اگلے دس دن بہت اہم


عمران خان کے خلاف اتنی جلدی اور اتنی تیزی سے سب چیزیں فائنل ہو جائیں گی کسی کے وہم و گمان بھی نہیں تھا۔ کل تک جو اپوزیشن کو دھمکیاں، چھوڑوں گا نہیں، خطرناک بن جاؤ گا کی گردان کرنے والے آج واسطہ یا بلاواسطہ کبھی لندن تو کبھی لاہور میں معافی کے پیغام بھجوا رہے ہیں اور کبھی ان کے قریبی وزراء برملا میڈیا پر صلح کی پیشکش کر رہے ہیں۔ ایک طرف ظاہرا اور پوشیدہ معافیاں مانگی جا رہی ہیں اور دوسری طرف بڑھکیں بھی ساتھ ساتھ چل رہی ہیں اور اللہ کا شکر بھی ادا کیا جا رہا ہے کہ اپوزیشن میرے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لے آئی ہے۔

عمران خان کے خلاف اچانک سے اتنا کچھ ہونے کی بڑی وجہ ایک ہی ہے کہ کہی عمران خان، جنرل باجوہ اور نواز شریف کے خدشات کے عین مطابق کوئی ایسا فیصلہ نہ کر بیٹھیں جس سے ملک ایک بار پھر اسی کھائی میں واپس چلا جائے جس سے اس وقت ملک کو نکالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ عمران خان اس وقت خود کو ذہنی طور پر ہر قسم کے بڑے بحران سے نمٹنے کے لئے تیار کر بیٹھے ہیں۔ پنجاب کی ایک مثال ہے ”آپ نہیں یا گاہک نہیں“ ، بظاہر عمران خان نے فیصلہ کر لیا یا تو میں وزیراعظم رہوں گا یا میرے بعد کوئی بھی وزیراعظم نہیں رہے گا۔

اگلے دس دن پاکستان کے لئے بہت اہمیت اختیار کرچکے ہیں۔ ان دس دنوں میں ملک کی نئی سمت کا تعین ہو گا یا پرانی گاڑی ہی دوبارہ ریپیئر کر کے چلائی جائے گی۔ فی الحال تو حکومتی اتحادی کی صورتحال سے ایسا لگ رہا ہے کہ اب اپوزیشن کو حکومت کے ارکان کی بھی ضرورت نہیں رہی۔ کیونکہ حکومت کے تمام اتحادی جلد بڑا فیصلہ کرنے والے ہیں۔ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے سپیکر کو 18 مارچ کو عدم اعتماد پر ووٹنگ کرانے کا کہا گیا ہے۔

جبکہ 21 مارچ کو مریم نواز اور کیپٹن صفدر کی ایون فیلڈ کیس میں بریت کی اپیلوں کی بھی سماعت ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اسی دن خلاف توقع اس کیس میں مریم نواز کو بھی بڑا ریلیف مل جائے۔ 22 تاریخ کو او آئی سی وزراء خارجہ کا اجلاس بھی منعقد ہونے جا رہا ہے۔ جبکہ سب سے اہم خبر یہ ہے کہ شہباز شریف پر فرد جرم عائد کرنے کے لئے 25 مارچ کی تاریخ مقرر کردی گئی ہے۔ کیونکہ ایک بار پہلے 18 فروری کو شہباز شریف پر فرد جرم عائد ہونے کی تاریخ سامنے آئی تھی۔ لیکن وہ پھر ملتوی ہو گئی۔

اقتدار عمران خان کے ہاتھوں سے تیزی سے پھسل رہا ہے۔ اس کی بڑی وجہ عمران خان کے غیر معروف فیصلے، بلاوجہ کی بڑھکیں، انتقامی احتساب کی پالیسی، مسلسل یوٹرن اور بڑے بڑے دعوے جن کو وہ پورا کرنے میں ناکام رہے۔ عمران خان کی جانب سے بار بار آزاد خارجہ پالیسی کا دعوی کیا جاتا ہے۔ ہماری خارجہ پالیسی آزاد کیسے ہو سکتی ہے جب ہمارا ملک امریکی قرضے ”آئی ایم ایف“ اور سعودی امداد سے چلے گا۔ آزاد خارجہ پالیسی کا ڈھنڈورا تو تب پیٹا جائے جب ہم ملک کو اپنے وسائل سے چلانے کے قابل ہو گئے ہیں۔

ہمیں سرکاری ملازمین کی تنخواہیں اور پنشن کی ادائیگیوں کے لئے بھی قرضے لینے پڑتے ہیں تو آزاد خارجہ پالیسی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ آزاد خارجہ پالیسی کی ایک سب سے بڑی مثال عمران خان کا ایک سعودی کال پر انڈونیشیا سے سمٹ چھوڑ کر فوری واپس آنا ہے۔ کیا یہ آزاد خارجہ پالیسی تھی۔ یہ آزاد خارجہ پالیسی کا دعوی کرنے والوں کی صرف ایک مثال ہے ایسی کئی مثالیں جو آزاد خارجہ پالیسی کو ننگا کر دیں گئیں۔ یاد دہانی کی ضرورت بھی نہیں لوگ بہت ذہین ہوچکے ہیں اتنی آسانی سے باتیں نہیں بھولتے۔ اگر اپوزیشن کی عدم اعتماد کامیاب ہوجاتی ہے جس کے کامیاب ہونے کا چانس سو فیصد ہے۔ اب عمران خان کے لئے بہتر یہی ہو گا کہ وہ گوشہ نشین ہو جائیں اگر انہوں نے خطرناک بننے کی کوشش کی تو شاید حالات ان کے لئے مزید خطرناک بن جائیں۔ ہماری تاریخ بڑی ظالم اور بے رحم ہے۔

Facebook Comments HS