ملتان کے امام مسجد کے خلاف روسی اور عمران خان کے خلاف عالمی سازش
ملک کا سیاسی موسم بہت گرم ہو گیا ہے، اپوزیشن تحمل سے سیاسی چالیں چل رہی ہے دوسری جانب وزیراعظم عمران خان بوکھلائے ہوئے نظر آرہے ہیں، سیاستدانوں کی دیرینہ خواہش تھی کہ ”وہ“ نیوٹرل ہوجائیں، سیاستدانوں کا کہنا ہے کہ ہم سیاستدان ہیں، سیاست کرنا ہمارا کام ہے لہذا ہمیں سیاست کرنے دیں، گزشتہ چند ماہ کی صورتحال دیکھ کر سیاستدانوں کو شاید یقین ہو گیا ہے کہ ”وہ“ نیوٹرل ہو گئے ہیں مگر مجھے اب تک یقین نہیں ہے کہ ”وہ“ اپنی روش بدلیں گے
نیوٹرل ہوتے دیکھ کر یا نیوٹرل ہونے کے ڈر سے وزیراعظم نے عوام میں کہہ دیا نیوٹرل تو جانور ہوتا ہے، اب علم نہیں جانور کو نیوٹرل کہا یا نیوٹرل ہونے والوں کو جانور کہا، چلیں اگر نیوٹرل کو جانور کہہ بھی دیا تو کوئی برا نہیں کیا کیونکہ ہینڈسم نیوٹرل کی ڈارلنگ ہے اور ڈارلنگ کی ہر ادا اچھی لگتی ہے، سرائیکی میں کہتے ہیں ”بھاندے دی ہر شے بھاندی ہے“
ساڑھے تین سالوں میں اپوزیشن نے پہلی بار متحد ہو کر حکومت پر کاری وار کیا ہے جس سے عمران خان کے پاؤں زمین سے اکھڑے ہوئے ہیں، ان کا بس نہیں چلتا کہ وہ آرمی چیف کے اختیارات استعمال کرتے ہوئے اپوزیشن رہنماؤں کو سو، سو سال کی قید کی سزا سنا کر سکون سے حکومت کریں، موجودہ حالات میں وزیراعظم عمران خان عوام کی ہمدردیاں سمیٹنے کے لئے مختلف حربے استعمال کر رہے ہیں، کبھی احساس پروگرام، کبھی احساس کفالت پروگرام، کبھی احساس راشن پروگرام عوام کو یاد کرایا جا رہا ہے، اب عوام ان کو احساس دلا رہے ہیں احساس عوام پروگرام کا بھی کچھ بندوبست کرتے تاکہ عوام بھی سکھ کا سانس لیتے
جب تمام حربے ناکام ہو گئے تو نیا حربہ آزمایا جا رہا ہے کہ وزیراعظم کے خلاف عالمی سازش ہو رہی ہے، حکومت کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ وزیراعظم نے روس کا دورہ کیا تو اس پر امریکہ اور یورپی یونین ناراض ہو گئے ہیں، یہ راگ اب ہر وزیر الاپ رہا ہے کہ عمران خان کے خلاف عالمی سازش ہو رہی ہے کیونکہ عمران خان نے روس کا دورہ کر کے امریکہ کی بات نہ مانی اور یورپی یونین کہنے کے باوجود روس کے یوکرین حملے کی مذمت بھی نہیں کی، اس عالمی سازش کے بارے میں ایک واقعہ بیان کر رہا ہوں کہ عالمی سازش کس طرح ہوتی ہے اور ہمارے ہاں عالمی سازش کسے کہتے ہیں
یہ 1990 ءکی بات ہے، ان دنوں ملتان میں قیام پذیر تھا، تھانہ گلگشت ایک کام کے سلسلہ میں گیا، وہاں پر ایس ایچ او شریف ظفر تھے، شریف ظفر ایس ایس پی ریٹائر ہوچکے ہیں، اب کینسر کے عارضہ میں مبتلا ہیں، دعا ہے اللہ تعالی شریف ظفر کو صحت کاملہ و عاجلہ عطا کرے۔
تھانہ گلگشت میں شریف ظفر سے ملاقات کی، اتنے میں ایک کانسٹیبل آیا اور کسی کیس کے بارے میں بات شروع کردی، بات طویل ہوئی تو شریف ظفر نے تھانیدار والے انداز میں کانسٹیبل کو کہا جاؤ ابھی میرے مہمان آئے ہیں، میں نے پوچھ لیا، یہ کوئی دلچسپ کیس لگتا ہے جس پر شریف ظفر قہقہہ لگا کر ہنسے اور کہا ہاں یہ عالمی سازش کا کیس ہے، میں حیران ہوا کہ عالمی سازش اور تھانہ گلگشت کا ایس ایچ او، حیرت ہوئی تو پوچھا پلیز بتائیں کہ کیا عالمی سازش کیس ہے
