عدم اعتماد کی تحریک اور جمہوری رویوں کا فقدان

مملکت خداداد میں آج کل سیاسی درجہ حرارت اور گہما گہمی اپنی انتہا پر ہے۔ متحدہ اپوزیشن (پی ڈی ایم) نے اپنے ترپ کا پتا کھیلتے ہوئے (جو انھوں نے شروع ہی دن سے سینے سے لگا رکھا تھا) بالآخر ایک پیج پر آ کر منتخب وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کرا دی ہے، جس پر بحث و مباحثے کے لیے سپیکر کو چودہ دن کے اندر اندر اس معاملے کو نمٹانے کے لیے اسمبلی اجلاس بلانا ہے۔ فریقین کے درمیان نہ صرف اعصاب شکن کھیل شروع ہو چکا ہے، بلکہ دونوں نمبر گیمز کے حوالے سے کافی پر اعتماد نظر آتے ہیں۔
اس حوالے سے کپتان بھی آخری گیند تک مقابلے کے لیے آئے روز قومی اور صوبائی اسمبلی کے اراکین سے ملاقاتوں میں مصروف العمل ہیں اور سیاسی پہلوانوں کو سیاسی اکھاڑے میں اترنے کے لئے سپیکر کی جانب سے صرف اجلاس کے بلانے کی دیر ہے۔ فریقین حسب معمول اپنے کارکنوں کو جوش دلانے کے لیے اپنے سیاسی حریفوں پر ذاتی حملے، گالم گلوچ اور کیچڑ اچھالنے کے لیے ایک دوسرے کو نازیبا القابات (فضلو، ڈیزل، بیماری، بھگوڑا، یہودی ایجنٹ) سے پکارنے کے علاوہ ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کے لیے غلیظ ترین زبان استعمال کرنے میں پیش پیش ہیں۔
یعنی بہ الفاظ دیگر، اس حمام میں سب کے سب ننگے ہیں، اور بد قسمتی سے اب تو پاکستانی سیاست میں سیاسی حریفوں کی بیویاں، مائیں اور بہنیں بھی محفوظ نہیں ہیں۔ چاہے حکومتی کارندے ہوں یا اپوزیشن کے نمائندے، سب اپنی گز بھر لمبی زبانیں نکالے ہوئے ہیں، جس کے شر سے شرفا کی عزتیں محفوظ نہیں۔ سیاست، جو عام طور پر خدمت خلق کے لیے کی جاتی ہے، مگر یہاں نوابوں، سرداروں، جاگیر داروں، قبضہ مافیا، اور اجرتی قاتلوں کا محبوب مشغلہ بن چکی ہے۔
سیاست اب مخلص سیاسی کارکنوں، شرفا اور جمہوری سوچ رکھنے والوں کے لیے شجر ممنوعہ کی حیثیت اختیار کرچکی ہے۔ سیاسی جماعتوں کے سربراہان بظاہر جمہوریت کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہیں لیکن درحقیقت سب اپنی اپنی جگہ پر فاشزم، موروثیت اور بدترین آمریت کی زندہ مثالیں ہیں۔ ایسے ماحول میں وطن عزیز خاک ترقی کرے گا، گالم گلوچ کی روایت کیوں نہ پروان چڑھے گی؟ سیاسی رواداری کیوں نہ عنقا ہوگی اور سیاسی اختلاف وجودی اختلاف میں کیوں نہ تبدیل ہو گا؟
مگر جمہوریت کے نام نہاد علم برداروں کا اس سے کیا تعلق، کیا واسطہ؟
