تحریک عدم اعتماد کے پیچھے بین الاقوامی سازشیں

جب سے پاکستان تحریک انصاف کے وزیراعظم عمران خان نے عنان اقتدار سنبھالی ہے، اس وقت سے بلاشبہ وطن عزیز ترقی کی وہ بے مثال منازل طے کر رہا ہے جس کے خواب دیکھتے دیکھتے کئی قومیں صفحۂ ہستی سے مٹ گئیں کیونکہ ان کو عمران خان جیسی بے لوث قیادت میسر نہ ہو سکی۔ عمران خان ہی وہ دیدہ ور ہیں جس کے بارے میں اقبال نے کہا تھا کہ نرگس کے ہزاروں سال رونے کے بعد بڑی مشکل سے پیدا ہوتا ہے۔ عمران خان نے پاکستان کے لیے جو قربانیاں دی ہیں، ان کی مثال بنی نوع انسان کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ عمران خان قدرتی طور پر ایک باصلاحیت لیڈر ہیں۔ ان سے ملاقات کے بعد ایک بار ملکۂ برطانیہ نے کہا تھا کہ اگر ہمارے پاس عمران خان جیسا لیڈر ہوتا تو آج بھی سلطنت برطانیہ پر سورج غروب نہ ہوتا۔
بین الاقوامی شیطانی قوتیں کبھی بھی عمران خان کے حق میں نہ تھیں اور انہیں شیطانی ذریت نے پیشگوئی کے ذریعے عمران خان سے خبردار بھی کر رکھا تھا۔ اس لیے ایام جوانی سے ہی عمران خان کو گمراہ کرنے کی بے تحاشا کوششیں کی گئیں مگر ”جے مولے نوں مولا نہ مارے تے مولا نہیں مردا“ کے مصداق عمران خان ان کے پھیلائے ہوئے ہر شیطانی جال سے یوں بچ کر نکل گئے جیسے مکھن سے بال نکلتا ہے۔ دروغ بر گردن راوی ایک بار وہ لوگ عمران خان کو گھیر گھار کر ایک ایسی محفل میں لے گئے جہاں شیطانی کھیل ہو رہا تھا، لیکن ان کی تمام امیدوں پر پانی پھیرتے ہوئے عمران خان اس محفل سے ایسے غائب ہو گئے جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔
لیکن بشری کمزوریاں کچھ عرصے تک عمران خان پر بھی غالب آئیں، جس کے باعث عمران خان سے کچھ خطائیں بھی ہوئیں لیکن وہ بھی خان صاحب کے لیے رحمت بن گئیں۔ پر خان صاحب بھی ایسے ملامتی صوفی واقع ہوئے ہیں کہ آج تک اس خطا پر شرمندہ ہیں سو رحمت کو اپنانے سے انکاری ہیں۔ فطرت کا نظام ہے کہ جب شیطانی قوتیں حرکت میں آتی ہیں تو توازن برقرار رکھنے کو روحانی قوتیں بھی اپنا اثر دکھاتی ہیں۔ اسی لیے وقت آنے پر ان روحانی قوتوں نے زمان و مکان کے اصول و قوانین و تقاضا جات کو بالائے طاق رکھ کر کپتان کو اپنے حصار میں لے لیا اور اپنے فیض سے اقتدار کے قمر کو کپتان کے سر کا تاج بنا دیا۔
لیکن چوروں اور ڈاکوؤں نے کپتان کے حکومت سنبھالتے ہی اپنے بین الاقوامی آقاؤں کی شہ پر فوراً حکومت کے خلاف ریشہ دوانیاں شروع کر دیں اور ان کے بین الاقوامی آقاؤں نے بھی کھل کر ان کا ساتھ دیا۔ کبھی بین الاقوامی منڈی میں تیل مہنگا کر دیا، کبھی گیس کی شارٹیج کر دی اور کبھی خوردنی تیل کی قیمت میں اضافہ کر دیا۔ اور تو اور کپتان کی حکومت کو بدنام کرنے اور ملک میں مہنگائی کا طوفان لانے کے لیے ڈالر کو بھی کئی گنا مہنگا کر دیا گیا۔ ان سب عوامل سے عوام میں بے چینی تو پھیلی مگر محب وطن صحافیوں کی مثبت رپورٹنگ کی وجہ سے حالات کنٹرول سے باہر نہ ہوئے اور لفافہ اور ٹوکری صحافیوں کو منہ کی کھانی پڑی۔
