انڈین گجنی فلم اور ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال


گجنی 2008 کی ایک بھارتی ایکشن نفسیاتی تھریلر فلم تھی۔ جو بہت ہٹ فلم تھی۔ جس کے ہدایت کار ای آر مروگادوس تھے اور اس کے پروڈیوسر الو ارواند، ٹیگور مادھو اور مادھو منتینا تھے۔ یہ بالی وڈ کی پہلی فلم تھی جس نے 100 کروڑ کا ہندسہ عبور کیا تھا۔ فلم میں عامر خان اور آسن مرکزی کردار تھے۔ عامر خان نے گجنی 2008 ء میں اس فلم میں ایک ایسے شخص کا کردار ادا کیا تھا جو حادثے کے بعد ایسی دماغی بیماری میں مبتلا ہوجاتا ہے جو کچھ گھنٹوں بعد سب کچھ بھول جاتا ہے۔

اس بیماری کو ڈاکٹر ”اینٹروگریڈ ایمنسیا“ کا نام دیتے ہیں جس میں مبتلا انسان کی یاداشت کچھ منٹوں، گھنٹوں یا دنوں بعد چلی جاتی ہے۔ گجنی فلم میں اپنے ساتھ ہونے والے واقعات کو نوٹ کرتا تھا افراد کی تصاویر کھنچ کر افراد کو یاد رکھتا تھا اور وہ اپنی دشمنوں کی تلاش کر کے ایک ایک کر کے ان سے انتقام لیتا ہے۔ گجنی اور موجودہ حکومت میں برسر اقتدار عمران خان میں بہت سی چیزیں مشترک ہے۔ گنجی کا کردار ادا کرنے والا عامر خان اور عمران خان دونوں خان ہیں۔

فلم میں گنجنی کا کردار ادا کرنے والا عامر خان حادثے کے بعد دماغی بیماری میں مبتلا ہوجاتا ہے اور اس کی یاداشت چلی جاتی ہے اس کو کچھ یاد نہیں رہتا۔ وزیر اعظم عمران خان بھی بہت سے چیزیں بھول جاتا ہے۔ اس کو ٹی وی سے پتہ چلتا ہے کہ مہنگائی ہو گئی ہے۔ ڈالر کا ریٹ بڑھ گیا ہے۔ جب وہ ٹی وی دیکھتے ہیں اور وہ نا انصافی دیکھتا ہے یا مہنگائی بارے خبریں سنتا ہے تو اس کو افسوس ہوتا ہے۔ ان کی خاتون اول ان کو یاد دلاتی ہے کہ وہ تو وزیر اعظم ہیں۔ چار سال وزیر اعظم کو ہونے کو ہیں لیکن ابھی تک حکمرانی کرنے کے بجائے اپوزیشن کی ہی سیاست کر رہے ہیں۔ ایک اور چیز جو فلم گنجنی کے کردار اور عمران خان میں مشترک ہے وہ اپنی دشمنوں کو نہیں بھولنا اور انھیں کیفرکردار تک پہنچانا۔

عمران خان ہر چیز بھول سکتے ہیں لیکن اپنے سیاسی محالف مطلب دشمنوں کو بالکل نہیں بھولتے۔ خان صاحب کی ہر تقریر بجائے اس کے کہ حکومت نے کیا کیا اس بات پر ہوتی ہے کہ اپوزیشن چور ہے اور میں ان کو نہیں چھوڑوں گا۔ لیکن خان صاحب بہت سے چیزوں کو بھول بھی جاتے ہیں جیسے انتحابات سے پہلے کے وعدے کہ خودکشی کر لوں گا لیکن قرضے نہیں لوں گا۔ صحافیوں کے حوالے سے اظہار رائے کی آزادی، کرپشن حتم کرنی کی بات حکومت میں آنے سے پہلے پاکستان کا کرپشن انڈیکس میں 117 واں نمبر تھا اب ترقی کرتے کرتے 140 پر پہنچ گئے ہیں۔