لیکن یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ غریب عوام دو وقت کی روٹی، سستا انصاف، معیاری تعلیم، مناسب روزگار، علاج معالجہ اور دیگر بنیادی ضروریات زندگی کو پورا کرنے کے لیے ترستے ہیں، بندہ مزدور ہو یا متوسط طبقے کا کوئی فرد ہو سب کی زندگیاں اجیرن بن چکی ہیں، سب سے بڑھ کر کرونا اور روز بہ روز بڑھتی مہنگائی نے رہی سہی کسر بھی پوری کردی جس کے نتیجے میں کروڑوں لوگ خط غربت سے نیچے چلے گئے۔ سیاسی پارہ ہائی ہے۔ ملک شروع دن ہی سے سیاسی بے چینی کا شکار ہے۔ معاشی استحکام کی کسی کو کوئی فکر نہیں، سب باریاں لینے میں مصروف ہیں۔ سیاست دانوں نے ریاست، معیشت اور امور مملکت کو بازیچہ اطفال بنا رکھا ہے۔ سب کے سب سڑکوں پر نکلے ہیں۔ پارلیمنٹ جو ملک کا سب سے معزز ایوان اور بالا دست ادارہ ہے، بدقسمتی سے مفلوج ہو چکا ہے۔
اب حکومت اور متحدہ اپوزیشن کے درمیان طبل جنگ بج چکا ہے، عدم اعتماد کی تحریک جمع ہو چکی ہے، اور فریقین کے لیے واپسی کا کوئی راستہ نہیں بچا ہے۔ اب یہ معما چند دنوں کی دوری پر ہے اور بہت جلد دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔ دریں اثنا فریقین کو صبر اور تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے، کیوں کہ عدم اعتماد کی تحریک لانا اپوزیشن کا آئینی استحقاق ہے اور اس کا سیاسی اور جمہوری مقابلہ کرنا حکومت کا آئینی حق ہے۔
حکومت اور اپوزیشن دونوں کو چاہیے کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ باہم دست و گریباں ہونے اور سیاسی گھوڑوں کی منڈیاں لگانے کے بجائے جمہوری رویوں کی پاسداری کرتے ہوئے سیاسی اور آئینی طریقے پر ایک دوسرے کا مقابلہ کرے۔ گویا سیاست شطرنج کا کھیل ہے جسے صرف بہتر حکمت عملی اور تحمل سے ہی جیتا جاسکتا ہے۔ لیکن بد قسمتی سے پاکستانی سیاست میں ایک دوسرے کو بندوق کی نوک پر رکھنے یا لاٹھیوں پر تیل لگانے کی خبر سن کر مجھ سمیت کئی لوگوں کی کانپیں ٹانگ جاتی ہیں۔
یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ وفاقی حکومت کو بہ یک وقت دو محاذوں پر، یعنی وفاق اور پنجاب میں مشکلات درپیش ہیں۔ پنجاب میں پی ٹی آئی کے اندر کئی گروپس بن چکے ہیں، جس میں ترین گروپ نے مائنس بزدار کی صورت میں اپنا مطالبہ وفاقی حکومت کے سامنے پیش کر دیا ہے۔ اور مسلم لیگ ق بھی سب سے کم سیٹوں پر وزارت اعلیٰ کے حصول کے لیے حکومت اور اپوزیشن کے ساتھ بلیم گیم کھیل رہی ہے۔ دراصل مسلم لیگ ق پرویز الٰہی کو وزارت اعلیٰ دینے کی صورت میں کسی بھی وقت کسی بھی پلڑے میں اپنا وزن ڈال سکتی ہے۔
تقریباً ساڑھے تین سال بعد اتحادی جماعتوں کو بھی سیاسی وفاداریاں کیش کرنے کا نادر موقع مل گیا ہے، وہ چاہے ایم کیو ایم ہو، بی اے پی ہو یا جی ڈی اے۔ لیکن اس وقت سب کی نظریں چوہدری برادران پر ہیں۔ اسی لیے بڑے چودھری صاحب کے گھر ان کی عیادت کے لیے حکومتی اور اپوزیشن رہنماؤں کا تانتا بندھ گیا ہے۔ ایسا دکھائی دیتا ہے جیسا پاکستان میں صرف چودھری شجاعت حسین ہی بیمار ہو اور چودھریوں کی شان میں روز دونوں طرف سے ان کی سیاسی دوراندیشی اور بصیرت کے حوالے سے قصائد سننے کو ملتے ہیں۔
