منتھلیز – ماہواری


پاکستان میں ماہواری کے موضوع پر بات کرنا بہت مشکل ہے کیونکہ اسے معیوب سمجھا جاتا ہے۔ 48 فیصد خواتین اس بارے میں بات کرنے سے شرماتی ہیں۔

خواتین کے ماہانہ مخصوص ایام یا ماہواری ’نسوانی صحت کے حوالے سے انتہائی اہم موضوع ہے۔ تاہم اس پر بات کرتے ہوئے خواتین آج بھی جھجکتی ہیں جس کی وجہ سے طبی مسائل جنم لے رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق پاکستان میں معاشرہ مذہب اور سماجی اقدار کا سہارا لے کر جنسیت کو ایک ایسا موضوع بنا کر پیش کرتا ہے جس پر گفتگو کرنے سے اجتناب کیا جاتا ہے۔

اس دور میں ممنوع سمجھے جانے والے اس موضوع کے تاثر کو ختم کرنے کے لیے ’پیریڈ ڈے آف‘ دینے کو سراہنا چاہیے۔ اکثر فیلڈ میں کام کرنے والی لڑکیوں کو انکمفرٹیبل دیکھا ہے۔ ان کو ان خاص دنوں میں چھٹی کے لئے جھوٹ کا سہارا لینا پڑتا تھا حال ہی میں ایک کمپنی نی منتھلیز کے نام سے شروع کی جانے والی چھٹی کی پالیسی کا اطلاق کیا ہے۔ اس کمپنی کی ہر خاتون باآسانی مہینے میں ایک دن اس سے استفادہ کر پائے گی۔ اس کا آغاز سوئفٹ لاجسٹکس نامی ای کامرس کمپنی کے چیف ایگزیکیٹو افسر محمد انس نے پہلی بار پاکستان میں لاگو کی جانے والی نئی پالیسی سے کیا۔ ان کی کمپنی میں کوئی بھی خاتون با آسانی سے ایک پورٹل پر جا کر منتھلیز کی چھٹی کی درخواست بھر سکتی ہے جو پہلے سے منظور شدہ ہو گی اور یوں وہ چھٹی حاصل کر پائیں گی۔ خواتین کو بیماری کا بہانہ بنا کر چھٹی کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

اس پالیسی کا مقصد معاشرے میں اس حوالے سے پائے جانے والے منفی خیالات و رجحانات کو ختم کرنا ہے تاکہ مخصوص ایام کے متعلق جھوٹ بولنے کے کلچر کی حوصلہ شکنی کی جائے۔ اس سے کسی کو جھوٹ بولنے کی ضرورت محسوس نہیں ہو گی اور وہ پورے اعتماد کے ساتھ زیادہ پیداواری صلاحیت کے ساتھ کام کریں گی جس سے کمپنی بھی فائدہ اٹھا سکے گی۔

یہ سوئفٹ لاجسٹکس کی جانب سے بہترین قدم ہے۔ کمپنی کے مالک نے اس قانون کو بنانے کی وجہ ایک آنکھوں دیکھا واقعہ بتایا جو کہ ایک سٹور میں کام کرنے والی عورت پر ان مخصوص ایام میں اڑائے جانے والے مذاق سے ہوئی جو ان کی نظر سے گزرا۔ ایسے جملے باہر کام کرنے والی خواتین کے لئے انتہائی شرمندگی کا باعث ہوتے ہیں۔ جبکہ یہ نظام قدرت ہے۔ کمپنی کے مالک سٹور سے نکل کر واپس گھر جاتے ہوئے راستے میں سوچتے رہے کہ وہ اس خاتون کے لیے تو کچھ نہیں کر سکتے لیکن وہ اپنی کمپنی میں کام کرنے والی خواتین کے لیے آسانی پیدا کر سکتے ہیں۔ اس کے بعد انھوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنی کمپنی میں خاص طور پر پیریڈ لیوز متعارف کروائیں گے۔ امید ہے کہ باقی ادارے تقلید کریں گے۔ تھوڑا سہی مگر یہ اچھی شروعات ہے۔ کیا کوئی اور کمپنی پاکستان میں اس طرح کی پالیسی پر عمل کروا سکتی ہے؟

اس موضوع پر بہت سے لوگوں کو بات کرنے سے گھبراتے دیکھا ہے۔ سب سے بہترین جگہ سوشل میڈیا ہے جہاں ہم آگاہی دے سکتے ہیں۔ کیونکہ اس کا تعلق ہماری صحت اور حفظان صحت سے ہے۔

اس قانون کو ہر اس کمپنی میں لاگو کیا جائے جہاں خواتین کام کرتی ہیں۔

Facebook Comments HS