شریف ظفر بتانے لگے کہ دو روز قبل درجنوں افراد کا جلوس تھانہ آیا، نعرے بازی کی، میں نے اہلکاروں سے دریافت کیا کہ کیا معاملہ ہے، اے ایس آئی نے بتایا کہ لوگوں نے امام مسجد ایک لڑکے سے زیادتی کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا ہے، لوگوں نے مار مار کر امام مسجد کا برا حال کر دیا ہے، داڑھی نوچ ڈالی ہے اور چہرہ لہولہان ہے، ہم نے امام مسجد کو اپنی تحویل میں لے کر کمرے میں بٹھا دیا ہے، شریف ظفر نے کہا کہ دو ، تین نمائندہ لوگوں کو میرے پاس بھیجو
نمائندہ افراد نے بتایا کہ مولوی چھ ماہ قبل مسجد کا امام بن کر آیا ہے، اس کی شکایات مل رہی تھیں، آج اسے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا ہے، شریف ظفر نے لوگوں کو ٹھنڈا کیا اور کہا کہ ٹھیک ہے، امام مسجد کو پولیس نے تحویل میں لے لیا ہے تم لوگ جاؤ شام چھ بجے آجانا پھر تفتیش کروں گا، ان کے جانے کے بعد میں نے اہلکار سے کہا کہ اس امام مسجد کو لاؤ، تھوڑی دیر بعد ملزم میرے کمرے میں آیا تو مجھے دیکھ کر کچھ افسوس ہوا کیونکہ ملزم شکل سے معزز اور بارعب شخصیت کا حامل تھا، چہرہ لہولہان تھا میں نے کہا جائیں قبلہ منہ ہاتھ دھوئیں اور آرام کریں
شریف ظفر نے سٹوری سناتے ہوئے کہا کہ کام سے فارغ ہوا تو امام مسجد کا خیال آیا اسے بلایا، عزت و احترام سے کرسی پر بٹھایا، مجھے لگ رہا تھا کہ یہ کوئی اور معاملہ ہے کیونکہ مساجد پر کنٹرول کے معاملات بھی بہت ہوتے ہیں، شاید کسی گروپ نے مسجد کا کنٹرول حاصل کرنے کے لئے مولوی صاحب کو پھنسایا ہو
امام مسجد نے بات شروع کی تو شریف ظفر کہتے ہیں کہ کرسی سے اچھل پڑا، امام مسجد نے کہا کہ تھانیدار صاحب، حقیقت یہ ہے کہ روس نے میرے خلاف سازش کی ہے، میں کئی سالوں سے روس سے بچتا رہا مگر آج روس کی سازش کا شکار ہو گیا۔ شریف ظفر نے بتایا کہ میں حیران ہوا کہ کہاں روس اور کہاں گلگشت کی مسجد کا امام مسجد؟ ، شریف ظفر نے پوچھا قبلہ روس کا آپ سے کیا معاملہ ہے اور کیوں اس نے آپ کے خلاف سازش کی ہے
امام مسجد بتانے لگا کہ میں نے افغان جہاد میں بہت حصہ لیا ہے، افغانستان میں گوریلا کمانڈر تھا، روس کے کانوائے تباہ کرنے کا ماہر تھا، روس کے سیکڑوں فوجی میں نے اکیلے ہی مارے تھے، روس کی فوج کو میں نے ناکوں چنے چبوا دیے تھے، روس کی پوری فورس میرے پیچھے لگی رہی مگر میں ان کے قابو نہ آیا
امام مسجد نے پانی کا گلاس پیا اور اسلحہ کے نام، ان کے استعمال کرنے کے طریقے، روسی فوجی اسلحہ، جدید گاڑیوں کی ایک گھنٹہ تفصیل بتاتا رہا، شریف ظفر کہتے ہیں پولیس میں ہونے کی وجہ سے اسلحہ کے بارے میں کچھ معلومات رکھتا تھا، امام مسجد سے اسلحہ کے استعمال کے بارے میں جو بتایا وہ درست بتایا
