بانجھ پن

اگرچہ لفظ بانجھ پن میرے ملک اور معاشرے میں عورتوں کے لئے بولا جاتا ہے، عورت کی جسمانی کمزوری کے طور پر استعمال کیا ہے، لیکن یہ سب غلط ہے بلکہ جسے معاشرہ سمجھ رہا ہوں وہ معاشرہ نہیں ایک بھیڑ خانہ ( انارکی ) ہے۔ اس بھیڑ خانہ میں یہ بیماری پورے طور پر براجمان ہو چکی ہے، حتیٰ کہ مرد بھی اس کا شکار ہو چکے ہیں اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے وہ کیسے؟
ایک گاؤں میں ڈاکو داخل ہوئے اور وہاں کی تمام عورتوں کی عصمت دری کر دی۔ مگر ایک خاتون ایسی تھی جب اس کے گھر میں ڈاکو داخل ہوا تو اس نے اس ڈاکو کو قتل کر دیا اور سر کاٹ دیا۔ واردات کے بعد جب تمام ڈاکو اس گاؤں سے چلے گئے تو تمام عورتیں اپنے پھٹے ہوئے کپڑوں سمیت گھروں سے نکل آئیں اور روتے ہوئے ایک دوسرے کو روداد بیان کرنے لگیں۔ اتنے میں وہ بہادر خاتون اپنے گھر سے باہر نکلی، عورتوں نے دیکھا کہ اس کے گھر میں داخل ہونے والے ڈاکو کا سر اس نے ہاتھوں میں اٹھا رکھا ہے اور نہایت غیرت و خودداری کے ساتھ وہ ان کی طرف آنے لگی۔
اس خاتون نے بلند آواز سے کہا کہ کیا تم نے سوچ لیا تھا کہ وہ مجھے مارے بغیر میری عزت تار تار کر سکتا تھا؟ گاؤں کی عورتوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور فیصلہ کیا کہ اس عورت کو قتل کر دیا جائے تاکہ ان کی عزت بچی رہے اور ان کے شوہر کام سے واپس آنے پر ان سے یہ نہ پوچھیں کہ تم نے اس کی طرح مزاحمت کیوں نہیں کی؟ پھر انہوں نے اس بہادر خاتون پر حملہ کر کے اسے قتل کر دیا۔
”انہوں نے ذلت کو زندہ رکھنے کے لئے عزت کا قتل کر دیا“
یہی حال آج ہمارے معاشرے کے چور، حرام خور، جھوٹے اور کرپٹ لوگوں کا ہے، وہ ہر عزت دار، خوددار شخص کو مارتے ہیں، غریب اور سفید پوش کو حقیر جانتے ہیں اور استحصال کرتے ہیں تاکہ وہ ان کی کرپشن، جھوٹ، چوری اور حرام خوری کے خلاف بات نہ کر سکیں۔
”اصل میں یہ لوگ اپنی عزتیں گنوا چکیں ہیں اور عزت داروں کا جینا حرام کر رکھا ہے“
یہ انہیں عورتوں کی اولاد سے ہیں جنہوں نے اپنی ذلت چھپانے کے لئے عزت کو قتل کر دیا تھا۔
لفظ تہذیب پر غور کریں تو مطلب کسی قوم کا مجموعی ”طرز زندگی“ ہوتا ہے۔ اور تہذیب کے معنی مادی ترقی اور جسمانی صفائی کے ساتھ ساتھ ذہنی اور اخلاقی بھی ہوتی ہے تو یہ پاکستان میں اعلیٰ سطح پر جھوٹ ہے کیونکہ پاکستانی مرد، عورت اس بانجھ پن کا شکار ہیں۔ یہ قوم اپنی جسمانی ترقی، روحانی ترقی، علمی ترقی اور صفائی ستھرائی کا مظاہرہ نہیں کر رہی بلکہ ہر عمل اس کے خلاف کر رہی ہے۔
بانجھ پن سے مراد کسی خاص صلاحیت سے محروم ہو جانا۔ یہاں پر ذہنی اور جسمانی بانجھ پن دن بدن اعلی سطح کو چھو رہا ہے۔ اس کی تصدیق یہی کافی ہے کہ:
شادی کے پروگرام میں لاکھوں کروڑوں کا خرچہ کر دیتے ہیں ناچ، گانا، منہدی جیسی رسومات بڑے ذوق و شوق سے کرتے ہیں جب نکاح کا وقت آتا ہے تو کہتے ہیں :
” فادر جی، پادری صاحب، مولوی صاحب صرف پانچ منٹ میں ختم کروانا ہے۔ “
ذرا دوسری طرف ایک چھوٹی سی نگاہ کریں تو دودھ میں ملاوٹ کرنا، سبزیوں کو گندا پانی دینا، رشوت خوری کو دوسرے (چائے پانی، میرا حصہ) نام دے کر وصول کرنا۔ عدالتوں میں کتابیں مقدس پر ہاتھ رکھ کے جھوٹی گواہیاں دینا، بدعنوانی اور کرپشن کرنا، جھوٹی قسم کھانا، کسی قوم اور ملک کے براہ راست ذہنی، جسمانی اور ایمانی بانجھ پن کی بہترین مثالیں ہیں۔
پاکستانی قوم دنیا کی واحد قوم ہے جو ذہنی، جسمانی، ایمانی اور روحانی بانجھ پن کا شکار ہو چکی ہے، جو کہ تبدیلی کے نام پر آنے والی نسلوں کا بیڑا غرق کر رہی ہے۔
گلیوں اور سڑکوں کے کنارے جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر، آئے دن سڑکیں بلاک کرنا، خود اپنے ہاتھوں سے برے کام کر کے قسمت پر الزام دینا، ایمانداری میں دنیا کے 140 نمبر پر آنا، حج کرنے میں دنیا کے پہلے نمبر پر آنا، اور انصاف دینے میں دنیا کے 128 نمبر پر جانا۔ یہ تمام تر نشانیاں اس قوم کے بانجھ پن ہونے کی مثال دیتی ہیں۔ اس کو کسی بھی زاویے سے پرکھا جائے / جانے کی کوششیں کی جائے یہ زور زور سے اعلان کر رہے ہیں :
کہ اس قوم کے مرد و خواتین تمام تر بانجھ پن کا شکار ہو چکے ہیں۔ اس بات کو تحقیقی نقطہ نظر دیکھیں یا تنقیدی نقطہ نظر سے مکمل طور پر اپنی مثال آپ ہوتی ہے۔

