پاکستان کی خود مختاری
عالمی صف بندی میں پاکستان کا کا شمار دنیا کے اہم ترین ممالک میں ہوتا ہے۔ افغانستان کے مخصوص حالات، چین کی ہمسائیگی، بھارت سے تنازعات ’اسلامی عناصر اور سب سے بڑھ کر ایٹمی طاقت پاکستان کو خطے میں مزید نمایاں کرتے ہیں۔ OIC میں کردار، خلیجی ممالک سے تعلقات، امریکہ اور یورپ کا اثر و رسوخ، روس اور وسط ایشیائی ممالک کی خطے میں موجودگی، پاکستان کی کنٹرولڈ خارجہ پالیسی، ایران اور سعودیہ کی بڑھتی ہوئی کشیدگی پاکستان کو مزید ”ہائی لائیٹ“ کرتے ہیں۔
اگر تاریخ کے صفحات میں جھانکا جائے تو یہ انکشاف ہو تا ہے کہ پاکستان مستقل طور پر آج تک کسی بلاک کا حصہ نہیں رہا۔ کبھی امریکہ کی گود میں کھیلتا ہوا نظر آ یا تو کبھی روس کا ہم نشین رہا۔ کبھی اسلامی ممالک کی قیادت کرتا نظر آتا ہے تو کبھی ان سے تعلقات کا گراف بھی نیچے جاتا رہا۔ کبھی اسلامی بلاک کا حصہ رہا تو کبھی ناتواں پالیسیوں کی وجہ سے دیوار کے ساتھ لگا رہا۔ گو کسی بھی ملک کے تعلقات کبھی بھی کسی ملک کے ساتھ ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہے۔
ان میں اتار چڑھاؤ آتا رہتا ہے۔ مگر کبھی کبھی دانشمندانہ فیصلے دوراندیش ثابت ہوتے ہیں۔ پاکستان ہمیشہ غیر دانشمندانہ فیصلوں کی وجہ سے ”اہم ترین“ ہوتے ہوئے بھی غیر اہم رہا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان کے حکمران ہمیشہ نادیدہ قوتوں کے آگے گھٹنے ٹیکتے رہے ہیں۔ قیام پاکستان سے لے کر آج تک ملک کی ریاستی خود مختاری پر سوالات اٹھتے رہے ہیں۔
آپ بد قسمتی ملاحظہ کیجئے۔ پاکستان میں آج امریکی مداخلت بہت زیادہ ہو چکی ہے۔ ملکی حکومتیں کوئی بھی اہم کام امریکی اجازت کے بغیر نہیں کر سکتیں۔ ہر اہم ادارہ آئی ایم ایف کا دست راس بن چکا ہے۔ ہمارا پورا بجٹ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک تیار کرتے ہیں۔ تعلیم، صحت، روزگار سمیت تمام اہم عوامل پر ”بڑی سرکار“ ہمیں تحکمانہ انداز میں ہدایات دیتی ہے اور ہم اچھے بچوں کی طرح سب باتوں پر من و عن عمل کرتے ہیں۔ ملک میں نئی آ نے والی حکومت پہلے ”بڑی سرکار“ کے در پہ حاضر ہوتی ہے وہاں سے آشیرباد لے کر کاروبار سلطنت کا آغاز کرتی ہے۔
الیکشن میں بھلے کوئی بھی جیتے کوئی فرق نہیں پڑتا آ تا وہی ہے جس کو ”سرکار“ اجازت ”خاص عطا فرمائیں۔ ایسی صورت میں قائم ہونے والی حکومت کبھی عوامی مفادات کا احترام نہیں کر سکتی۔ جب“ صاحب ”موصوف سے ناراض ہوتے ہیں یا وہ ان کے مفادات پورے نہیں کر سکتا تو وہ اس کی جگہ کوئی نیا“ مہرہ ”لے آتے ہیں۔ عوامی جذبات کی کوئی قدر نہیں۔ وکی لیکس کے ہوشربا انکشافات نے امریکہ کی نام نہاد“ مداخلت پالیسی ”کا بھانڈا پھوڑ دیا اور ساتھ ساتھ ہمارے حکمرانوں کے چہروں سے غیرت و حمیت کا بھی اتار دیا۔
