نوجوانوں کا عدم اعتماد


پاکستان دنیا کا پانچواں اور جنوبی ایشیا کا دوسرا بڑا نوجوان آبادی رکھنے والا ملک ہے۔ اندازے کے مطابق پاکستان میں 2045 تک ہونے والے الیکشن میں نوجوان ووٹرز کی حیثیت فیصلہ کن ہے۔ گزشتہ الیکشن 2018 میں اٹھارہ سے پینتیس سال کی عمر تک کے رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 46 ملین یعنی ساڑھے چار کروڑ سے زائد، جو کہ کل رجسٹرڈ ووٹرز کا 44 فیصد بنتا ہے۔ پاکستان کی الیکشن کی تاریخ میں اوسطاً ڈیڑھ سے پونے دو کروڑ ووٹ لینے والی جماعت حکومت بنا لیتی ہے۔ اس اعتبار سے اگر کوئی سیاسی جماعت نوجوانوں کے ایک تہائی ووٹ بھی حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے تو اسے حکومت بنانے سے کوئی نہیں روک سکتا۔

دوسری جانب اتنی بڑی نوجوانوں کی آبادی رکھنے والا ملک اگر اس آبادی کے ذخیرے کو ہر لحاظ سے مثبت انداز میں سنبھال نہ سکا تو سنگین نتائج کا مرتکب ہو گا۔ جرائم کی بڑھتی شرح، نشے کی لعنت، شدت پسندی کو جنم دینے والی قوتوں میں سر فہرست بیروزگاری، ناخواندگی اور فیصلہ سازی میں شمولیت کا فقدان شمار کی جا سکتی ہیں۔ ہمیں نوجوانوں کی معاشی، سماجی اور سیاسی سطح پر مثبت انداز میں برابر مواقع اور شمولیت کو یقینی بنانا ہو گا۔

نوجوانوں کی سیاسی عمل میں شمولیت جہاں حکومتیں بنانے کی ضامن ہے وہیں ان کے ووٹوں سے آنے والی حکومت پر فرض عائد ہوتا ہے کہ اس جیت کو نوجوانوں کی ترقی، خوشحالی اور اخلاقی نشو و نما میں عملاً بدلے۔

مگر سوال یہ ہے کہ جس ملک کا وزیراعظم اپنی تقاریر میں سیاسی مخالفین کے بارے میں اندوہناک اور بہیمانہ لب و لہجے کا استعمال کرے۔ جس کی گفتگو سے نفرت، شر انگیزی، بد کلامی اور بدتہذیبی عیاں ہو ذرا سوچیئے وہ پاکستان جیسے ملک کے نوجوان پر کیا اثرات مرتب کرتا ہو گا۔

گزشتہ ایک ہفتے سے وزیراعظم عمران خان نے متعدد بار خطاب کیے جو تمام ٹیلی ویژن چینلز پر نشر ہوئے۔ تقریباً ہر خطاب میں وزیراعظم نے اپنے سیاسی مخالفین کے بارے میں غیر پارلیمانی اور سیاسی طور سے غیر اخلاقی زبان استعمال کی۔ وزیراعظم اور محض سیاست دان کی زبان اور الفاظ کے چناؤ میں خاطر خواہ فرق ہونا لازم ہے۔

سیاسی لیڈر اور بالخصوص وزیراعظم میں تدبر، دانش، علم اور عملی گفتگو کا ہونا لازمی جزو ہیں۔ جبکہ ہمارے وزیراعظم کا دعوی ہے کہ وہ نوجوانوں کے علمبردار ہیں تو کیا وہ پاکستان کے نوجوان کو گالی، بدزبانی، بد اخلاقی، بد لحاظی اور شر پسندی سکھانے آئے تھے یا ایک کروڑ نوکریاں، اعلی تعلیمی معیار، جدید یونیورسٹیاں، میرٹ اور معیشت کی بلندی جیسے خواب کے پیچھے گھسیٹتے ہوئے طوفان بدتمیزی اور عدم برداشت کے اکھاڑے میں لا کھڑا کرنے؟ چاہے سوشل میڈیا ہو یا میدان عمل۔

پاکستانی نوجوان کی سماجی پہچان عدم برداشت بن چکی ہے۔ چاہے سیالکوٹ میں سری لنکن شہری کے قتل کا واقع ہو، خانیوال کا محمد مشتاق ہو یا متعدد اور ایسے جتھے کی شکل میں پرتشدد جان لیوا واقعات ہوں۔ ایسے میں ملک کے وزیراعظم کی مخالفین کے لیے دھمکی آمیز، اخلاقی طور سے پسماندہ تقاریر کروڑوں نوجوانوں کی سوچ کو تعمیراتی بنانے کے بجائے تشدد پسندی پر مائل کرنے کا موجب بن سکتی ہیں۔