شریف ظفر نے کہانی میں میرا تجسس مزید بڑھا دیا، میں نے پوچھا پھر کیا ہوا، عالمی سازش کیسے ہوئی، شریف ظفر کہتے ہیں کہ میں امام مسجد کی باتیں سن بہت متاثر ہوا، امام مسجد کو چائے بسکٹ کھلائے اور ایک گھنٹہ اس کی بہادری کے قصے سنتا رہا پھر امام مسجد سے کہا کہ آپ تو عظیم کمانڈر ہیں اور آپ کی تو اسلام کے لئے بہت خدمات ہیں کہ آپ نے روس جیسی عالمی طاقت کو نانی یاد کرا دی مگر مولوی صاحب، یہ بتائیں کہ روس نے کیا سازش کی اور یہ کیا قصہ ہے
امام مسجد نے لمبی آہ بھری اور کہا بس اسی بات کا افسوس ہے، ایک گوریلا لڑائی میں میری ٹانگ شدید زخمی ہو گئی جس کے بعد میں افغان جنگ چھوڑ کر پاکستان آ گیا، کچھ عرصہ آرام کیا پھر کہا کہ مجھے کوئی ڈیوٹی دیں تو مجھے گلگشت کی مسجد کا امام لگا دیا گیا اور مسجد کے ساتھ ہی رہائش کے لئے ایک چوبارہ دیدیا
شریف ظفر کہتے ہیں کہ میرا تجسس اور بڑھ گیا اور امام مسجد سے بے تابی سے پوچھا قبلہ سازش کا بتائیں کہ اس میں سازش کیا ہے، امام مسجد بولا کہ میں نماز کی امامت کرانے کے بعد اپنے حجرے میں آ جاتا تھا، روس نے میرے خلاف سازش کی اور اس لڑکے کو میرے حجرے میں بھیجنا شروع کر دیا
شام کے وقت یہ لڑکا میرے حجرے میں آ جاتا تھا، لڑکا گورا چٹا اور خوبصورت تھا، میں اسے منع کرتا تھا کہ تم حجرے میں نہ آیا کرو مگر وہ باز نہیں آتا تھا اور باقاعدگی سے شام کو میرے حجرے میں آنے لگا، بس پھر کیا ہے، بندہ بشر ہوں، انسان غلطی کا پتلا ہے، مجھ سے رہا نہ گیا اور اس سے زیادتی کرنے لگا پھر یہ معمول بن گیا، آج لوگوں نے مجھے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا
شریف ظفر کہتے ہیں کہ یہ سن کر میرے تن بدن میں آگ لگ گئی اور پھر میں تھانے کے سب سے لمبے چوڑے کانسٹیبل کو بلایا اور اسے کہا کہ روس کی سازش کا بڑا کیس ہے، اسے لے جا اور لمبا لٹاؤ۔
حکومتی وزراء کا کہنا ہے کہ ہمارے ہردلعزیز وزیراعظم عمران خان کے خلاف عالمی سازش ہو رہی ہے، اپوزیشن کی تمام جماعتیں عالمی سازش کے تحت صادق و امین وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد لا رہی ہیں، وزراء کا کہنا ہے کہ عالمی سازش کو حکومت ناکام بنا دے گی
وزیراعظم عمران خان اور ان کی کابینہ ساڑھے تین سال سے عوام سے زیادتی کر رہے ہیں بلکہ اجتماعی زیادتی کر رہے ہیں، عمران حکومت نے ساڑھے تین سال میں عوام کی زندگی جہنم بنا دی ہے، چکی آٹا 90 روپے، گھی ساڑھے چار سو روپے فی کلو گرام، برائلر مرغی چارسو روپے سے زائد فی کلو ہے، بجلی، پٹرول، گیس غرض زندگی کی ہر ضرورت عام آدمی کی پہنچ سے باہر بلکہ بہت دور تک باہر ہو چکی ہے
ساڑھے تین سال سے عوام مہنگائی کی سونامی میں ڈوب کر مر چکے ہیں، اب ساڑھے تین سال بعد عمران حکومت اپوزیشن اور عوام کی پکڑ میں آ رہی ہے تو تحریک انصاف کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ہمارے خلاف عالمی سازش ہو رہی ہے، یہ ویسی ہی عالمی سازش ہے جیسی ملتان کے امام مسجد کے خلاف روس نے کی تھی۔


