مسجدوں میں امن نہیں تو پھر کہاں امن ہے؟


تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان میں ہمیشہ اقتدار بچانے کے لیے یا اقتدار چھیننے کے لیے معصوم لوگوں کی جانوں سے ہولی کھیلی گئی ہے۔ اس ملک میں کبھی دھرنے ناکام بنانے تو کبھی دھرنے کامیاب بنانے کے لیے دھماکے کرائے گئے ہیں۔ آج کل پھر ملک میں اقتدار کی رسہ کشی اپنے عروج پر ہے اور ان حالات میں آئی ایس آئی کے سربراہ پہلے ہی اپنے افسران کو پہلی بار سیاست سے دور رہنے کا واضح حکم دے چکے ہیں۔

صحافی بھی اداروں کی غیر جانب داری کا پرچار کرتے نظر آتے ہیں ۔ فضل الرحمان سمیت اپوزیشن اور حکومتی ٹھیکیدار بھی اداروں کے غیر جانبدار رہنے کے ناقابل تصور اعلانات کرتے نظر آ رہے ہیں۔ جب اتنے زیادہ لوگ غیر ضروری طور پر اداروں کے غیر سیاسی ہونے کے ڈھول پیٹنے لگیں تو اداروں کا غیر سیاسی اور غیر جانبدار رہنا ناقابل یقین اور ناقابل فہم بات ہے۔

یہ اس ملک کی جامعہ مسجد کی تصویر ہے جس میں نمبرون ایجنسی کا سربراہ ہر ہفتے یہ بیان دیتا ہے کہ ”دہشتگردوں کی کمر توڑ دی گئی ہے“

پچھلے جمعہ کی نماز کے دوران نمبرون کے سابق چیف، کور کمانڈر پشاور کے بیس سے چند میٹر کے فاصلے پر واقع پشاور کی قصہ خوانی مسجد میں ہونے والے بم دھماکے میں 63 معصوم لوگ اپنی جانیں گنوا بیٹھے ہیں۔ کیا اتنا سستا خون ہے میرے ملک کے لوگوں کا؟ اور کتنے جنازے اٹھائیں گے ہم لوگ؟ اور کتنی لاشیں دفنائیں گے؟ اگر مسجدوں میں امن نہیں تو پھر کہاں امن ہے؟ جب دنیا ہمیں دہشت گرد کہتی ہے تو ہمیں بہت برا لگتا ہے۔ دراصل ہم دہشت گرد ہیں۔ ہمارے ادارے دہشت گرد ہیں۔ ہم نے پی ٹی ٹی سے مذاکرات کیے ہیں۔ ہم نے طالبان کو اچھے لوگ کہا ہے۔ ہم نے امن کے جھوٹے دعوے کیے ہیں

دراصل ہم نے آسٹریلیا ٹیم سے بھی جھوٹ بولا ہے۔ پاکستان کی مساجد نماز پڑھنے اور اس ملک کے بازار تجارت کے لئے محفوظ نہیں ہیں۔ یہاں کے تعلیمی ادارے طالب علموں کے لیے اور یہاں کی عدالتیں معصوم لوگوں کے لیے محفوظ نہیں ہیں۔ یہاں کی موٹر ویز مسافروں کے لئے اور یہاں کے پولیس اسٹیشن سائلین کے لیے محفوظ نہیں ہیں۔ یہاں کے مدرسے طالب علموں کے لیے اور یہاں کے ہسپتال مریضوں کے لیے محفوظ نہیں ہیں۔ یہ ملک سچ بولنے اور سچ لکھنے والوں کے لیے محفوظ نہیں ہے۔

یہ ملک صحافیوں کے لیے اور سیاستدانوں کے لیے محفوظ نہیں ہے۔ یہ ملک عورتوں اور معصوم بچوں کے لیے محفوظ نہیں ہے۔ دراصل یہ ملک جرنیلوں کے لیے اور ان کی دولت کے لیے بھی محفوظ نہیں ہے۔ یہ ملک اقلیتوں کے لیے اور مذہبی رہنماؤں کے لیے بھی محفوظ نہیں ہے۔ جہاں مسجدیں، مندر، مدرسے، ہسپتال اور عدالتیں محفوظ نہیں تو اس ملک کے میدان کھیل کے لیے کیسے محفوظ ہو سکتے ہیں۔

Facebook Comments HS