عدم اعتماد:14 مارچ کو قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے اور 18 کو ووٹنگ کی تجویز


حکومت کے خلاف اپوزیشن کی جانب سے جمع کروائی گئی تحریک عدم اعتماد پر بحث اور ووٹنگ کے معاملے پر قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے اسپیکر کو 14 مارچ کو اجلاس بلانے کی تجویز دے دی۔ ذرائع کے مطابق تجویز دی گئی ہے کہ 3 دن بحث کے بعد 18 مارچ کو ووٹنگ کروادی جائے، قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی تجویز پر حتمی فیصلہ اسپیکر اسد قیصر کریں گے۔ قواعد کے مطابق ریکوزیشن پر اسمبلی اجلاس 14 دن میں بلانا ہوتا ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ دنوں اپوزیشن نے وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد اسمبلی سیکریٹریٹ میں جمع کروائی تھی۔

دوسری جانب تحریک عدم اعتماد ناکام بنانے کے مشن پر وزیراعظم عمران خان ایک روزہ دورے پر آج لاہور پہنچے ہیں۔ عمران خان کے ہمراہ دورۂ لاہور میں وفاقی وزراء اسد عمر، شفقت محمود، فرخ حبیب، حماد اظہر، خسرو بختیار اور شاہ محمود قریشی بھی موجود ہیں۔

وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد تکنیکی بنیاد پر ناکام بنانے کے لئے حکمت عملی تیار کرلی گئی ہے۔ اس حوالے سے قانونی ماہرین نے وزیراعظم کو مختلف تجاویز دے دیں، پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی کرنے والے ارکان سے متعلق اسپیکر کوخط لکھنے کی تجویز دی گئی۔ ایسے اراکین کی مبینہ فہرست پہلے ہی عمران خان کے پاس موجود ہے۔

قانونی ماہرین کی جانب سے تجویز دی گئی کہ اسپیکر سے درخواست کریں کہ اگر یہ اراکین ووٹ ڈالیں تو ان کے ووٹ کو گنتی میں شمار نہ کیا جائے۔

دوسری طرف متحدہ اپوزیشن نے صدر عارف علوی کے خلاف مواخذے کی تحریک لانے کا فیصلہ کر لیا۔ ذرائع کا بتانا ہے کہ تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے فوری بعد مواخذے کی تحریک پیش کی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق نئے صدر کے امیدوار کے لئے آصف زرداری اور مولانا فضل الرحمان پر مشتمل 2 رکنی کمیٹی قائم کردی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ طے ہو گیا ہے کہ صدر پیپلز پارٹی یا جے یو آئی میں سے ہو گا۔ \

بشکریہ جہان پاکستان

Facebook Comments HS