نہ کوئی دکھ درد بانٹا۔ مگر جب اپنے گھر پر بات آئے تو ان کے معاملات ہی ان کے لیے سب کچھ ہیں۔ مجھے یہ کہانی جب سننے کو مل رہی تھی اسی وقت میں اندر ہی اندر شرمندہ ہو رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ کیا جو لوگ وقت پر کسی کے جنازے میں شرکت نہیں کر پاتے ہو گے سب کے ساتھ ایسے ہی ہوتا ہو گا۔ بات سچ لکھنے لگ جائے تو اپنی عزت بھی نہیں بچتی مگر قلم تو خون مانگتی ہے آپ کے جسم کا وہ خون جو ضمیر کی آ واز بن کر لفظوں کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔
ہم کبھی یہ نہیں سوچتے کہ مرنے والے سے زیادہ وہ رزق قیمتی ہوتا ہے جو اس کے جنازے پر آ نے سے ختم ہو سکتا ہے۔ جانے والا تو چلا جائے گا مگر ساتھ میں بچوں کی روزی بھی لے جائے گا۔ بس ایک چھٹی سی بات ہے۔ جب احساس رشتوں سے دور چلا تو نہ مرنے والے پیدا کر سکتے ہیں۔ اور نہ مرنے والے کے جنازے پر آ نے والے احباب کر سکتے ہیں۔ اسی طرح زندگی میں مارا مارا انسان اپنے کتنے خواب ساتھ لیے مر جاتا ہے وہ اس لیے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس کے خواب کسی کی موت کا سبب بن جائے۔
ہمیں رشتوں میں بھی زبردستی کرنے میں مزہ آتا ہے وہ یو کہ اگر انکل نہیں آئے تو کیوں نہیں۔ اگر کوئی کلاس فیلو نہیں آ یا تو چھوڑو یار وہ تھا ہی ایسا اس کی بات ہی نہیں کریں۔ آخر کب تک ہم ایسے ہی زبردستی ایک دوسرے کو نفسیاتی ذلیل و رسواء کرتے رہیں گے۔ رشتوں کا دکھ اندر سے محسوس کیا جاتا ہے۔ نہ کے مرنے والے گھر میں جبرا پہلی روٹی دے کر معاشرے میں پگڑی اونچی کرنے سے۔ ذرا سوچیں ہم کہا جا رہیں ہیں اور کس بنیاد پر اپنے تمام تعلیمات کو کمزور کرتے جا رہیں ہیں ہمارے سب رشتوں کی اہمیت ہم خود کم کرتے جا رہیں ہیں کیو کہ ہم چھوٹی چھوٹی باتوں سے بڑے پہاڑ کھڑے کرتے ہیں اور وہ پہاڑ ہمارے لیے نہ سر ہونے والے پہاڑی سلسلہ کی شکل اختیار کر جاتا ہے۔ جسے ہم عبور کرنے کی کوشش تو کیا سوچنا بھی چھوڑ دیتے ہیں۔ خدارا اپنے رشتوں کو سمجھنے کی کوشش کریں اور ان کو ساتھ لے کر چلیں۔ تب ہی معاشرے میں نفسیاتی بیماری، ذہنی دباؤ اور اکیلا پن سے چھٹکارا پایا جا سکتا ہے۔ نہیں تو ساری نعمتیں پاس ہوگی مگر شکر ادا کرنے کا طریقہ نہیں ملے گا۔