ماضی میں بھی سیاسی اکھاڑے کی بدزبانی کا تحفظ نہیں کیا جا سکتا۔ غلط گفتگو ہر دور میں ہی قابل مذمت ہوتی ہے۔ مگر آج کے دور میں اور 70، 80 اور 90 کی دہائی میں فرق ہے۔ اس وقت کی شہری آبادی، نوجوانوں کی تعداد اور ذرائع ابلاغ کے طریقوں اور مواقعوں کا آج کی تیز رفتار انٹرنیٹ، سوشل میڈیا اور وسیع الیکٹرا نک میڈیا کی فراہمی کے ساتھ کوئی موازنہ نہیں۔ اس دور میں جو بات ہفتوں اور مہینوں میں پھیلتی تھی آج صرف ایک کلک دوری پر ہے۔ آج ذرائع ابلاغ کا دور ہے، سوشل میڈیا نوجوانوں کی رائے سازی میں گہرے اثرات رکھتا ہے۔ سیاسی لیڈر اور ملک کے حکمرانوں کو اس حساسیت کی ذمہ داری قبول کرنا ہو گی۔ ہمیں نوجوانوں کے پر تشدد جتھے نہیں بلکہ ایسے نوجوان پروان چڑھانے ہیں جو ملک اور قوم کے لیے فخر کی علامت بن سکیں۔ عملی زندگی میں پر امن، باوقار اور جدید دنیا کے علمی و تکنیکی مقابلوں کا حصہ بن سکیں۔

دوسری جانب ماضی کے تلخ تجربات سے ہماری سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے اسباق سیکھے جس کی مثال میثاق جمہوریت 2006 سے ملتی ہے۔ اس کے بعد شروع ہونے والے جمہوری عہد میں سیاسی رہنماؤں کی فہرست ملتی ہے جو اپنی اختلافی گفتگو میں حدود و قیود اور بردباری کا مظاہرہ کرتے ہیں جو کہ خوش آئند ہے۔ دور حاضر میں اس کاوش کو پیچھے دھکیلنا جمہوری اور سیاسی پسماندگی کی علامت ہے۔

حالیہ، وزیراعظم کا سیاسی مخالفین کی زبان اور تلفظ کا مذاق اڑانا دانشور حلقوں میں تنقید کا نشانہ بنا۔ وزیراعظم کی گفتگو یہ نہیں ہونی چاہیے کہ مخالفین کی ”گردن میرے ہاتھ میں آئے“ ، ”بندوق کے ’نشست‘ (شست)“ ، ”پہلا ٹارگٹ“ ، ”دوسرا ٹارگٹ“ جیسے القابات وزیراعظم کو شکاری ظاہر کرتا ہے۔ شکاری کی جگہ جنگل میں ہوتی ہے آبادی یا پارلیمان میں نہیں۔

جہاں تک زبان کا مذاق اڑانے کی بات ہے، حلف اٹھانے سے لے کہ آج تک متعدد بار اردو الفاظ کی غلط ادائیگی کرنے والا وزیراعظم شست کو نشست بولنے والا، روحانیت کو روحونت اور روحانیات کہنے والا، جس بے تکلفی سے دوسروں کے تلفظ اور ادائیگی پر انگلی اٹھاتا ہے یہ مضحکہ خیز ہے۔

دوسروں کے نام بگاڑنا اور ہتک آمیز القابات سے پکارنا وزیراعظم کے چند روز قبل کا گلہ یاد دلاتا ہے کہ ان کی اہلیہ کے بارے میں نامناسب گفتگو ہوئی جو قابل مذمت ہے مگر یہ وقت ہے کہ جب وہ اس بات کو ذہن نشین کریں۔

پاکستان جس کی کل آبادی کا 64 فیصد تیس سال سے کم عمر افراد ہیں اور تقریباً 30 فیصد ( 29۔ 15 سال) کے نوجوانوں پر محیط ہے ایسے وزیراعظم کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

Facebook Comments HS

سلمیٰ بٹ

سلمیٰ بٹ کا تعلق پاکستان مسلم لیگ (ن) سے ہے اور وہ پنجاب اسمبلی کی رکن ہیں۔ ان کی خاص دلچسپی خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے میں ہے۔

salma-butt has 6 posts and counting.See all posts by salma-butt