آپ المیہ ملاحظہ کیجئے۔ ہمیں من حیث القوم یہ سوچنا چاہیے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ ہم خود مختار اور آزاد کیوں نہیں؟ کیا ہم ایک کمزور قوم ہیں؟ کیا ہم محکوم ہیں؟ کیا ہم کو معیشت کا مسئلہ ہے؟ کیا ہم تعداد میں کم ہیں؟ کیا ہمیں ایمانی قوت کی کمی کا مسئلہ ہے؟ کیا ہم طاقت میں کم ہے؟ کیا ہمارے پاس بہترین فوج نہیں؟ کیا ہمارے پاس اسلحہ کی کمی ہے؟ کہ ہمارے پاس ایک مکمل ملک نہیں؟ یقیناً ان تمام سوالوں کا جواب آپ بھی تلاش کرتے ہوں گیں۔
تو پھر کیوں ہم ایسے ہیں؟ ہمارے حکمران ہمیشہ یہ جواز پیش کرتے رہے ہیں کہ پاکستان معاشی طور پر کمزور ملک ہے جس کی وجہ سے ہمیں امور سلطنت چلانے کے لیے عالمی مالیاتی اداروں سے قرضے لینے پڑتے ہیں جو امریکہ کے زیر اثر ہیں تو ہمیں بلا واسطہ طور پر امریکی مداخلت بھی قبول کرنا پڑتی ہے اور ان کی باتیں بھی ماننا پڑتی ہے۔ ورنہ دوسری صورت میں پاکستان کو اقتصادی اور معاشی پابندیاں برداشت کرنا پڑیں گے۔ میرے خیال میں پاکستانی قوم ایک غیرت مند قوم ہے جو گھاس تو کھا لے گی مگر حکومت کو کاسہ پکڑنے کی اجازت نہیں دے گی۔
آپ سوچیں جو قوم ایٹم بم بنا سکتی ہے کیا اس طرح دربدر کی ذلالت اور رسوائی و برداشت کرے گی؟ یہ قوم تو قربانیوں والی قوم ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی میزبان قوم بھی پاکستانی قوم ہی ہے۔ جس نے 35 لاکھ افغان کارکنوں کو اپنے ہاں پناہ دی جس کی بڑی تعداد اب بھی پاکستان میں موجود ہے بلکہ یہاں تک کہ اب تو ان کو مکمل شہریوں کے حقوق بھی حاصل ہو گئے ہیں۔ امریکہ کی نام نہاد دہشت گردی سے بھی پاکستان سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔
لہٰذا ہم کسی بھی صورت ایک بزدل اور کمزور قوم نہیں ہیں۔ اور جہاں تک بات پابندیوں کی ہے وہ تو ابھی بھی پاکستان بہت ساری پابندیاں برداشت کر رہا ہے اتنی غلامی اور“ یس سر ”کے باوجود ہم امریکا کی واچ لسٹ میں موجود ہیں۔ عرصہ دراز سے امریکہ کی طرف سے پاکستان کی مالی امداد بند پڑی ہے۔ اتنی بے غیرتی کے باوجود ہم ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں موجود ہیں۔ امریکہ نے ہمارے حکمرانوں کو ایک ٹشو پیپر سے زیادہ کبھی اہمیت نہیں دی۔
جتنی دیر ان کو استعمال کرتے ہیں اتنی دیر کے لیے اہم ہوتے ہیں۔ پھر ان کی جگہ کوڑا دان ہی ہوتا ہے۔ میں ہرگز ہرگز یہ ماننے کو تیار نہیں کہ ہمیں معیشت کی بحالی کا مسئلہ ہے۔ کیا پاکستان غریب ملک ہے؟ آپ یقین کریں جتنا سرمایہ، دولت اور وسائل پاکستان میں موجود ہیں اتنے کہیں بھی نہیں ہے۔ مسئلہ یہاں صرف اور صرف سرمایہ دارانہ نظام ہے، دولت کی غلط بانٹ اور کرپشن ہے۔ جاگیردارانہ اور سودی نظام ختم کر کے اس کی جگہ کوئی دوسرا بہترین نظام لایا جائے تو دیکھ لینا کہ پاکستانی معیشت کو پر لگ جائیں گے۔