یہ مسائل پچھلے تمام حکومتوں کے ساتھ رہے ہیں لیکن میرے خیال میں بھول جانے کی عادت کی وجہ سے سب سے زیادہ جو نقصان خان صاحب کو ہوا ہے وہ حکومت میں آنے کے بعد اپنے نظریاتی کارکنوں اور ساتھیوں سے دوری اور دوسرے جماعتوں سے آنے والے موسمی پرندوں کو حکومت میں خاص جگہ دینا ہے اور یہی وجہ ہے اب جب مشکل وقت آیا تو وہ موسمی پرندے اڑنے کو پر تول رہے ہیں۔ یہ موسمی پرندے تو موسم دیکھ کر جگہ تبدیل کرتے رہتے ہیں۔ اب اس میں شکوہ تو نہیں بنتا۔

دوسری سیاسی غلطی آپ کی یہ تھی جو اپ نے تقریر میں نیوٹرل کا مطلب جانور بتا دیا۔ اس میں ٹائمنگ بہت اہمیت کی حامل ہے جب آئی ایس پی آر کی طرف سے بیان آیا کہ ہمارا سیاست سے کوئی تعلق نہیں اس کے بعد ایسا بیان دینا سیاسی طور پر غلط تھا اپ تو خود ماضی میں کہتے تھے کہ نیوٹرل ایمپائر ہونا چاہیے۔ کچھ دوست سمجھتے ہیں اپ نے یہ بیان جان بوجھ کر دیا تاکہ ان کو پیغام جائے۔ کہ اگر حکومت گئی تو اپ ان کے لیے بہت سے مسائل پیدا کر سکتے ہیں۔

اور آپ کا یہ بیان ان کو ایک وارننگ تھی۔ جس کے بعد اگلے ہی دن وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ تحریک عدم اعتماد میں مجھے ترین اور علیم خان گروپ کہیں دکھائی نہیں دیتا، ترین گروپ کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ جبکہ شیخ رشید کہتا ہے کہ ق لیگ بلیک میلر ہے۔ لگتا ہے ادارے نے خان صاحب کی بات ”جانور“ کے رد عمل میں اپنے بندوں سے یہ بیان دلوایا ہے۔ خان صاحب آپ کو بھولنے کی عادت ہو سکتی ہے لیکن یاد رکھیں کہ اداروں کی پالیسی کے پیچھے منظم دماغ کام کرتے ہیں وہ اپنے دشمنوں کو معاف نہیں کرتے یقین نہ آئے تو پاکستان کے ماضی کی طرف نظر دوڑائیں۔

اس وقت سیاسی جماعتوں کو اپنے اپ کو منظم کرنے کی ضرورت ہے۔ ورنہ یہی کچھ ہوتا رہے گا جب وہ چاہئیں سیاستدانوں کو بنائیں برسر اقتدار لائیں نئی پارٹیاں بنائیں۔ اور پھر ان کو استعمال کر کبھی کرپشن کے نام پر کبھی نا اہلی کے نام پر چلتا کریں۔ پاکستان میں ہمیشہ الیکشن ارینج میرج کی طرح ہوتے ہیں۔ بڑوں نے پہلے ہی سب کچھ طے کیا ہوتا ہے۔ اس ارینج میرج سسٹم کے خلاف سیاستدانوں کو منظم طور پر جدوجہد کرنی پڑی گی۔ ملک کی بقا کے لئے جمہوریت کی تسلسل انتہائی ضروری ہے پارٹیوں کو شخصیات کے بجائے نظریات پر سیاست کرنی پڑی گی۔

اپنے سیاسی جماعتوں کے اندر سیاسی کلچر کو فروغ دینا ہو گا اپنے اپ کو منظم کرنا ہو گا۔ ادارے کی ہمیشہ یہی کوشش ہوتی ہے کہ ایسے بونے سیاستدان اگے آئیں جو ان کے غیر آئینی اقدامات پر سوال نہ اٹھائیں جو ان کے اختیارات کو چیلنج نہ کریں مگر یاد رہے بونے افراد سے کبھی بھی بڑا کام نہیں لیا جا سکتا۔ اگر اس حوالے سے سیاسی جماعتوں نے کوئی مشترکہ حکمت عملی نہ اپنائی تو گجنی جیسے کیرکٹر ہمارے سیاست میں آتے رہیں گے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments