تحریک عدم اعتماد اور اتحادی


اس وقت وطن عزیز میں سیاسی ماحول انتہائی درجہ حرارت پر ہے۔ سیاسی سرگرمیاں اپنے عروج پر ہیں۔ بلدیاتی انتخابات کی گہماگہمی اپنی جگہ مگر عدم اعتماد کی تحریک نے درجہ حرارت کئی گنا بڑھادیا ہے۔ پیپلز پارٹی کا لانگ مارچ، آصف علی زرداری کے سیاسی گر، مولانا فضل الرحمٰن کی تجربہ کاری، نون لیگ کی پالیسیوں کے خلاف عمران خان ڈٹ کر کھڑے رہنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ باوجود اس کے کہ ان کی پارٹی کی صفیں انتشار کا شکار ہیں۔ جہانگیر ترین گروپ، علیم خان گروپ، چھینہ ہم خیال گروپ ہی کافی نہیں تھے جو اتحادیوں نے بھی دانت دکھانے شروع کر دیے ہیں۔ مخلوط حکومت میں اتحادی ایسے ہی مواقع کا انتظار کرتے ہیں جب وہ اپنے مطالبات حکومت سے منوا سکیں۔

تمام اتحادیوں میں جو سب سے فائدہ میں گجرات کے چوہدری رہیں گے۔ اپوزیشن انہیں پنجاب کی وزارت اعلیٰ دینے پر رضامند ہے جبکہ حکومت بھی اس معاملے میں مکمل طور پر سنجیدہ ہے۔ ایم کیو ایم کا مستقبل تو تقریباً تاریک راہوں پر گامزن ہوہی گیا ہے، اب کوئی معجزہ ہی اسے ان اندھیروں سے روشنیوں کی طرف لا سکے۔ قومی اسمبلی میں 7 سیٹیں ہیں، اور حکومت کی اتحادی بھی ہیں مگر انہیں اس طرح ٹریٹ نہیں کیا جا رہا جیسے ق لیگ کی آؤ بھگت ہو رہی ہے۔ اپوزیشن اور حکومت تعداد پوری کرنے کے لیے ایم کیو ایم سے بات چیت تو کر رہی ہیں مگر اہمیت اور وقعت کو دیکھا جائے تو وہ مشہور مقولہ صادق آتا ہے کہ :

”وقت پر گدھے کو بھی باپ بنایا جاسکتا ہے“

وزیراعظم پاکستان عمران خان بھی اسی در پر آ گئے جس کے خلاف وہ کیسز بنانا چاہتے تھے۔ پیپلز پارٹی نے بھی بادل نخواستہ شہری علاقوں پر ایم کیو ایک کی بالادستی قبول کرلی ہے۔ نون لیگ اور مولانا صاحب بھی ایم کیو ایم کو کچھ فائدہ دینے کے موڈ میں نظر آتے ہیں۔ لیکن یہ سب صرف اور صرف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی اور ناکامی تک محدود رہے گا۔ حکومت کی نوازشیں، اپوزیشن کے سبز باغ دھڑم تختہ ہوجائیں گے۔

اس منظرنامہ میں وزیراعظم کامیاب ہوں یا نہ ہوں، گجرات کے چوہدری ضرور کامیاب ہوجائیں گے۔ اپوزیشن چوہدری پرویز الٰہی کو وزیراعلیٰ پنجاب بنانے کی پیشکش کرچکی ہے، جبکہ وزیراعظم نے بھی وسیم اکرم پلس کو ہٹانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ جس کے بعد قرعہ یقیناً چوہدری پرویز الٰہی کے نام ہی نکلے گا۔

ایم کیو ایم کے ہاتھ کیا آئے گا، وہ کتنا فائدہ اٹھا سکے گی، کیا مطالبات سامنے رکھے گئے ہیں، اس پر ابھی تک سکوت طاری ہے۔ قیاس تو یہی ہے کہ وہ نائن زیرو اور اپنے دفاتر کی حد تک فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کرے گی اس کے علاوہ اس کی سوچ آگے نہیں جائے گی۔ دعویٰ تو یہ بھی کیا جا رہا ہے کہ تمام اتحادی ایک ہی سوچ پر عمل پیرا ہے مگر ایم کیو ایم کی تاریخ گواہ ہے کہ وہ پرانی تنخواہ پر ہمیشہ کام کرنے کے لئے راضی ہوجاتی ہے۔ سبز باغ دکھانے اور دعوؤں اور وعدوں سے انہیں رام کرنا بہت آسان کام ہے۔ اور اس معاملے میں زرداری صاحب کا کوئی ثانی نہیں ہے۔

گجرات کے چوہدریوں کا حکومت کا ساتھ دینے کی قوی امید ہے، کیوں کہ اتحادی ہونے کے ساتھ ساتھ وفاق میں وزارت کا اضافہ جبکہ پنجاب جیسے بڑے صوبے کی وزارت اعلیٰ بھی ان کے نام کردی جائے گی۔ مگر سندھ میں حصہ داری کی لالچ میں ایم کیو ایم اندھی بن سکتی ہے۔ جس پر ہمیشہ تکیہ کر کے دھوکہ کھایا ہے ان کی جھولی میں گرنے کی امید واثق ہے۔

ایم کیو ایم تحریک عدم اعتماد کی حمایت کرے یا مخالفت، دونوں صورتوں میں اس کے ہاتھ کچھ خاص نہیں آئے گا۔ عدم اعتماد کی کامیابی کے آثار معدوم ہیں۔ ایم کیو ایم کے تھنک ٹینک اس بارے میں غوروخوض کر رہے ہوں گے، اور کسی حتمی فیصلہ سے پہلے مشاورت جاری ہے اور آج (پیر) کو کسی فیصلے کی امید ہے۔

متحدہ حکومت کا ساتھ دے تو وفاق میں وزارتیں باقی رہیں گی۔ اپوزیشن کا ساتھ دیا تو سندھ حکومت میں کسی کونے خانچے میں جگہ مل سکتی ہے۔

عدم اعتماد کی تحریک کے بعد نئے انتخابات کی تیاریاں شروع ہوجائیں گی۔ اس کے ساتھ ساتھ عید کے بعد سندھ میں بھی بلدیاتی انتخابات بھی منعقد ہونے والے ہیں۔ امپائر کی خواہش تو یہی ہے کہ یہ سال بخیر و خوبی نکل جائے، اور اگلے سال نئے انتخابات کے ساتھ نئے چہروں کو لایا جائے۔ پی ڈی ایم کا اتحاد بالفرض عام انتخابات تک قائم رہا تو یقینی طور پر بلاول بھٹو زرداری یا شہباز شریف وزیراعظم کے لئے متفقہ امیدوار ہوں گے جبکہ صدر کے لئے مولانا فضل الرحمٰن اپنے نام کا قرعہ نکالیں گے۔

Facebook Comments HS