یہی تو امریکہ نہیں چاہتا کہ جب صحیح نظام طاقت میں آئے گا تو پھر اس کی طاقت کا سورج یقینی طور پر غروب ہو جائے گا۔ اس لئے وہ پاکستانی حکمرانوں کو معیشت کالونی پوپ تھما کر اپنے مفاد حاصل کر رہا ہے۔ جہاں ان کو شک ہو وہاں وہ راستے کا پتھر ہٹا دیتے ہیں۔ بات ساری غیرت کی ہوتی ہے آپ کیوبا کی مثال لے لیں ایک چھوٹا سا ملک ہے۔ نہ اس کے پاس ایٹم بم ہے نہ بہترین فوج۔ نہ اس کی معیشت اچھی ہے۔ نہ کے پاس افرادی قوت ہے۔
نہ عالمی صف بندی میں اتنی اہمیت لیکن غیرت ہے۔ وہ امریکہ کو سرعام آنکھیں دکھاتا ہے۔ امریکا اس کا کیا بگاڑ لیا ہے۔ آج تک اقتصادی اور معاشی پابندیاں لگا کر کیا ثابت کیا ہے۔ وہاں تو نظام زندگی بالکل صحیح انداز میں چل رہا ہے۔ کیوبا کی قوم پورے قد کاٹھ سے زندہ ہے۔ آپ دور نہ جائیں اپنے پڑوس میں ایران کی مثال لیں جو برادر اسلامی ملک بھی ہے انقلاب ایران کے بعد ایران نے خطے میں امریکہ کا“ مکو ٹھپ ”کر دیا وہ خطے میں بالکل امریکی بالادستی قبول نہیں کرتا۔
وہ امریکی احکام کو جوتے کی نوک پر رکھتا ہے۔ امریکا اور یورپ نے پورے زور سے ایران پر حملے کیے۔ کبھی معاشی پابندیوں کی صورت میں تو کبھی سعودیہ کے ساتھ بلاوجہ کی جنگ میں جھونک دیا۔ کبھی بموں سے حملہ کیا تو کبھی دہشت گردوں کی پشت پناہی کا الزام لگا کر۔ اور کبھی انتشار پھیلانے کا الزام لگا کر ایران کو دنیا میں تنہا کرنے کی صورت میں تو کبھی اس کے وسائل ہتھیانے کی صورت میں۔ کبھی خانہ جنگی میں مبتلا کر کے تو کبھی عالمی جنگوں میں زبردست دھکیل کر۔
کبھی ان کو دنیا کے امن کے لیے خطرہ قرار دے کر تو کبھی اس کی دفاعی طاقت کو چھیڑ کر۔ تو بتائیں امریکہ نے ان کا کیا بگاڑ لیا ہے۔ آج ایران تیزی سے ترقی کر رہا ہے دنیا بیشک مانے یا نا مانے۔ ایران کی معیشت، تعلیم کا نظام، صحت کا نظام، روزگار سمیت کئی شعبوں میں پاکستان سے آگے ہے۔ آج دنیا ایران کی حمایت بھی کر رہی ہے اور اس کے ساتھ کھڑی بھی ہو رہی ہے۔ ایران اسلامی دنیا میں بھی اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کر رہا ہے۔ یورپ بھی آہستہ آہستہ اسے ہاتھ ملانے کی کوشش کر رہا ہے اور عرب دنیا بھی ہولے ہولے اس کے ساتھ ہو رہے ہیں۔
جب کہ پاکستان اسلامی دنیا میں بھی اپنا مقام کھو چکا ہے۔ سعودیہ سمیت متعدد عرب ممالک کے دل سے اتر چکا ہے۔ یورپ نے ہمیشہ پاکستان کو دہشتگرد ملک ہی سمجھا ہے۔ چین کے ساتھ تعلقات بھی مشکوک ہو چکے ہیں۔ روس اور وسط ایشیائی ممالک کے ساتھ تعلقات بھی سرد مہری کا شکار ہو چکے ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں پاکستان کی ساکھ بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ یہاں تک کہ پاکستان کے اپنے پڑوسیوں ماسوائے چین کے کسی کے ساتھ اتنے اچھے تعلقات نہیں ہے۔ صرف اور صرف امریکہ کی غلامی نے ہمیں یہاں تک پہنچا دیا ہے۔ میری دعا ہے کہ اللہ پاکستان کے حکمرانوں کو غیرت نصیب فرمائے پاکستان کو حقیقی خودمختاری اور آزادی سے نوازے۔


