عدم اعتماد کے بڑھتے سائے


اس وقت عمران خان کی تبدیلی سرکار کو سخت چیلنج کا سامنا ہے۔ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے لو افیئر کے مبینہ طور پر خاتمہ کے بعد اپوزیشن نے اپنے ترکش میں موجود تمام تیروں کو آزمانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے تک نون لیگ کی طرف سے اسٹیبلشمنٹ کو نشانہ بنایا جاتا رہا اور یہ کہا گیا کہ عمران اور ان کی حکومت تو کٹھ پتلی ہے اور وہ ان کی اصل حریف نہیں ہے مگر اب صورتحال الٹ چکی ہے اپوزیشن کی اسٹیبلشمنٹ کے بارے زبانیں گنگ ہیں جمہوریت کے چیمپئن حکومت کو گرانے کے لئے اسٹیبلشمنٹ سے پینگیں بڑھانے کے لئے تیار بیٹھے ہیں بس ایک اشارہ چاہیے۔

اسلام آباد پر چڑھائی کا جو فیصلہ کیا گیا تھا اب دبے دبے کہا جا رہا ہے اتنا کچھ کرنے کی ضرورت ہی نہیں۔ اپوزیشن نمبر گیم کے ذریعے حکومت کو چت کرنے کے لئے پراعتماد نظر آ رہی ہے۔ لگتا ہے لندن میں بیٹھے گھاگ لیڈر کو کہیں سے تبدیلی کے اشارے ملے ہیں یا ان کی اپنی جہان دیدگی ان کو بتا رہی ہے کہ حالات سازگار ہیں اس لئے تمام تر وزن عدم اعتماد کے پلڑے میں ڈال دیا گیا ہے۔ حکومت پھر بھی نوشتہ دیوار پڑھنے کے لئے تیار نہیں ہے وہاں یہ سوچا جا رہا ہے کہ آخری لمحے پھر ان کو کہیں سے مدد پہنچ جائے گی۔

ماضی بھی یہ بتاتا ہے کہ عدم اعتماد کی تحریکیں ہمارے ہاں کامیاب نہیں ہوتیں۔ مگر اس دفعہ جہانگیر ترین فیکٹر فیصلہ کن کردار ادا کرے گا۔ جہانگیر ترین کے ساتھ جو سلوک کیا گیا اب اس کا جواب دینے کا ان کا وقت آ چکا ہے۔ چوہدری جو ہوا کا رخ پہچاننے میں اعلی مہارت رکھتے ہیں انھوں نے بھی حکومت کے ساتھ کھل کر کھڑے ہونے سے انکار کر دیا ہے۔ اب جب کہ تحریک عدم اعتماد سپیکر کو جمع کروائی جا چکی ہے اور اب وزیراعظم اپنے اسمبلیاں تحلیل کرنے کے اختیار سے بھی محروم ہو چکے ہیں۔

کئی ممبران اسمبلی مشکوک ہیں جن کے بارے میں ایک خفیہ ادارے نے وزیراعظم کو رپورٹ پیش کی تھی جس کی وجہ سے وزیراعظم حد درجہ غصہ اور ٹینشن میں آ گئے اوپر سے ان کو اپنی انا ایک طرف رکھ کر ایسے اتحادیوں کے پاس سر کے بل چل کر جانا پڑ گیا ہے جن کو وہ پہلے کئی سال سے ملنے سے بھی انکاری تھے ان کا اپنے کئی وفادار دوستوں کے ساتھ ماضی میں روا رکھا گیا ایسا رویہ اب ان کے لئے وبال جان بنتا نظر آ رہا ہے۔ جہاں ان کے ایک سابق دوست اکبر ایس بابر نے ان کی پوری پارٹی کو الیکشن کمیشن میں خوار کر رکھا ہے وہیں علیم خان اور جہانگیر خان جیسے با اثر اور دبنگ دوستوں کو انھوں نے ان لوگوں کی خاطر پیچھے کر دیا جو اب ان کے کسی کام کے نہیں اور الٹا ان کے لئے سفید ہاتھی ثابت ہو رہے ہیں۔

ابھی یہ بات تقریباً کنفرم ہے کہ اپوزیشن کو کچھ حکومتی اراکین اور حکومتی اتحادیوں کی کمک مہیا ہے جس کی وجہ سے ان کے چہروں سے اعتماد چھلک رہا ہے۔ دوسری جانب حکومت نے اپنے چوٹی کے وکلا سے صلاح مشورے شروع کر دیے ہیں کہ کیسے تکنیکی بنیادوں پر اپوزیشن کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے چونکہ نمبر گیم میان تو اپوزیشن کو سبقت حاصل لگ رہی ہے۔ اس سلسلہ میں سپیکر کا رول اہم ہو گا مگر اس طرح کا کوئی کام کیا گیا تو ملک میں سیاسی افراتفری پھیل سکتی ہے اس لئے حکومت کو اس تحریک کا مقابلہ قانون کے دائرے کے اندر رہ کر کرنا پڑے گا۔

قانونی موشگافیوں کے ذریعے پراسس میں رکاوٹ جمہوریت کے لئے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ مرکز میں جہاں اپوزیشن نے حملہ کیا ہے وہیں پنجاب میں اپنے ناراض ساتھیوں نے حکومت کے قلعے میں شگاف ڈالنا شروع کیے ہیں۔ عثمان بزدار کو ہٹانے کا مطالبہ دراصل وزیراعظم کے عزم اور ارادے کا امتحان ہے اگر وہ یہ مطالبہ پورا کرتے ہیں تو ان کی کمزوری عیاں ہو جائے گی اگر نہیں کرتے تو اپوزیشن کو اس کا فائدہ پہنے گا یہ ایک بہت بڑا چیلنج ہے جو وزیراعظم کو دہیش ہے۔

مگر ان حالات سے مشتعل ہو کر مخالفین کو الٹے سیدھے خطابات سے نواز نا بھی ان کے عہدے کے شایان شان نہیں اور ان زبانی حملوں کا ان کو کوئی فائدہ نہیں پہنچنے والا۔ اب حالات اس نہج پر پہنچ گئے ہیں کہ ان کو صرف اسٹیبلشمنٹ والے ہی بچا سکتے ہیں مگر اس کے لئے ان کو اپنی انا کی قربانی دینا پڑے گئی اور اس حوالے سے پہلی قربانی پنجاب کے وزیراعلی کی کرنی پڑے گی۔ اپوزیشن کو یہ بھی احساس ہونا چاہیے کہ حکومت کو ہٹانے کے بعد نئی بننے والی حکومت چوں چوں کا مربہ ہوگی جس کو بنانا اور پھر چلانا انتہائی مشکل ہو گا بہتر یہی ہو گا کہ اسٹیبلشمنٹ کوئی درمیانی رستہ نکال لے اور خان صاحب اپوزیشن کے مطالبات بھی تسلیم کر کے اپنا بچا کھچا عرصہ پورا کریں، بلدیاتی الیکشن کروائیں انتقامی سیاست بند کریں مولانا فصل الرحمان کو راضی کریں کہ وہ بھی ایک پٹھان ہیں اور ان کی انا انتہائی مجروح کی گئی ہے۔ اور اپوزیشن بھی ان کو بقیہ وقت گزارنے کی رعایت دے کر صحت مندانہ جمہوری رویے کا مظاہرہ کرے۔

Facebook Comments HS