بعض اوقات مجھے یہ گمان ہوتا ہے کہ نرگس کے ہزاروں سال مسلسل رونے سے چمن میں صرف چودھری شجاعت حسین کی آمد ہوئی ہے۔ اور یہاں پر میں عدم اعتماد کے بعد والی حکومت سے (چاہے وہ عمران خان کی ہو یا اپوزیشن کی) ایک التماس ضرور کروں گا کہ چودھری شجاعت حسین کو نہ صرف پاکستان کا قومی مریض قرار دیا جائے بلکہ تمغہ برائے حسن بیماری سے بھی نوازا جائے۔ لہذا یہ تو چند دن میں فیصلہ ہو جائے گا کہ تحریک عدم اعتماد کا اونٹ بالآخر کس کروٹ بیٹھے گا، اسٹیبلشمنٹ کا اس نازک موقعے پر کردار کیسا ہو گا اور وہ اپنا وزن کس پلڑے میں ڈالے گا؟
فی الحال سیاسی فضا ابر آلود ہے۔ کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔ پاک فوج کے ترجمان کی جانب سے غیر جانب داری کے دعوے تو کیے جا رہے ہیں، لیکن ان دعووں پر مکمل عمل درآمد ناممکن ہے۔ فریقین غیر جانب داری کی خوش فہمی میں ہر گز مبتلا نہ ہوں، کیوں کہ سیانے کہتے ہیں کہ غلط فہمی سے خوش فہمی زیادہ مہلک اور خطرناک ثابت ہوتی ہے۔ ویسے بھی غیر جانب دار صرف جانور ہی رہ سکتا ہے۔
راقم الحروف کو اس تحریک کی کامیابی اور ناکامی سے کوئی سروکار نہیں۔ حکومت چاہے کسی کی بھی ہو، صرف جمہوری رویے پامال نہ ہو، غریب کو دو وقت کی روٹی اور روزگار میسر ہو، قانون سب کے لیے یکساں ہو، سیاست میں تہذیب اور شائستگی برقرار ہو، اختلافات وجودی نہیں نظریاتی ہو اور ہمارے معزز سیاست دان پرائیویٹ جتھوں کے بجائے پولیس اور امن و امان قائم کرنے والی انتظامیہ پر بھروسا کریں کیونکہ ملک مزید انتشار، انارکی اور انتہا پسندی کا متحمل نہیں ہو سکتا، اور اس طرح کے بے ہودہ حرکات سے ملک کا عالمی سطح پر بہت برا تاثر جائے گا۔ ویسے ہم پہلے بھی شاہراہوں پر لوگوں کے مقدر کے فیصلے سنانے میں بین الاقوامی سطح پر بہت بدنام ہوچکے ہیں۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ اس میں کوئی کلام نہیں کہ پاکستانی سیاست کا انحصار فصلی بٹیروں اور لوٹوں پر ہے جو مفاد عامہ کے بجائے ہواؤں کے رخ کو دیکھتے ہوئے گرگٹ کی طرح نہ صرف رنگ بدلتے رہتے ہیں بلکہ واپس اپنے آشیانوں کی طرف اڑان بھی بھرتے ہیں۔ لہٰذا غیر فطری اتحاد یا فصلی بٹیروں کی بہ دولت بننے والی حکومت ماضی میں کامیاب ہوئی ہے نہ مستقبل میں کامیابی کے آثار دکھائی دیتے ہیں۔ شومئی قسمت سے وطن عزیز کا معرض وجود میں آنے سے آج تک کسی جمہوری وزیراعظم نے اپنی آئینی مدت پوری نہیں کی ہے۔ اسی لیے سیاسی جماعتوں پر لازم ہے کہ وہ جمہوری تسلسل اور ملکی بقا کی خاطر ایک دوسرے کے پاؤں پر کلہاڑی مارنے کی روش کو ترک کر دیں اور کسی بھی صورت جمہوریت کی گاڑی کو پٹری سے اترنے نہ دیا جائے۔

