انڈیا میں ریاستی الیکشن: ابتدائی رجحانات میں بی جے پی اُترپردیش، گوا، اتراکھنڈ اور منی پور میں جبکہ عام آدمی پارٹی پنجاب میں آگے


مودی
انڈیا میں فروری اور مارچ 2022 کے دوران پانچ ریاستوں میں ہونے والے ریاستی انتخابات کے بعد ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے اور سامنے آنے والے ابتدائی رجحانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ چار ریاستوں، اُتر پردیش، گوا، منی پور اور اتراکھنڈ، میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) جبکہ پنجاب میں عام آدمی پارٹی آگے ہے۔

یہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ دونوں پارٹیاں ہی ان پانچ ریاستوں میں حکومت بنانے میں کامیاب ہو سکتی ہیں۔

نتائج کے رجحانات یہ بھی ظاہر کر رہے ہیں کہ ان سبھی ریاستوں میں انڈیا کی بڑی اپوزیشن پارٹی یعنی کانگریس بہتر کارکردگی کرنے میں ناکام نظر آ رہی ہے۔

ان انتخابات کے دوران ریاست گوا کی اسمبلی کی 40 نشستوں، منی پور میں 60 ، پنجاب میں 117، اتراکھنڈ میں 70 جبکہ اتر پردیش میں 403 نشستوں پر انتخابات ہوئے تھے۔

موجودہ رجحانات یہ اشارہ کر رہے ہیں کہ بی جے پی گوا، منی پور، اتراکھنڈ اور اتر پردیش میں حکومت میں واپسی کی راہ پر ہے اور عام آدمی پارٹی پنجاب میں کانگریس کی متبادل کے طور پر نظر آ رہی ہے۔

یاد رہے کہ اگر عام آدمی پارٹی پنجاب میں حکومت بنانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ دہلی سے باہر اس پارٹی کی پہلی حکومت ہو گی۔

سیاسی ماہرین کے مطابق بہتر کارکردگی نہ دکھانے والی اپوزیشن پارٹیاں ملک میں بڑھتی مہنگائی، کسانوں کے احتجاج اور دیگر مسائل سے برسراقتدار بی جے پی کے خلاف فائدہ اٹھانے میں ناکام رہی ہیں جبکہ بی جے پی کو وزیر اعظم نریندر مودی کی سیاسی حکمت عملی، جاری کی گئی فلاحی سکیموں، مبینہ طور پر فرقہ وارانہ بیان بازی اور ٹکٹوں کی بہتر امیدواروں میں تقسیم سے فائدہ ہوتا نظر آ رہا ہے۔

بڑی اور اہم ریاست اُتر پردیش

الیکشن

ان ریاستوں میں سب سے بڑی اور اہم ریاست اتر پردیش ہے جس کی آبادی تقریباً 20 کروڑ ہے اور بی جے پی اور کانگریس کے علاوہ اس ریاست میں سماج وادی پارٹی (ایس پی)، بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) اور راشٹریہ لوک دل جیسے علاقائی پارٹیاں بھی انتخابی دوڑ میں تھیں۔

رجحانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اُترپردیش میں بی جے پی کو سنہ 2017 میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے مقابلے میں کم سیٹوں سے فتح ملنے کا امکان ہے، فی الحال اس ریاست کی 403 نشستوں میں سے سامنے آنے والے نتائج کے مطابق بی جے پی 249 سیٹوں پر آگے ہے جبکہ ریاست کی اہم اپوزیشن پارٹی سماج وادی پارٹی 122 سیٹوں پر آگے ہے۔

یاد رہے کہ کانگریس 1980 کی دہائی کے آخر تک ریاست اترپردیش کی سب سے مقبول اور بڑی پارٹی تھی لیکن بابری مسجد کے انہدام کی تحریک اور ذات پات پر مبنی ریزرویشن کی تحریک کے بعد نچلی ذاتوں کی نمائندگی کرنے والی جماعتوں، ایس پی اور بی ایس پی، اور ہندو مفادات کی رہنمائی کرنے والی پارٹی بی جے پی نے اقتدار پر بتدریج اپنا قبضہ جمایا۔