ان تمام ہزیمتوں کے بعد تمام شکست خوردہ عناصر نے ایک انتہائی خفیہ مقام پر خفیہ میٹنگ کی جس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ اب اگر کپتان کو حکومت کرنے کا مزید موقع دیا گیا تو یہ شخص اگلے چند سالوں میں پوری دنیا کا وزیراعظم بن جائے گا اور انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ کی دکان بند ہو جائے گی۔ اس کے بعد کی جو ہولناک منصوبہ بندی کی گئی اس کے بارے میں جان کر آپ کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں گے۔ سب سے پہلے یہ پتہ لگایا گیا کہ کپتان کا اگلا دورہ کس ملک ہے۔ معلوم ہوا کہ کپتان کا اگلا دورہ روس کا ہے۔
فوری طور پر روسی صدر سے ریڈ ہاٹ لائن پر خفیہ ترین رابطہ کیا گیا اور اسے کسی بیرونی دشمن نے نہیں بلکہ پاکستان کے اندرونی دشمنوں نے دو سو دس ارب ڈالر کی ادائیگی کی تا کہ کپتان کے روس کے دورے کو متنازعہ بنایا جا سکے۔ اس لیے جب کپتان نے روس کا دورہ کیا تو عین اسی روز روس نے یوکرائن پر حملہ کر دیا۔ کپتان چونکہ روس کو دوست کہہ چکا تھا اس لیے وہ روس کے ساتھ کھڑا ہو گیا۔ کپتان خود بھی روسی افواج کے ساتھ بارڈر پر جا کر جنگ میں حصہ لینا چاہتا تھا مگر چند افراد کے سمجھانے پر صرف ریڈ ٹیوب پر جنگ کے لائیو مناظر دیکھنے پر اکتفا کیا۔
سازشی اپنے مقصد میں کامیاب ہو چکے تھے۔ دنیا میں فوری طور پر یہ پراپیگنڈہ کیا گیا کہ کپتان روس کے ساتھ ہے۔ ملک میں عوام کو یہ باور کرایا گیا کہ ہمارے مفادات اور تجارت کیونکہ یورپ اور امریکہ کے ساتھ زیادہ ہیں اس لیے روس کے ساتھ کھڑا ہونا غلط ہے۔ نواز شریف، زرداری اور فضل الرحمن نے اپنی تیل کی کمپنیوں کے ذریعے تیل کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ کر دیا اور کپتان کی صفوں میں موجود ننگ وطن قسم کے لوگوں کو ساتھ ملا کر کپتان کے خلاف تحریک عدم اعتماد بھی پیش کر دی۔ جس کی کامیابی کے امکانات کم ہی ہیں کیونکہ کپتان اپنے آٹھ جماعتی اتحاد کے ساتھ ڈٹ کر اکیلا کھڑا ہے اور متحدہ اپوزیشن کی سمجھ میں نہیں آ رہا کہ اس اکیلے کپتان کا مقابلہ کیسے کریں۔
اس بین الاقوامی سازش، جس میں امریکہ، چین، فلسطین، کشمیر، زمبابوے، مشرقی تیمور، مغربی ایغور، شمالی کوریا، جنوبی یمن، برطانیہ، انگلینڈ، یو کے، آئرلینڈ، سکاٹ لینڈ، بوہیمیا، پاور لینڈ، ناگا لینڈ، انڈیا، بھارت، ہندوستان اور سری لنکا جیسے ممالک شامل ہیں اور جس کو را، موساد، سی آئی اے، ایم آئی ون، بلیک تھنڈر، تامل ٹائیگرز، فور کارنرز، جی پی فائیو، انتقاضا، جیسی تنظیموں کی حمایت بھی حاصل ہو، اس کا مقابلہ کرنے کے لیے پوری قوم کو متحد ہو کر کپتان کے پیچھے کھڑا ہونا پڑے گا۔
اس وقت پوری دنیا کی نظریں پاکستان پر ہیں اور وہ تمام صورتحال کا پوری دلچسپی سے جائزہ لے رہے ہیں تا کہ ایک بار کپتان کی حکومت گرے تو وہ اپنا اپنا حصہ لے سکیں۔ ان ممالک کی دلچسپی کپتان کے علاوہ کپتان کی ٹیم میں بھی ہے۔ کئی ممالک اپنی معیشت کی بہتری کے لیے اسد عمر کو حاصل کرنا چاہتے ہیں، سائنس اور ٹیکنالوجی میں ترقی کے لیے فواد چوہدری اور شبلی فراز کی بھی بہت مانگ ہے۔ ثقافت کی بہتری کے لیے جنوبی امریکہ کے ممالک فیاض چوہان پر نظر رکھ کر بیٹھے ہیں اور نئی قیادت کی تربیت کے لیے تمام ممالک جناب عثمان بزدار کو اپنے پاس لے کر جانا چاہتے ہیں۔
ہم سب کو مل کر اس تحریک عدم اعتماد کو ناکام بنانا ہو گا ورنہ ایک خفیہ رپورٹ کے مطابق اگر تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو گئی تو صرف کپتان کی ٹیم کو اپنے پاس لانے کے لیے دنیا میں تیسری جنگ عظیم کا آغاز ہو سکتا ہے، جس کا انجام اس دنیا کی مکمل تباہی کی صورت میں نکلے گا۔