سنہ 1989 سے تاحال ریاست میں جنتا پارٹی، ایس پی، بی ایس پی اور بی جے پی نے حکومت رہی ہے۔ اور موجود انتخابات میں بھی لگتا ہے کہ کانگریس حکمران جماعت کے طور پر اس ریاست میں واپس آنے میں ناکام رہے گی۔

رجحانات کے مطابق اس الیکشن میں کانگریس اُتر پردیش میں محض ایک سیٹ پر باقی جماعتوں سے آگے ہے اور گذشتہ اسمبلی الیکشن کے مقابلے اس کے ووٹوں کی تعداد میں مزید کمی آئی ہے۔

مودی

کانگریس ریاست گوا، منی پور، اتراکھنڈ میں بھی ایک اہم طاقت ہونے کے باوجود بی جے پی کو ہرانے میں ناکام نظر آ رہی ہے۔

اس ریاست میں انتخابات سے پہلے کے دنوں میں مسلمانوں کو نشانہ بنانے والی فرقہ وارانہ یکطرفہ تقاریر کا غلبہ بھی رہا۔ ہندو مذہبی رہنماؤں نے کھلے عام ایسے بیانات دیے جن میں ہندوؤں کو مسلمانوں کے خلاف ہتھیار اٹھانے کو کہا گیا۔

یہ بھی پڑھیے

مودی کی مقبولیت کا امتحان جس پر پورے انڈیا کی نظریں جمی ہیں

مودی، امت شاہ کی حکمتِ عملی جس نے اتر پردیش میں بی جے پی کو مضبوط کیا

اترپردیش: سب سے بڑی ریاست کی انتخابی ریلیوں میں پاکستان، جناح اور طالبان کا ذکر حاوی

ان نتائج کو، خاص طور پر اترپردیش کے 2024 کے پارلیمانی انتخابات کے پیش خیمہ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ اترپردیش اسمبلی کی 403 نشستیں ہیں مگر اس ریاست کی پارلیمانی سیٹیں 80 ہیں۔ سنہ 2019 کے انتخابات میں بی جے پی 62 سیٹیں حاصل کی تھی اور سنہ 2014 کے ا نتخابات میں 81 سیٹوں پر کامیاب رہی تھی۔

پنجاب

عام آدھی پارٹی

اسی طرح پنجاب میں، جہاں کانگریس برسراقتدار پارٹی تھی، عام آدمی پارٹی اسمبلی کی 117 میں سے 91 سیٹوں پر آگے ہے۔ پنجاب میں برسراقتدار بی جے پی کی ساکھ روایتی طور پر کمزور رہی ہے۔

گذشتہ برس کسانوں کے احتجاج میں پنجاب سب سے آگے تھا اور اس احتجاج سے کانگریس کو فائدہ ہونے کی امید تھی لیکن عام آدمی پارٹی ایک نیا متبادل دینے کے موقف کے بعد اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہوتی نظر آ رہی ہے۔ اگر عام آدمی پارٹی یہاں سے اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے کہ تو یہ دہلی کے بعد پہلی ریاست ہے جہاں اس پارٹی کی حکومت بنے گی۔

عام آدمی پارٹی انڈیا میں بڑے پیمانے پر کرپشن کے خلاف تحریک چلانے کے باعث سنہ 2013 میں دہلی انتخابات میں نمایاں ہوئی تھی اور ملک میں اسے ایک نئے متبادل کے طور پر دیکھا جا رہا تھا۔

اس ریاست میں اپوزیشن جماعتیں مہنگائی، بے روزگاری، کسانوں کے احتجاج اور معیشت پر کورونا وائرس کے اثرات کی بنا پر بی جے پی کو روکنے کی کوشش کر رہے تھے۔

Facebook Comments HS

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33851 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp